ایک تجویز حکمران طبقات کے گھرانوں کے لئے

کالم نگار  |  سعید آسی
ایک تجویز حکمران طبقات کے گھرانوں کے لئے

بے شک بے حسی اور آپا دھاپی کے اس دور میں اڑوس پڑوس والوں کو بھی ایک دوسرے کے معاملات کی خبر نہیں ہوتی، دکھ درد کا احساس نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کی خبر گیری کی توفیق نہیں ہوتی مگر سانحہ¿ پشاور نے جس دردمندی اور فکرمندی کے ساتھ پوری قوم کو یکجہت اور یکسو کیا وہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ہم میں انسانیت مری ہے نہ جذبے فوت ہوئے ہیں چنانچہ ہر افتاد‘ ہر آفت، ہر سانحہ، ہر ظلم پر پوری قوم جذبہ¿ صادق کے ساتھ مظلوموں اور متاثرین کے ساتھ کھڑی ان کی دامے، درمے، سخنے مدد کرتی نظر آتی ہے۔ اتوار کے ”نیوز لاﺅنج“ میں بھی ایک محترم لائیو کالر نے سانحہ¿ پشاور کے حوالے سے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کو ابھارنے اور فروغ دینے کے لئے ایک تجویز پیش کی جو میرے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر گئی چنانچہ میں نے اس تجویز کی نہ صرف ستائش کی بلکہ مکمل حمایت بھی کی۔ اس تجویز پر عمل کرنا متعلقین کا کام ہے اور توقع یہی کی جانی چاہئے کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو بالائے طاق رکھ کر اس تجویز کو عملی قالب میں ڈھالا جائے گا۔ 

یہ محض دکھی انسانوں کو ڈھارس بندھانے اور انہیں اس احساس کے ساتھ باندھنے کی تجویز ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں، پوری قوم اور عام آدمی کی کُٹیا سے امراءو اشرافیہ حکمران طبقات کے محلات تک کا ہر فرد ان کے ساتھ یکجہت ہے اور ان کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہے۔ پروگرام کی ہوسٹ مہوش نثار کو محترم لائیو کالر کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کے جواب میں دلچسپی تھی جو حکومتی اقدامات کے پیدا کردہ عوامی مسائل سے متعلق تھے مگر میری توجہ لائیو کالر کی اس تجویز پر مرتکز ہو گئی کہ بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز کو پشاور میں جا کر سانحہ¿ پشاور کے متاثرین کے ساتھ چند روز بسر کرنے چاہئیں، ان کی ہمت اور ڈھارس بندھانی چاہئے اور ان کے مالی اور دوسرے مسائل حل کرنے کے لئے وہیں بیٹھ کر کاوشیں کرنی چاہئیں۔ یقیناً اس وقت پوری قوم ننگی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے پشاور کے متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں بھی برابر کی شریک ہے جس کا اظہار وہ ملک بھر میں مشعلیں روشن کرکے اور ملٹری پبلک سکول کے شہید بچوں اور اساتذہ کی قربانیوں کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے کرتے ان کے ڈھیر لگا کر‘ کر رہی ہے جبکہ ان شہداءکے لئے دعاﺅں کا سلسلہ پوری قوم کو ہم آہنگی کی لڑی میں پروتا نظر آ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پوری قوم جس بے پایاں جذبے کے ساتھ سفاک دہشت گردوں کو نفرت کی علامت بنا کر ملک کو دہشت گردی کے ناسُور سے نجات دلانے کے لئے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوئی ہے وہ اس قوم کے زندہ ہونے اور ایک دوسرے کے لئے احساس مند ہونے کا ہی ثبوت ہے۔ کیا اس ہم آہنگی کے ماحول میں کسی کو دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی حوالے سے ہمدردی کے اظہار کی جرا¿ت ہو سکتی ہے؟ نہیں جی! ہرگز نہیں ۔ اور یہی وہ اتحاد و یکجہتی کی فضا ہے جو قوم کے ایک دوسرے کے لئے دردمند ہونے کی علامت ہے، ایسے میں اگر ہمارے حکمران اشرافیہ طبقات کی خواتین اور بچے بھی پشاور میں متاثرہ خاندانوں کے پاس بیٹھ کر ان کے لئے ہمدردی کے الفاظ ادا کرتے اور سفاک دہشت گردوں کی ملامت کرتے نظر آئیں گے تو اس سے ان متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں پڑے ہوئے غم کے پہاڑ چھٹ سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اہلیہ پشاور کے ہسپتالوں میں جا کر سانحہ¿ پشاور کے زخمیوں کی عیادت کر رہی تھیں تو مجھے ٹی وی سکرینوں پر متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے یہ مناظر دیکھ کر دلی اطمینان اور سکون حاصل ہوا۔ ملٹری پبلک سکول کے معصوم بچے بھی تو پاک فوج کے جاری اپریشن کے ردعمل میں سفاکوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں اس لئے اس ماحول میں آرمی چیف کی اہلیہ کا سانحہ¿ پشاور کے متاثرین کے پاس جا کر ان سے ہمدردی کا اظہار کرنا ان کی جانب سے دہشت گردوں کو ایک مضبوط پیغام ہے کہ ہم ان کی ایسی سفاکی سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہیں اور ان کے جنونی عزائم کے توڑ کے لئے یکجہت ہو کر میدانِ عمل میں آ چکے ہیں۔ سو آرمی چیف کی اہلیہ کے اس جذبے کو ہی مثال بنا کر وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور بیٹی ہی نہیں خاندان کے دیگر افراد اور اسی طرح صدر، وفاقی وزرائ، گورنروں، وزراءاعلیٰ اور دوسری حکومتی شخصیات کی بیگمات کے بچے اور دیگر افرادِ خانہ خوف کی اوڑھی چادر اتار کر باری باری پشاور جائیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بیٹھ کر ہمدردی کا اظہار کریں تو دیکھئے اس کے کتنے مثبت، حوصلہ افزا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ میں تو کہتا ہوں کہ تمام سیاسی قائدین کے اہل خانہ کو بھی غم کی اس گھڑی میں متاثرین کے پاس خود جا کر ان کے دکھ بانٹنے چاہئیں۔
یہی وہ زندہ قوم ہے جو 65ءاور 71ءکی جنگوں میں دشمن کے گولہ باری کرتے جہازوں کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے پاک فوج کے جوانوں کے لئے ڈھال بن گئی تھی اور خواتین اور بچے بھی عطیات جمع کرائے جوق در جوق گلیوں، بازاروں میں گھومتے نظر آتے تھے جنہیں دشمن کی گولیوں اور بمباری کا کوئی دھڑکا ہوتا تھا نہ انہیں باہر نکلتے ہوئے الرٹ کرنے والے سائرن کی آواز سے کسی خوف کا احساس ہوتا تھا۔ آج دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے بھی اسی قومی جذبے کی ضرورت ہے جو قوم کے ہر فرد کے دل میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ اس قومی جذبے کے ساتھ دہشت گردوں کو شکست دینا درحقیقت اس مکار دشمن کو شکست دینا ہے جس نے اپنی گھناﺅنی سازشوں کے تحت وطن عزیز کو کمزور کرنے کے لئے ہماری صفوں میں اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد چھوڑ رکھے ہیں۔ تو پھر قومی یکجہتی کی اس فضا کو کیوں نہ مزید مستحکم بنایا جائے، کیوں نہ دشمن کو اپنے یکجہت ہونے کا مضبوط پیغام دے کر ان کی ساری سازشوں کو ملیامیٹ کیا جائے۔ حکمران طبقات کے گھرانے اس کے لئے پیش رفت کریں گے تو قوم کا بچہ بچہ تو پہلے ہی لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں آ چکا ہے
میرے چارہ گر کو نوید ہو، کف دشمناں کو خبر کرو
کہ غرور عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بُھلا دیا