بھرم رہ گیا....

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
بھرم رہ گیا....

عدالت کا فیصلہ سیانی ساس جیسا ہے۔ فیصلہ بھی دے دیا اور بری بھی نہ کہلائی۔ دونوں بہوو ﺅں کو راضی بھی رکھا جائے ، گھر بھی بچایا جائے اور دونوں کو ان کی اوقات بھی دکھا دی جائے۔ بہووﺅں نے بھی اپنی خفگی مٹانے کے لئے خوش نظر آنے کا ڈرامہ شروع کر دیا اور ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائیاں ٹھونسنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔خان صاحب دھرنے سے باز آئیں گے کہ توہین عدالت کے مرتکب ہوتے ہےں لہٰذا انہیں بھی ساس کا فیصلہ قبول کرنا پڑا جبکہ میاں صاحب کو اخلاقی طور پرسین سے ہٹنا پڑے گا۔عدالت نے محفوظ راستہ دیا ہے کلین چٹ نہیں دی۔ وزیراعظم کو نا اہل قرار نہ دے کر وزیراعظم کا بھرم رکھ لیا اور فیصلہ بھی سنا دیا کہ محترم وزیراعظم کو دو ماہ کی مہلت دی جاتی ہے خود کو کلئیر کریں۔ نا اہل قرار دے دیا جاتا تو فوری مستعفی ہونا پڑتا اور مسلم لیگ نون کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچتا۔ کان ادھر سے پکڑیں یا ادھر سے بات ایک ہی ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف پاناما کیس سے مکمل طور پرخلاصی نہیں پا سکے۔تمام جج متفقہ طور پر کیس مسترد کر دیتے تو میاں صاحب با عزت طور پرسرخرو کہلائے جا سکتے تھے۔
پانچ رکنی بینچ میں سے تین فاضل ججوں نے 540 صفحات کے فیصلے میں تحقیقات کا حکم دیا جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت دو فاضل ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا۔
پاناما مقدمے میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے عدالت عظمیٰ کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بد دیانتی اور خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بناءپر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا کہا ہے۔عدالتی فیصلہ پر غیر جانبداری سے تبصرہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس میں مہلت دی گئی ہے کہ محاسبہ بھی کر لو اور احتساب بھی۔ مستقبل کا بندوبست بھی کر لو اور احتیاط بھی۔ مریم نواز کو کلین چٹ مل چکی اصل خوشی والد کے لئے یہ ہے۔ والد اور چچا کی خوشی کا سبب مستقبل کی امید ہے۔ مریم کے دیگر انکل حضرات جو ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہے ہیں اپنے عہدے اور پروٹوکول بچنے کا جشن منا رہے ہیں کہ چار دن اور مل گئے۔ پاناما کیس الیکشن تک گھسیٹا جائے گا لیکن وزیراعظم رعایتی مہلت ملنے کے بعد اخلاقی طور پر وزارت عظمیٰ کا وقار کھو چکے ہیں۔ مستقبل قریب یہی بتاتا ہے کہ وزیراعظم رمضان المبارک کا آخری عشرہ حسب معمول حرم شریف میں گزاریں گے اور اس کے بعد لندن روانہ ہو جائیں گے جہاں ان کے طبی معائنہ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس اثنا میں قائم مقام وزیراعظم آ جائے گا پھر الیکشن کا موسم اور پھر یہ ملک اس کے عوام اور ان کی قسمت کا کھیل ایک بار پھر شروع ہو جا ئے گا۔ والد کی زندگی میں بیٹی کا وزیراعظم بننا مشکل لگتا ہے جبکہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا خواب پورا کرنے کے لئے ابھی کئی دریا عبور کرنے پڑیں گے۔ آصف علی زرداری میاں صاحب کی کمزوریوں کو بلیک میل کرتے رہیں گے۔ جیسے پہلے کرتے رہے ہےں۔ اپنے بندے بھی چھڑوا لئے۔ فرینڈلی اپوزیشن کا سلسلہ اندر کھاتے جاری ہے۔ پاناما کیس کا فیصلہ آگیا۔ ملکی و سیاسی اعتبار سے اچھا فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ کا جشن منانا مٹھائیاں کھانا ڈھول بجانا سیاسی حکمت عملی ہے۔ ورنہ فیصلے نے وزیراعظم کو ایمانداری کی کلین چٹ نہیں دی۔ وزیراعظم کا عارضی طور پر بھرم رکھ لیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے جشن کی سمجھ تو آتی ہے کہ خفگی مٹانے کے لئے اداکاری کی جا رہی ہے البتہ تحریک انصاف کی مٹھائی معنی خیز اور مضحکہ خیز ہے۔ وزیراعظم نااہل ہوئے نہ مستعفی۔ کمشن بنے گا اور کمشن تو اس ملک میں بنتے رہتے ہیں ایک اور سہی پھر خوشی کس بات کی اور جشن کیوں ؟