”ایک خاندان۔ ایک سیاستدان!“

کالم نگار  |  اثر چوہان
”ایک خاندان۔ ایک سیاستدان!“

گورنرپنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ ”پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہو جائے تو دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چودھری صاحب نے کہا کہ انصاف کا نظام لائے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ حکومت کو ظلم اور بربریت روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے۔ یہاں غریب اور امیر کیلئے الگ الگ قانون ہیں۔ تمام سیاستدانوں کو متحد ہوکر قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگی۔“ 

چودھری محمد سرور ”بھولے بادشاہ“ ہیں۔ بھلا اپنی اپنی ڈفلی بجانے اور اپنا اپنا راگ گانے والے سیاستدان کیسے متحد ہو سکتے ہیں۔ جس ملک میں مذہب کے نام پر 72 اور سیاست اور جمہوریت کے نام پر 172 جماعتیں ہوں تو وہ سیاستدانوں‘ مذہبی رہنماﺅں کے متحد ہونے کے بارے میں باتوں پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ
”ایسے ہیں‘ جیسے خواب کی باتیں“
”بالادست“ عالی مرتبہ‘ زبردست‘ غالب‘ افضل اور حاکم کو کہا جاتا ہے جو اپنی ”بالادستی“ کی وجہ سے کم مرتبہ‘ کمزور‘ مغلوب‘ عامی اور محکوم طبقے پر انفرادی اور اجتماعی طورپر حکومت کرتا ہے۔ بالادست طبقے کے لوگ جب پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن منتخب ہوکر وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزارتوں پر فائر ہو جاتے ہیں‘ وہ بھلا زیردست طبقوں کے مفاد میں قانون کیوں بنائیں گے؟ ظلم اور بربریت کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنے والے لوگ مظلوموں اور پسے ہوئے طبقوں کیلئے انصاف کا نظام کیوں لائیں گے؟ انہیں زیردست طبقوں کی ترقی سے کیا لینا دینا؟ وہ تو اپنے طبقے کی ترقی کیلئے قانون بناتے ہیں۔ اسی لئے تو ہمارے پیارے پاکستان میں امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہیں۔
چودھری محمد سرور نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ”ایک خاندان میں ایک ہی سیاستدان ہونا چاہئے اور سیاستدانوں کی طرف سے اپنے رشتہ داروں کو سیاست اور حکومت میں لانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔“ یہ کام بہت مشکل ہے‘ گدی نشینوں کی طرح ان کے صاحبزادگان بھی ”روحانیت کے تاجدار“ سمجھے جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کے بھائی‘ بھتیجے‘ بھانجے اور داماد سیاست میں آنا اور پھر اقتدار کے مزے لوٹنا اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ سیاست میں آنا ہر شخص (مرد اور عورت) کا حق ہے‘ لیکن جب کسی پارٹی کا سربراہ پارٹی ٹکٹ تقسیم کرتے وقت اندھے کو ریوڑیوں کی طرح ٹکٹ بانٹتا ہے تو کم از کم عوام کی نظروں میں رسوا ہو جاتا ہے۔
قائداعظم کی ہمشیرہ¿ محترمہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے عظیم المرتبت بھائی کے شانہ بشانہ قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کی تھی‘ لیکن گورنر جنرل پاکستان بن کر قائداعظم نے اپنی ہمشیرہ کو مسلم لیگ اور حکومت میں کوئی عہدہ نہیں دیا تھا۔ مذہبی جماعتوں کے رہنما عورتوں کا کسی بھی انتخاب میں ووٹ دینا خلاف اسلام سمجھتے تھے۔ پھر انہوں نے ”اجتہاد“ کیا۔ عورتوں کا ووٹ دینا جائز قرار دیدیا‘ لیکن عورت کی سربراہی کو حرام قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم بینظیربھٹو سے اتحاد کرکے ان کی ”سربراہی“ قبول کرلی اور قائداعظم اور قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے مولانا مودودی نے جنوری 1965ءکے صدارتی انتخاب میں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی بھرپورحمایت کی تھی۔
اس وقت صورت یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کی باپردہ خواتین حجاب پہنے ہوئے اور بلند آواز میں اپنی اپنی جماعت کا مو¿قف بیان کر رہی ہوتی ہیں۔ اس سے قبل مذہبی جلسوں میں علماءحضرات عورتوں کو گھروں میں بند رکھنے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے صوفی شاعر حضرت شیخ سعدی کا یہ شعر سنایاکرتے تھے کہ
”سعادت نماند‘ در آں خانداں
چوں بانگِ خودی آید از ما کیاں“
یعنی اس خاندان سے نیک بختی ختم جاتی ہے جس کے گھر سے مرغیاں مرغوں کی آوازیں نکالیں۔ پاکستان میں زیادہ تر سیاسی/ مذہبی پارٹیاں خاندانی پارٹیاں ہی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی‘ جناب بھٹو‘ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد آصف زرداری‘ بلاول بھٹو اور فریال تالپور کی پاکستان پیپلزپارٹی اور میاں نوازشریف‘ میاں شہبازشریف‘ حمزہ شہباز اور مریم نواز کی مسلم لیگ (ن) کے علاوہ اور بھی کئی سیاسی اور مذہبی جماعتیں خاندانی جماعتیں ہیں اور فارسی ضرب المثل کے مطابق ”ایں خانہ ہمہ آفتاب است“ ہے۔
گورنر پنجاب پاکستان کی ”جم پل“ ہیں اور 35 سال برطانیہ میں گزار کر اور مسلسل 12 سال تک برطانوی دارالعلوام کے رکن رہ کر وطن واپس پہنچے۔ ایک سال اور چار ماہ سے گورنر کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ برطانیہ کی طرح پاکستان میں بھی مضبوط‘ مستحکم اور محب وطن سیاسی پارٹیاں ہوں اور دیانتدار سیاستدان‘ برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ”قانون کی بالادستی“ ہو ۔ عمرے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے گئے تو ان کے حوالے سے خبر آئی کہ ”میں چاہتا ہوں یورپی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی سب کو انصاف ملے۔“
سعودی عرب میں بھی انصاف کا نظام ہے‘ لیکن وہاں جمہوریت نہیں شاید اس لئے چودھری محمد سرور نے سرور کائنات سے پاکستان کے عام لوگوں کیلئے انصاف کی درخواست کی ہے۔ دراصل برطانیہ سمیت تمام ملکوں میں خلفیہ راشد دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کا قائم کردہ فلاحی نظام رائج ہے۔ وہاں ہر شخص کو انصاف اور سرکاری طورپر زندگی کی تمام سہولتیں ملتی ہیں۔ دس دس اور پندرہ پندرہ سال تک اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نہیں بڑھنے دی جاتیں۔ وفاقی وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ”پاکستان کی چونکہ |"Free Economy'' ہے‘ یہاں ایسا ممکن نہیں“ حالانکہ تمام یورپی ملک میں بھی ''Free Economy'' ہے۔ ایسی صورت میں اگر ایک خاندان میں ایک سیاستدان بھی ہو تو وہ اپنے خاندان اور اپنے بالادست طبقے کی فلاح کیلئے ہی کام کرے گا‘ لیکن ”ایک خاندان اور ایک سیاستدان“ کا قانون کون منظور اور رائج کرے گا؟ کیا غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسر کرنے والے 60 فیصد مفلوک الحال لوگ؟ چودھری محمد سرور جی! اینہاں لوکاں نال کیوں مخول کردے او!“