وزیر اعظم پر اعتبار ہے۔۔۔!

 وزیر اعظم پر اعتبار ہے۔۔۔!

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی جو پہلاخطاب فرمایا اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ وزیر اعظم قوم کا باپ ہوتا ہے ۔ہم کوئی اقدام اٹھانے سے پہلے اپنے عوام کو اعتماد میں لیں گے ،عوام کے ساتھ سچ بولیں گے ،عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھیں گے۔دوسری جانب عوام بھی اپنے وزیر اعظم کی باتوں پر اعتبار کرنا چاہتے ہیں ، عوام کے پاس دوسری چائس نہیں ۔ عوام کے ساتھ ماضی میں اس قدر گھنائونے جھوٹ بولے گئے ہیں کہ عوام وہم اور بے یقینی کے مرض میں مبتلا ہیں اور اب یہ عالم ہو چکا ہے کہ ’ جھوٹا ہو انسان تو مٹ جاتا ہے جھوٹ،جھوٹ اتنے بولے کہ سب سچ لگنے لگے ۔۔۔لگتا ہے بے یقینی کی یہ کیفیت کسی روز عوام کی جان لے کر رہے گی۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف کی باتوں پر اعتبار کرنا ہماری مجبوری ہے کہ اس شخص نے حرمین شریفین میں بڑے متھے ٹیکے ہیں اور کئی بار دہرایا ہے کہ انہیں اقتدار کا لالچ نہیں وہ ملک کی بقاء چاہتے ہیں ۔وزیر اعظم پراعتماد دکھائی دیتے ہیں لیکن جب باہر سے کوئی انہیں ملنے آجاتا ہے توبد گمانیاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔مسلمان بھائی بھائی ہیں پھر کس بات سے گھبرانا۔چینی اور ترکی حاکم آتے ہیں تو عوام خوش ہوتے ہیں حتیٰ کہ ترکی ڈراموں کو دیکھنا ثواب سمجھا جانے لگا ہے لیکن عرب حکمرانوں کی آمد شبہات کو جنم دینے لگی ہے۔بھلے زمانوں میں جب عرب حاکم پاکستان تشریف لایا کرتے تھے تو پاکستان کھِل اٹھتاتھا مگر جب سے فرقہ واریت کا سیاہ دور شروع ہوا ہے، ایران اور سعودی عرب کی دوستی نے پاکستان کو تذبذب کا شکارکر دیا ہے۔سعودی عرب نے پاکستانی روپے کو تگڑا کرنے میں تعاون جو ناقدین کو انتہائی ناگوار گزرا۔ سعودی عرب نے شام کے خلاف پاک فوج کی مدد مانگ لی تو وساوس کے دروازے کھل گئے۔وزیر اعظم نے عوام سے سچ بولنے کا عہد کر رکھا ہے لہذا انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’کسی نے فوج مانگی ہے اور نہ ہم دے رہے ہیں‘‘۔مسلمان بھایئوں کی مدد کے لئے پاک فوج کی مدد فراہم کرنے میں مضائقہ نہیں مگر مسلمان بھائی کے خلاف مدد کے لئے پاک فوج مہیا کرنا خلاف اسلام ہے۔ فرقہ اور مسلک سے قطع نظر مسلمان اپنے کلمہ گو بھائی کے خلاف بلاجواز ہتھیار اٹھانے کا مجاز نہیں اور جس کام سے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیؐ نے منع فرما دیا، اسے کرنے کا میاں نواز شریف کے پاس اختیار نہیں۔ پاکستان فرقہ واریت سے پہلے ہی بہت گھائل ہو چکا ہے مزید تباہی کا متحمل نہیں۔ سعودی عرب کا ایران سے تنازع اب بغض امریکہ میں تبدیل ہو چکاہے ۔سعودی عرب کو امریکہ کی دوستی پر بڑا مان تھا اور امریکہ کی حمایت میں مسلمان ممالک کو نظر انداز کیا جا رہاتھا مگر امریکہ کا ایران کے ساتھ نرم رویے نے سعودی عرب کو پریشان کر دیا ہے۔ صدر اوباما نے ایران کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ اپنی تنہائی ختم کرنا ایران کے اختیار میں ہے۔ جوہری تنازع کے خاتمے سے ایران امریکہ کے ساتھ تعلقات کا نئے دور کا آغاز کرے ۔ایران دوستانہ ماحول میں ایرانی عوام کو معاشی مشکلات سے نجات دلا سکتا ہے ‘‘۔ 
امریکہ اور اسرائیل بھائی بھائی ہیں اورمشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی بھائیوں کو پریشان نہیں کرتی ،ادھر ایران کے بارے میںامریکی پالیسی نے  یو ٹرن لیا جس نے سعودی عرب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔نفاذ شریعت کے سب سے بڑے داعی ملک کو امریکہ کے رویے نے یہ باور کر دیا کہ یہودو نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے ،یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اب عربوں کو پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے۔سعودی عرب میاں نواز شریف کا دوست ہی نہیں محسن بھی ہے لہذا دونوں اطراف بھائی چارے کے جذبات پاکستان کے حق میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو سب سے پہلے اپنے ملک کی فلاح عزیز ہے ۔میاں صاحب نے قوم پر واضح کر دیا ہے کہ ان سے بحرین نے فوج نہیں مانگی اور نہ ہی ہم اپنی فورسز کہیں بھیج رہے ہیں۔
سعوی عرب سے ملنے والی ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد اورشاہ بحرین کا دورہ پاکستان کو منفی رنگ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان پہلے ہی تنہائی کا شکار ہے اسے مزید تنہا نہ کیا جائے البتہ لین دین کا معاملہ خواہ سگے بھائیوں کے بیچ ہو،دل اور دماغ کھلا رکھنا چاہئے ۔ نفع اور نقصان کو ناپ تول کر معاملات طے کیے جائیں۔ میاں نواز شریف ایک کاروباری شخصیت ہیں ،تجربہ کار سیاستدان ہیں،گھاٹے کا سودا ہر گز نہیں کرسکتے جبکہ سیاست کرتے ہوئے بھی انہیں برسوں بیت گئے ہیں،اس ملک کے تیسری بار منتخب ہونے والے وزیر اعظم ہیں ،اپنا اور ملک کا نفع نقصان جانتے ہیں،ان سے کسی بلنڈر کی توقع نہیں۔