تیسری عالمی جنگ کا میدان پاکستان ہو گا!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک معروف امریکی صحافی سی مورہرش نے ایک سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اپنے ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے قتل کرایا ہے۔ ڈیتھ سکواڈ کا سربراہ جنرل سٹینلے سی کرسٹل ہے۔ موت کے سوداگر 12ملکوں میں قتل کی مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں۔ بھٹو صاحب‘ شاہ فیصل‘ جنرل ضیاء الحق‘ رفیق الحریری‘ لبنانی آرمی چیف اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ بھی کئی لوگ اس بے رحمانہ درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ امریکی اپنے مفاد کے مخالفین اور اپنے مقاصد کے آگے رکاوٹ بننے والوں کو کسی نہ کسی طرح باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کوئی راستہ نہ بچے اور کسی لیڈر کا قتل ناگزیر ہو تو وہ اس سے دریغ نہیں کرتے۔ اپنے مفادات کے لئے وہ اپنے امریکی صدر کو بھی معاف نہیں کرتے۔ صدر کینڈی اس کی نمایاں مثال ہے۔ اس کے بعد بھی کئی کینڈی قتل ہوئے جس طرح بھٹوز کو نہ چھوڑا گیا۔ بھٹو صاحب‘ مرتضی بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو کی باری آ گئی۔ اب نجانے عالم اسلام اور پاکستان میں کس کس کی باری آئی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں صدر زرداری نے خود اپنے لئے خطرے کا ذکر کیا ہے۔ ایک محفل میں کسی منچلے نے مخدوم گیلانی کا نام بھی لے دیا۔ اس نے تو رحمان ملک کا نام بھی لیا تھا اور اس کے لئے صدر زرداری کے جانثار باڈی گارڈ خالد شہنشاہ کے اچانک قتل کی مثال دی۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ آجکل صرف پاکستانی حکمرانوں اور لیڈروں کے قتل کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ بات اس لئے ہو رہی ہے کہ ڈک چینی کے ڈیتھ سکواڈ کے سربراہ جنرل سٹینلے کرسٹل کو افغانستان بھیجا جا رہا ہے اور یہاں پہلے سے موجود جنرل سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ اس نے اس طرح کی قتل و غارت کو امریکہ کے لئے خطرناک قرار دیا اور امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کی۔ اس طرح امریکہ کو فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔ جنرل سٹینلے عراق میں بھی خدمات انجام دیتا رہا ہے۔ اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں نجانے کس حکمت عملی کو پروان چڑھانے آ رہا ہے۔
بے نظیر بھٹو نے 2نومبر 2007ء کو الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے۔ اسے شیخ عمر سعید نے قتل کرایا ہے۔ اسامہ بن لادن کے مر جانے کے بعد افغانستان میں رہنے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انتشار پھیلانے کا کوئی جواز امریکہ کے پاس نہیں رہے گا۔ اسے واپس جانا پڑے گا۔ واپس تو وہ جائے گا مگر برطانیہ اور سوویت یونین (روس) کی طرح ذلیل و خوار ہو کر جائے گا۔ اسامہ بن لادن کے لئے امریکہ ہمیشہ ایک الجھائو پیدا کرتا رہا ہے۔ وہ افغانستان میں ہے۔ پاکستانی قبائلی علاقے اسامہ کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ بلوچستان کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ بی بی کے انٹرویو میں یہ جملہ نکلوا دیا گیا۔ کوئی بتائے کہ الجزیرہ ٹی وی کس کے کنٹرول میں ہے۔ شیخ عمر سعید بھارت کی قید میں تھا۔ بھارتی طیارے کے اغواء کے بعد مولانا اظہر مسعود اور شیخ عمر سعید کو رہا کروایا گیا۔ اب وہ حیدر آباد جیل میں ہے۔ اس پر ’’وال سٹریٹ‘‘ کے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کا جرم ثابت کر دیا گیا تھا۔ صدر مشرف پر قاتلانہ حملے میں بھی اسے ملوث کیا گیا تھا۔ شیخ عمر سعید اور اسامہ بن لادن دونوں امریکہ کو مطلوب ہیں۔ کیا شیخ صاحب کے پیچھے القاعدہ سے بھی کوئی بڑی تنظیم ہے۔ صدر پرویز مشرف نے بھی کہا تھا کہ اسامہ مر چکا ہے۔ پھر اس نے اپنا بیان بدل دیا۔ شاید بے نظیر بھٹو سے بیان بدلوایا نہیں جا سکتا تھا۔ بی بی ابوظہبی کے معاہدے سے ہٹ گئی تھی جس میں صدر پرویز مشرف‘ جنرل کیانی اور رحمان ملک شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کی بیٹی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر بھی کوئی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو کا قتل ضروری ہو گیا تھا۔ امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کیلئے کوئی کارروائی خطرناک اور ناممکن سمجھتا ہے مگر بھارت اور اسرائیل نے اسے اس مہم کے لئے مجبور کر لیا ہے۔ پاکستان کا ایٹم بم اسرائیل کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے اور بھارت ایٹمی پاکستان کی موجودگی میں خطے کی اجارہ داری حاصل نہیں کر سکتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایٹمی دھماکوں کی معرکہ آرائی کرنے والے نواز شریف پر امریکہ کیسے اعتماد کرے گا۔ اس نے جس ماحول میں ایٹمی دھماکے کئے تھے اس کے لئے بڑی قربانی دینا پڑی۔ نواز شریف شاید امریکہ کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ آجکل محبوب ترین لیڈر ہے۔ اللہ اس کی حفاظت کرے۔ بی بی کو صدر مشرف نے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے سے منع کیا تھا تو وہ یقیناً امریکی سازش کو جانتا ہو گا۔ وہ یہ کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے بی بی کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا تو اس خطرے کی حقیقت کیوں واضح نہیں کرتا۔
باقی رہ گیا صدر زرداری تو میرا دل کہتا ہے کہ وہ پاکستان کی قومی سلامتی اور ایٹمی اثاثوں پر کسی سازش کا شکار نہیں ہو گا۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے بی بی کے قاتلوں کا پتہ ہے اور مجھے بھی وہی قتل کریں گے جنہوں نے بی بی کو قتل کیا ہے۔ اس کے لئے عرض ہے کہ مرنے اور امر ہونے میں زیادہ فرق نہیں۔ بہت بڑی ذمہ داری جنرل کیانی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پاک فوج کا سپہ سالار یہ نہیں ہونے دے گا جو امریکہ چاہتا ہے مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب سے ارشاد حقانی جنرل کیانی سے مل کے آیا ہے تو عجیب عجیب باتیں کرنے لگا ہے۔ مغربی اور امریکی میڈیا میں اک شور بپا ہے تو یہ آواز بھی سن لے کہ اگر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو خطرہ ہوا تو پھر تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی۔ نہ اسرائیل رہے گا نہ بھارت تو پھر امریکہ کیا کرے گا۔ تیسری عالمی جنگ کا میدان پاکستان ہو گا؟!