مشکلات میں گھری حکومت

کالم نگار  |  جاوید صدیق
مشکلات میں گھری حکومت

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف پانامہ کیسز کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکمران جماعت اور ملک دونوں ایک نازک موڑ پر ہیں۔ ستمبر کا مہینہ ختم ہونے والا ہے۔ 2018ءکے انتخابات میں کم و بیش چھ ماہ کا عرصہ باقی ہے۔ نارمل حالات میں مسلم لیگ (ن) اگلے انتخابات جیتنے کی جو منصوبہ بندی کر رہی تھی اسے دھچکا لگا ہے۔ پچھلے چار برس میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبے جن میں بڑی شاہراہیں لاہور میں اورینج ٹرین اور بجلی کی پیداوار کے اہم منصوبے شامل ہیں تیزی سے مکمل کئے جا رہے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو احتساب عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے لیکن شریف خاندان احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہوا۔ مریم نواز نے اپنے تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ نواز شریف کو احتساب عدالتوں میں نہیں پیش ہونا چاہئے۔ کیونکہ انہیں اور ان کے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انتقام کا نشانہ کون بنا رہا ہے اس کا تذکرہ بالواسطہ طور پر کیا جاتا ہے‘ کھل کر نہیں بتایا جاتا کہ کون انہیں انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے اور کیوں بنا رہا ہے۔ اس ٹویٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف ان کے اہلخانہ اور وزیر خزانہ احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ احتساب عدالتوں کے سامنے پیش نہ ہونے کی صورت میں قانون اپنا راستہ خود تلاش کرے گا۔ مسلم لیگ ن اگلے انتخابات ان منصوبوں خاص طور پر بجلی کی پیداوار میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی بنیاد پر جیتنا چاہتی تھی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں حکمران جماعت اپنے مخصوص انداز میں حکومت چلا رہی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نہ صرف ملک کے وزیراعظم نااہل ہوئے ہیں بلکہ ان کے بیٹے اور بیٹی مریم نواز جنہیں وہ اپنا سیاسی جانشین بنانا چاہتے تھے مقدمات کی زد میں ہیں۔ ان سب کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کر دئیے گئے ہیں۔ احتساب عدالتوں سے سابق وزیراعظم اور ان کے خاندان والوں کے وارنٹ بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت وفاق اور پنجاب میں قائم ہے۔ نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں ڈے ٹوڈے معاملات چلائے جا رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کو بڑے اور اہم فیصلے ابھی کرنا ہیں۔ اندرونی سطح پر اسے اگلے عام انتخابات کے لئے اپنی حکمت عملی تیار کرنی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین اگلے ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں ان کی جگہ حکومت اور اپوزیشن نے مشاورت سے نیا چیئرمین نیب مقرر کرنا ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ وزیراعظم عباسی سے اس سلسلے میں ایک ملاقات کر چکے ہیں۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وہ دوسری اپوزیشن جماعتوں سے بھی صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ چیئرمین کی تقرری کے لئے وزیراعظم عباسی کتنے آزاد ہیں یہ بڑا سوال ہے۔ نیب کے نئے سربراہ کی تقرری کے لئے بھی عباسی صاحب کو سابق وزیراعظم نواز شریف سے مشاورت کرنا ہو گی۔ جب سابق وزیراعظم کے مقدمات نیب عدالتوں میں ہیں تو نیب کا نیا سربراہ مقرر کرتے ہوئے وہ اس بات کو مدنظر رکھیں گے کہ ان کیخلاف مقدمات کی زیادہ مستعدی کے ساتھ پیروی نہ کی جائے۔ اب تک نیب کے موجودہ چیئرمین حدیبیہ کیس میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے انکار کرتے رہے۔ اب انہیں یہ اپیل دائر کرنا پڑی جو سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔ موجودہ مسلم لیگی حکومت کو اور بھی فیصلے کرنا ہیں۔ اگلے انتخابات سے قبل الیکشن کمشن کی تشکیل اور عبوری حکومت کے قیام کے مراحل سے بھی گزرنا ہے۔
خارجی سطح پر موجودہ حکومت کو اور بھی زیادہ پیچیدہ چیلنجوں کا سامنا ہے۔ امریکہ نے جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لئے جس نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے وہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے لئے اپنے اندر مضمرات رکھتی ہے۔ علاقائی سطح پر افغانستان اوربھارت کے ساتھ تعلقات بھی اس حکومت کے لئے چیلنج ہیں۔ ملکی معیشت بھی ایک اور اہم چیلنج ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔ معیشت کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ان چیلنجوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی داخلی صورتحال بھی غور طلب ہے۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی سوچ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی کر دیا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات بھی زبان زد عام ہیں۔ ان مشکلات اور چیلنجوں کو پیش نظر رکھ کر سازش کے نظریات کے مصنفین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگلے انتخابات شاید وقت پر نہ ہوں۔ ان انتخابات سے پہلے شاید عدلیہ کوئی عبوری حکومت قائم کرے اور احتساب کا عمل جاری رہے ‘ جس کی زدمیں دوسری جماعتوں کے کئی اہم رہنما آ سکتے ہیں۔ 2017ءختم ہونے کے قریب ہے۔ اگر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا تو انتخابات 2018ءمیں اپنے وقت پر ہوتے لیکن اب ان انتخابات کے بروقت انعقاد کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔