ایوانِ قائداعظم - ’’گُلشنِ فردوس‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
ایوانِ قائداعظم - ’’گُلشنِ فردوس‘‘

خانۂ کعبہ روضۂ رسولؐ اور اپنے جدّی پُشتی پِیر و مُرشد، سُلطان اُلہند حضرت خواجہ مُعین اُلدّین چشتیؒ کے مزارِ اقدس کی زیارت تو خیر میرے ایمان کی تازگی کا باعث ہُوئی لیکن اپنے 54 سالہ دورِ صحافت میں مجھے کئی اپنے دَوروں میں دُنیا کی بہت سی تاریخی عمارتیں دیکھنے کا موقع مِلا۔ کئی عمارتیں عظمت کا نِشان تھیں اور کئی نِشانِ ہائے عبرت۔ دُنیا کی تاریخ ساز شخصیات آج بھی تاریخ کے صفحات اور عام اور خاص انسانوں کے دِلوں اور ذہنوں میں زندہ ہیں۔ مَیں نے ایک واقعہ پڑھا تھا کہ 1945ء یا 1946ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کی ایک تقریب میں قائداعظم مہمان خصوصی تھے۔ جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ضیأالدین صاحب نے قائداعظمؒ کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’جنابِ قائدِاعظمؒ! مَیں تاریخ پڑھاتا ہُوں لیکن آپ تاریخ بنا رہے ہیں۔‘‘
قائدِاعظمؒ کے سرگرم کارکُن اور تحریکِ پاکستان کے مجاہد ڈاکٹر مجِید نظامی نصف صدی سے زیادہ مُدّت سے تاریخ بنا رہے ہیں۔ مَیں تاریخ پڑھانے کی پوزیشن میں کبھی نہیں رہا لیکن جناب مجِید نظامی کی تاریخ سازی کے عمل کے کُچھ حصّوں کے عینی شاہد کی حیثیت سے اُن کے احوال رقم کرتا رہا ہُوں۔ سیاست، صحافت اور علاّمہ اقبالؒ قائدِاعظمؒ اور مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے افکار و نظریات کے ترجمان اور نظریۂ پاکستان کے مُفّسر کی حیثیت سے جناب مجِید نظامی کی نمایاں خدمات تو مسلّمہ ہیں لیکن اُن کی کوششوں، نگرانی اور انتظام و اِنصرام سے تعمیر ہونے والی دو عمارتیں (ایوانِ اقبالؒ اور ایوانِ قائداعظمؒ) ہماری ہر نسل کو  روشن تاریخ کی یاد دلاتی رہیں گی۔ یہ دونوں عمارتیں مختلف بادشاہوں کی خواہشوں پر تعمیر کرائی کئی عمارتوں کی طرح محض آرائشی اور زبیائشی نہیں ہیں جِیسا کہ کسی مُفکر نے کہا تھا کہ ’’دِین کی عمارت فطرت کے مسالے سے کھڑی ہوتی ہے۔‘‘ اِسی طرح جنابِ مجِید نظامی نے ایوانِ اقبالؒ اور ایوانِ قائدِاعظمؒ کو ’’نظریاتی مسالے‘‘ سے تعمیر کرانے کا اہتمام کِیا ہے۔
دِین فطِرت کے وہ علمبردار جو اپنی تقریروں میں علّامہ اقبالؒ کے شعروں کا تڑکا لگا کر سامعِین سے داد وصول کرتے ہیں اور خود کو اقبال شناس اور اقبال نواز ظاہر کرتے ہیں اور ہر لمحہ یہی رٹّ لگائے رکھتے ہیں کہ ’’پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہُوا تھا‘‘ اور جن کے بزرگوں نے علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے تھے وہ اگر نئی نسل کو بتائیں کہ ’’نظریۂ پاکستان کیا ہے؟ تو شگُوفہ ہی لگتا ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں مسلم لیگ کے نام سے اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے نظریۂ پاکستان کی ترویج و اشاعت پرکچھ زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ بیڑا جنابِ مجِید نظامی نے اُٹھایا۔ اُن کی سرپرستی اور چیئرمین شِپ میں سرگرم عمل تحریکِ پاکستان ورکر ٹرسٹ اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پرانی اور نئی نسل کی تمنائوں کو زندہ کرنیکا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
20 مارچ کو مجھے جناب مجِید نظامی اور اُن کے نظریاتی ساتھیوں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، سابق چیف جسٹس وفاقی شریعت کورٹ میاں محبوب احمد، سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی خان، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیف کوارڈینیٹر میاں فاروق الطاف اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری سیّد شاہد رشید کے ہمراہ تعمیر و تکمیل کے آخری مراحل طے کرنے والے 48 کنال پر پھیلے ہوئے ایوانِ قائدِ اعظمؒ  کی زیارت کی سعادت ہُوئی۔ یہ عمارت دیکھ کر مجھے فارسی کے نامور شاعر حافظ شیرازیؒ کا یہ شعر یاد آ گیا جو اُس نے اپنے دور کے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ  ؎
’’اے شہنشاہِ بلند اختر خُدا را ہِمّتے !
تا ببوسم ہمچو گردُوں خاکِ ایوانِ شُما! ‘‘
یعنی بلند اختر شہنشاہ! خُدا کے لئے میری طرف توجہ دیں، تاکہ مَیں بھی آسمان کی طرح تمہارے ایوان (محل) کی خاک کو بوسہ دے سکوں! مَیں نے گردن اُٹھا کر ایوانِ قائدِاعظمؒ کی بلند و بالا عمارت کو دیکھا پھر میری گردن فخر سے مزید بلند ہو گئی کہ مَیں جنابِ مجِید نظامی اور اُن کے نظریاتی ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کے عظیم اُلشان ہیرو کی یاد میں تعمیر کی جانے والی عمارت کی زیارت کر رہا ہُوں۔ مجھے تحریکِ پاکستان کے دوران شہید ہُونے والے اپنے خاندان کے 26 ارکان یاد آ گئے اور جنابِ نظامی کی سرپرستی میں سرگرم عمل ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘کے گولڈ میڈلسٹ اپنے والدِ مرحوم رانا فضل محمد چوہان بھی۔ جناب مجِید نظامی بتا رہے تھے کہ ’’ شاہی قلعہ سمیت لاہور میں بے شمار تاریخی اور یاد گار عمارتیں ہیں مگر یہ عمارت (ایوانِ قائدِاعظمؒ) اپنی نوعیت کی واحد اور مُنفرد عمارت ہو گی۔ ایوانِ قائدِاعظمؒ  نئی نسل کی نظریاتی تعلیم و تربیت کا گہوارہ ثابت ہو گا اور یہاں سے نہ صِرف قومی بلکہ  بین الاقوامی سطح پر افکارِ قائدِاعظمؒ کی ترویج و اشاعت ہو گی۔ ہم نئی نسل کو بتا رہے ہیں کہ ’’قائدِاعظمؒ نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دِیا۔ علّامہ اقبالؒ نے قائدِاعظمؒ کو لندن سے واپس بُلایا اور انہوں نے ایک نظریہ دِیا۔ پھر علّامہ اقبالؒ کے وژن کے مطابق قائدِاعظمؒ نے پاکستان بنایا۔‘‘
جناب مجِید نظامی نے بتایا کہ 90 کروڑ روپے سے تعمیر ہُونے والے ایوانِ قائدِ اعظمؒ کی تعمیر میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے مخّیر حضرات نے عطیات دیئے۔ میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت ایوانِ قائدِاعظمؒ کی تکمیل تک ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔‘‘ ایوانِ قائداعظمؒ کے دفتر میں جناب مجِید نظامی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ایوانِ قائدِاعظمؒ کے بلڈرز، ایسوسی ایٹس اور انجینئرز نے بریفنگ دی۔ مَیں گلاسگو میں اپنے دیرِینہ دوست ’’بابائے امن‘‘ ملک غلام ربانی اعوان اور برادرم سیّد شاہد رشید کے ہمراہ، ایوانِ قائدِاعظمؒ کی زیارت کے لئے آیا تھا۔ اِس سے قبل بابائے امن نے جناب مجِید نظامی سے ملاقات کے بعد اپنے خاندان اور دوستوں کی طرف سے ایوانِ قائدِاعظمؒ کے لئے 10 لاکھ روپے عطیہ دینے کا وعدہ کِیا تھا لیکن جب انہوں نے  30 جنوری کو اِس عظیم اُلشان عمارت کو دیکھا تو اُس کے لئے 20 فروری کو ایوانِ کارکنان تحریکِ پاکستان میں محترم مجِید نظامی کی صدارت میں منعقدہ سہ روزہ سالانہ نظریۂ پاکستان کانفرنس میں 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کا عطیہ دینے کا اعلان کِیا۔
20 فروری کو ہی برادرِ عزیز سیّد شاہد رشید کی فرمائش پر میرے لکھِے ہُوئے ترانے بعنوان ’’پیارا پاکستان ہمارا، پیارے پاکستان کی خیر‘‘ پر محترم مجِید نظامی نے مجھے ’’شاعرِ نظریۂ پاکستان‘‘ کا خطاب دِیا تھا جِس کے بعد مَیں خود کو روحانی طور پر بہت ہی طاقتور محسوس کر رہا ہُوں۔ ایوانِ قائدِاعظمؒ کی  عمارت پر طائرانہ نظر ڈالنے والی ایک لمبی چوڑی وین میں اہم شخصیات سوار تھِیں اور مَیں محترم مجِید نظامی کی عقبی نشِست پر ایوانِ قائدِاعظمؒ کی زیرِ تعمیر پُرشکوہ عمارت دیکھ کر مجھے اُستاد مُنِیرؔ  یاد آئے، جنہوں نے اپنے محبوب کی کوٹھی کے پائِیں باغ کو ’’گُلشنِ فردوس‘‘ سے تشبِیہ دیتے ہُوئے۔ چین کے پہلے بادشاہ فغفُورؔ  اور اس کے فغفُورؔ  کے نام سے آنے والے بادشاہوں کے  ایوان کو پست بتاتے ہُوئے کہا تھا  ؎
’’گُلشنِ فردوس اُس کوٹھی کا پائِیں باغ ہے
پست تہہ خانہ سے  ہے ایوان ہے  فغفُورؔ  کا‘‘
قائدِاعظمؒ اسلامیانِ ہند کے ہیرو تھے۔ کوئی بھی فغفُورؔ اور دِین کے نام پر سیاست کرنے والا اُن کی عظمت کو چُھو بھی نہیں سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ ’’ایوانِ قائدِاعظمؒ‘‘ کو ہر دَور میں ’’گُلشنِ فردوس‘‘ کی حیثیت حاصل رہے گی۔