رفاقتوں کے حقوق !

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

رفیق عالم رفاقتوں کے عالمی خیالات پر پورا اترتا تھا۔ یہی آفاقی ازلی ابدی رفاقت ہے۔ یہی مقامی اور اسلامی تصور ہے۔ وہ محبتوں کے سارے راستوں کا مسافر تھا۔ اور رفاقت تو ہمسفری ہے۔ مسافرت اور ہمسفری کو اس نے رلا ملا دیا تھا۔ وہ نسبت روڈ سے پیدل ایوان کارکنان پاکستان اور وہاں سے نوائے وقت جاتا تھا۔ ممتاز شاعر اور کالم نگار خالد احمد بھی جب تک نسبت روڈ رہا پیدل چلنے میں ثانی نہ رکھتا تھا۔ نجیب احمد خالد احمد کا جڑواں دوست ہے۔ نامور شاعر ، ادیب اور صحافی احمد ندیم قاسمی بھی نسبت روڈ پر رہتے تھے۔ یہ علاقہ امیروں کا نہیں بڑے لوگوں کا تھا۔ ایک دور آباد علاقے تلہ گنگ کے ایک درویش اور صاحب راز شاعر مرحوم حیدر شاہ کا ایک شعر ہے
کہا ہے عارف کامل نے مجھ سے وقت وداع
محبتوں سے ہیں بڑھ کر رفاقتوں کے حقوق
وہ حق پرست تھا۔ حقوق حق کی جمع ہے۔ اس نے زندگی کے سارے حقوق پورے کرنے کی کوشش کی۔ عمر بھر حق کا ساتھ دیا۔ سچ کے اظہار اور اختیار کو استعمال کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اظہار محبت، محبت سے افضل ہے۔ اظہار حق اور اظہار محبت ایک ہی چیز ہے۔ یہ اظہار بندے کے اختیار کو اس کے اندر بڑھاتا ہے۔ اپنے باہر اختیار کا استعمال بندے کو کمزور کرتا ہے۔ اپنے اندر اختیار کا استعمال آدمی کو بے اختیاری کی بے قراری عطا کرتا ہے۔ اختیارات کے نشے میں بدمست لوگ بے اختیاری کی سرمستی کو نہیں جانتے۔ یہ سرشاری رفیق عالم کے وجود میں وجد کرتے دیکھی گئی ہے۔ ع
مینوں لگ گئی بے اختیاری
اسے نظریہ پاکستان، پاکستان، نوائے وقت اور مجید نظامی سے عشق تھا۔ شاید مجید نظامی کو اس عشق کا پوری طرح پتہ نہ ہو۔ وہ رفیق عالم کو بہت عزیز رکھتے تھے اور اس پر اعتماد کرتے تھے۔ یہ اعزاز شاہد رشید کو بھی حاصل ہے۔ ہم بھی اس عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہیں کہیں رفیق عالم بھی ڈوب گیا ہے۔ وہ اب کسی اور دریا کے کنارے پر کھڑا ہو گا۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
وہ الف بے پ ن ق وغیرہ وغیرہ مسلم لیگیوں میں نہ تھا۔ کہتا تھا کہ میں مجید نظامی کی مسلم لیگ کا ممبر ہوں۔ شاہد رشید کے کمرے میں رفیق عالم سے بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے آخری دنوں میں ان سے میری محبت کا آغاز ہوا تھا۔ محبت بھرے چہرے والا، دل کا سوزوگداز اور راز و نیاز اس کی آنکھوں میں آخر شب کے چراغ کی مانند سانولی روشنی کی طرح بکھرتا جاتا تھا اور نکھرتا تھا۔
انوکھی چمک اس کی آنکھوں میں تھی
ہمیں کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
وہ نظریاتی آدمی تھا۔ نظریہ سچے آدمی کو صاحب نظر بنا دیتا ہے۔ کم نظر لوگوں کے ہاتھ کوئی نظریہ چڑھ جائے تو وہ انہیں بزدل بنا دیتا ہے اور وہ پوری قوم کو بدنام کرنے پر لگ جاتے ہیں۔ رفیق عالم ایسے لوگوں کا دشمن تھا اور اس نے مجید نظامی کے مخالفوں کو کبھی معاف نہ کیا تھا۔ شاہد رشید کے ساتھ دیر تک اس کی باتیں ہوتی رہتیں۔ اس نے رحیم یار خان سے ایم اے انگلش کیا۔ ایم اے انگلش لٹریچر اور پھر رحیم یار خان سے۔ مگر ساری عمر لفظ و خیال کی رفاقت میں گزار دی۔ بطور صحافی سینئر صحافی سعید آسی نے اپنے کالم میں بڑی دردمندی سے رفیق عالم کو یاد کیا۔ دل آباد یار باش آدمی کے لئے بہت پسندیدہ باتیں سعید آسی کے کالم میں ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی کچھ کام اس نے کیا۔ کئی کتابیں لکھیں۔ مادر ملت آبروئے ملت پر اسے ایوارڈ بھی ملا۔ درویش صفت مسلم لیگی کارکن لیڈر غلام حیدر وائیں کے لئے ان کی کتاب ایک کارکن قلمکار کے قلم کا شاہکار ہے۔ ایک بڑے مسلم لیگی چودھری محمد حسین چٹھہ کے لئے ان کی کتاب زیرطبع ہے۔ وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ سے رضاکارانہ طور پر وابستہ تھے۔ وہ ایک مخلص ایجوکیشنسٹ بھی تھے۔ قائداعظم کے نام سے نسبت روڈ پر اپنے گھر کے پاس قائد پبلک سکول 1982ء سے چلا رہے تھے۔ وہ مجید نظامی کو بھی اپنا قائد سمجھتے تھے۔ ان کے ایک عظیم مخلص ہمسائے ذاکر خواجہ ان کی بڑی تعریف کر رہے تھے۔ ہمسائے اور رفیق سفر کی طرف سے خراج تحسین بڑی بات ہوتی ہے۔ وہ دکھ سکھ کا ساتھی تھا۔ سب ہمسایوں سے رابطہ رکھتا تھا۔ اپنے آس پاس میں بہت مقبول اور محبوب آدمی تھا۔ چار بیٹے اور ایک بیٹی کا باپ تھا ۔ بیٹی سے بڑا پیار تھا۔ پہلے قائد پبلک سکول بیٹا عدنان رفیق چلاتا تھا۔ اب اسے رفیق عالم کی بیگم بڑی اچھی طرح چلا رہی ہیں۔ اتنے برسوں سے نسبت روڈ پر یہ سکول رفیق عالم کی خوبصورت نسبتوں کی یادگار ہے۔ وہ 1993ء سے نوائے وقت میں کالم لکھ رہے تھے اب اسے اہل اور اہل دل لوگ کتابوں اور یادوں میں ملیں گے۔ میں اپنے بارے میں تعریف سے گھبراتا ہوں۔ خطوط میں بھی اپنا ذکر کاٹ کر چھاپتا ہوں۔ آج نجانے کیوں 23جون 2010ء کی لکھی ہوئی اپنے بارے میں رفیق عالم کی تحریر سے کچھ باتیں لکھ رہا ہوں۔ رفیق تخلیقی جذبوں کا آدمی تھا۔ یہ سب کچھ خود اس پر صادق آتا ہے۔ اس نے خود یہ خط شاہد رشید کے سامنے مجھے دیا تھا۔ وہ میرے پاس آج بھی محفوظ ہے۔ یہ میرا اعزاز ہے۔ یہ اس لئے ریکارڈ پر لا رہا ہوں کہ یہ خود ان کے بارے میں ہے:۔
”اجمل نیازی لکھتا ہے جیسے روبرو گفتگو کرتا ہے اس کی قلمکاری دل کی آواز اور ذہن کی گلکاری ہے جو پھوار کی طرح کاغذ پر برستی ہے۔ وہ احساسات کی خوشبو بکھیرتا ہے اور خود فضا سے پھولوں تک بارش سے جھولوں تک چھوٹے بچے کی معصومیت کے ساتھ بزرگوں کی دعاﺅں کا راستہ روزانہ طے کرتا ہے۔ ہر روز وہ بولتی تحریر کے ذریعے بکھر جاتا ہے اور احساس کے ذریعے روح میں اتر جاتا ہے۔ وہ کسی بھی صلے اور ستائش سے بے نیاز ہے۔ دل مضطرب کے ساتھ غیرت اور اپنائیت کی موسیقی دل و دماغ تک پہنچانے کا سودا اپنے اندر لئے پھرتا ہے۔“
بے نیازی اور نیازمندی اس کی خودداریوں کی کائنات میں گھل مل گئی تھی۔
زمیں جذبوں سے خالی ہو رہی ہے
ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں