وزیراعظم! زبانی کچھ نہیں!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

اویار! منہ زبانی نہ تقریر کیا کر
تاریخ کے ورق پہ بھی تحریر کیا کر
کچھ لوگ سن کے ان سنی کرتے ہیں تیری بات
تیرے خلاف کرتے ہیں ان دیکھی واردات
کہنے کو ماتحت ہیں ادارے تیرے مگر
تیرے کہے کا ہوتا نہیں ان پہ کچھ اثر
وہ مانتے نہیں کہ ہے تجھ میں بھی دم بہت
دم تو نے ان کو اپنا دکھایا ہے کم بہت
اوپر سے کچھ وزیر تیرے بے شعور ہیں
باہر سے تازہ دم تو ہیں‘ اندر سے چور ہیں
اپنی نظر سے گر چکے وہ جھوٹ بول کے
نااہلیت نے رکھ دئیے سب راز کھول کے
کوئی بھی کام کر نہ سکے ڈھائی سال میں
اب یہ شکاری پھنس گئے خود اپنے جال میں
تم کو بھی لے نہ ڈوبیں کہیں اپنے ساتھ یہ
موقع کی تاک میں ہیں دکھانے کو ہاتھ یہ
کرکے رہیں گے یوسف بے کارواں تجھے
محفوظ ان سے رکھے خدا مہرباں تجھے
اویار! دیکھ سامنے پیچھے بھی کر نظر
بندوق غیر کی نہ چلے تیرے دوش پر
لے آتو اپنی منصبی طاقت بروئے کار
حاصل نہیں جو چھین لے اب اپنا اختیار