ایک کالم، شہر اقبالؒ سے !

کالم نگار  |  خالد احمد

گذشتہ شب ہم لاہور میں نہیں تھے کیونکہ ہم ایوان صنعت و تجارت سیال کوٹ کے صدر جناب غلام مصطفٰے چودھری کی میزبانی کا پہلو گرمانے کیلئے شام ڈھلے ان کے شہر جا پہنچے تھے۔ مشاعرے کے میزبان جناب آصف بھلی اپنی شاعری چھپانے اور یاروں کو شاعری سنانے کے کام سے لگے تھے! ہمیں حضرت علامہ اقبالؒ ، جناب فیض احمد فیض پر نظمیں پڑھنا تھیں کہ سیال کوٹ، شہر اقبالؒ ہے اور اب فیض احمد فیض بھی ضلع سیال کوٹ سے تعلق رکھنے کے سبب اسی شہر کے لئے وجہ افتخار ہیں، جبکہ جناب نثار ناسک بھی خاموش خاموش تھے مگر جناب آصف بھلی ہمارے دل کی بات زباں پر لائے اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا کہ وہ بھی ضلع سیالکوٹ کی مٹی سے اُٹھے اور گردباد کی طرح شہرت کے آفاق گھوم گئے! اقبالؒ سے فیضؒ اور فیض سے نثار ناسک تک آتے آتے اقبالؒ کا چھیڑا ہوا نغمہ، آزادی و آزادی فکر کس کس طرح گونجا؟ یہ ایک طویل داستان ہے مگر فکر اقبالؒ پوری دنیا کے کونے کونے تک پھیلی اور نورزا رہی، دنیا بھر کی شاعری اقبالؒ کے وسعت فکر اور نکہت عشق کا سرمدی گیت بن گئی! اقبالؒ کے بعد فیض احمد فیض دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بنے اور پاکستان کے جلیل القدر سپوت قرار پائے!
ہم ان دونوں شخصیتوں کے مرتبوں کے اعتراف پر مبنی نظمیں دامن میں لئے بیٹھے رہ گئے کہ شعری نشست کا آغاز ہی اس کا رخ متعین کرنے لگا! حالات حاضرہ آہستہ آہستہ ”حاضرات“ کی طرح سب کچھ ادھر ادھر کرتے چلے گئے! جناب شہزاد نیئر نے فرمایا:
اب مجھ سے ان آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے ترے خواب سنبھالے نہیں جاتے
سچ تو یہ ہے کہ ”منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں! محترمہ رابعہ رحمان نے جب یہ کہا کہ
کبھی نہ ٹوٹنے والا حصار بن جاﺅں
تو میری ذات میں رہنے کا فیصلہ تو دے
جناب ناصر بشیر نے یوں آواز بلند فرمائی!
یہاں جو بے سروسامان کچھ زیادہ ہے
اسی کے لٹنے کا امکان کچھ زیادہ ہے
اور ایک تاریخی حقیقت یوں بیان کی:
کسی کنیز پہ قصہ تمام ہوتا ہے!
اگرچہ قصے میں کچھ رانیاں بھی ہوتی ہیں
جناب طارق کریم کھوکھر نے زندگی کے پیچ وخم کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا:
زندگی ایسے ہے بیماروں کے بیچ
جیسے میت ہو، عزا داروں کے بیچ
پھینک کر تیشہ میں واپس آ گیا
سو رہی تھی جھیل کہساروں کے بیچ
سید ندیم الحسن گیلانی کی غزل میں جانے کیا تھا کہ اس کے بعد سید سلمان گیلانی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور زاہد فخری نے معاشرے کو حاضرات کی طرح آ لیا کہ یار لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے اور ہم سوچتے رہ گئے کہ ہم کیوں ہنس رہے ہیں؟ یہ باتیں تو گہرے تفکر ا اور ایک بہتر انداز عمل کی ترتیب کی متقاضی ہیں!
اقبالؒ کے بعد شاعری محض حظ اندوزی کا ذریعہ نہیں رہ گئی! اب شاعری حالات و واقعات کے گہرے فکری تجزیے سے جنم لیتی ہے اور سامع پر موثر طرز عمل اپنانے کا شعور پیدا کرتی نظر آتی ہے!
مسجد سے ہو رہی ہے عطا فجر کی اذاں
اب تو مرے نگر میں سحر ہونا چاہئے
جناب عطاءالحق قاسمی کی غزل کے بعد گہرے تفکر اور تدبر کی شاعری کا راستہ کھلا اور رات کے دو بج گئے، خالد شریف، سید عارف، اعجاز کنور راجہ، نثار ناسک، خورشید رضوی اور شہزاد احمد کے اشعار واہ واہ کے اندر آہ آہ لیتے تھے!
حظ اندوزی کی سطحوں پر بات کی جائے تو ”حقیقی مسرت“ زیر بحث لانا ضروری ہو جاتی ہے! انسانی مسرت کی بات کریں تو کچھ کر گزرنے کا لپکا! دل کی گہرائی میں کچھ پالینے کا چسکا اور کچھ نہ کچھ ”منزل مراد“ بن جانے کی امید ہی حقیقی مسرت کے تین اجزائے اعظم ہیں ہم کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں ہم دل کی گہرائی سے کچھ پا لینا چاہتے ہیں اور اس عمل کے بارآور ہو جانے کی ناقابل شکست امید بھی ہم میں زندہ ہے! ہم ایک عظیم تر انسانی مسرت کی کھوج میں ہیں، جہاں سب کچھ ایک نظم ایک ضبط کا پابند ہوگا! آئین اور قانون کا پاسدار ہو گا! امن و امان کا راج ہوگا! ہر سر پر اس مامن کے تحفظ کا تاج ہوگا!
ہم ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کے مشاعرے سے لوٹے تو جناب اعجاز کنور راجہ نے ”بیت المشاعرہ“ کا باب کھول دیا اور ہم ان سمتوں میں نکل گئے۔ جہاں 1947ئ،1955 اور 1971ءکے واقعات سلسلہ در سلسلہ قطار اندر قطار امڈتے چلے آئے، سیالکوٹ، سے وزیر آباد تک اور وزیر آباد کے نواح میں ”جنگی مہاجرین“ کی عارضی آبادی اور گھروں میں ان کی دل بستگی اور سر کیلئے چھت کی فراہمی کے واقعات، شہری رضاکاروں کی خدمات اور شہادتیں اور 1971ءکی جنگ میں بچوں جیسے نوجوانوں کی خدمات کا نقشہ ترتیب پاتا گیا اور ہمیں لگا کہ ہم کل بھی زندہ تھے، آج بھی زندہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں ہم اسی جذبے کی زندگی کے آثار ہیں! اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں کسی نئی آزمائش میں نہ ڈالے، ورنہ دشمن جب کبھی ہمیں آزمائیں گے ہم ہر آزمائش پر پورے اتریں گے کہ ہمارا حافظ و ناصر صرف وہی ذات پاک ہے، جس کے حبیب نبی اکرم کا عشق ہماری ذات کا جزو اعظم ہے!
جس طرح پھول میں خوشبو ہے، ستاروں میں ضیا
اس طرح میرے لہو میں ہے محبت ان کی
.... نورین طلعت عروبہ
یہ محبت ہماری ”جینیٹکس“ میں شامل ہے! یہ نسلی محبت نسلوں کی پہچان ہے! ہماری پہچان ہے! اور ہم سے یہ پہچان کوئی بھی اور کبھی بھی نہیں چھین پائے گا! انشاءاللہ !