ایک تیر سے دو شکار

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

تیر کمان سے نکل چکا۔ اب قاضی انور جو کر لیں جو کہہ لیں۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ انہوں نے غلطی کی ہے۔ کسی زمانے میں رفیق باجوہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ وزیراعظم بھٹو صاحب سے ملنا کوئی ایسی بات نہ تھی۔ وکیلوں نے برا منایا کہ ڈاکٹر بابر اعوان سپریم کورٹ آئے چائے پی اور بڑھ چڑھ کر مخالفانہ بیان دینے والے قاضی انور کے ذریعے ملازموں کی فلاح و بہبود کے لئے سپریم کورٹ بار کو دس لاکھ کا چیک دیا جو قاضی صاحب نے راضی خوشی قبول کر لیا اس سے پہلے کئی سیاستدانوں نے ڈاکٹر بابر اعوان پر وکیلوں میں روپے تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ لاہور میں بنچ اور بار کے درمیان فساد کی جڑ ڈاکٹر بابر اعوان کو قرار دیا۔ رانا ثنااللہ نے ڈاکٹر بابر اعوان کو وکیلوں کا ابوجہل کہا۔ نواز شریف نے بھی تنقید کی، لاہور کے وکیلوں نے ڈاکٹر بابر اعوان کے ساتھ اعتزاز احسن اور اطہر من اللہ کے لئے بار میں داخلے پر پابندی لگائی۔ حتی کہ چیف جسٹس خواجہ شریف کے داخلے پر بھی پابندی لگائی گئی۔ نواز شریف بھی بہت غصے میں تھے جس کا اظہار انہوں نے خود بھی کیا ورنہ رانا ثنااللہ اس معاملے میں کافی سمجھے جاتے ہیں۔ کہا گیا کہ ہم آزاد عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ اس سے پہلے نواز شریف نے کہا کہ صدر زرداری کی حکومت یعنی جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو میں سب سے آگے کھڑا ہوں گا۔
کہتے ہیں کہ جو خبر ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے حوالے سے پھیلائی گئی۔ اس کا ایک پس منظر ہے۔ یہ بات وزیراعظم گیلانی نے قومی اسمبلی میں پورے زور سے کہی تھی اور کوئی ایکشن نہ ہوا تھا۔ اس کا تعلق سپریم کورٹ بار کے الیکشن کے ساتھ کیا ہے جب اس کے لئے راتوں رات سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو پھر وکلا میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا وکلا کی یکجہتی کی وہی لہر دیکھنے میں آئی۔ جب وہ مل کے نعرے لگاتے تھے۔ ”چیف تیرے جانثار .... بے شمار شمار“۔ حکومت کے خلاف وکلا کا اتحاد صاف دیکھنے میں آ رہا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کبھی کسی حکومت کے ساتھ نہیں رہی۔ اس سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ہر کوئی اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اسے پیپلز پارٹی کا امیدوار کہا جا رہا ہے۔ اگر وہ صدر سپریم کورٹ بار بن گئی تو کبھی حکومت کی پالیسی پر نہیں چلے گی۔ اس کے مقابلے میں احمد اویس ہے۔ وہ جنرل حمید گل کا رشتہ دار ہے اس کا تعلق اعتزاز احسن سے ہے۔ وہ حامد خان گروپ سے ہے۔ وہ ایک اچھا انسان ہے۔ لڑائی وکیلوں کی ذاتی ہے مگر اس میں عدالت اور حکومت کو آمنے سامنے لے آیا گیا ہے۔ جو واقعہ ہوا ہے اس کا اتنا اثر شاید انتخاب پر نہ پڑے۔ مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ خواہش کرنے میں تو بالکل کوئی حرج نہیں۔ ووٹرز نے اپنا ذہن بنا لیا ہو گا۔ مگر بہت خراب اور سنگین صورتحال میں ڈاکٹر بابر اعوان نے جو کام کیا ہے حیرت ہے کہ یہ سیاست انہوں نے کہاں سے سیکھی اسے مفاہمت کی سیاست کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے پورے غصے اور جوش سے حکومت اور خاص طور پر ڈاکٹر بابر اعوان کے خلاف بیان دینے والے قاضی انور کو اسی مقام پر پہنچا دیا ہے جس کی مثال رفیق باجوہ کی صورت میں سامنے ہے۔ تب پی این اے کی پیپلز پارٹی اور وزیراعظم بھٹو صاحب کے خلاف تحریک زوروں پر تھی۔ اس معاملے کو بھی مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا مگر ہمارے سیاست دانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اب بھی کیا جا رہا ہے۔ رفیق باجوہ کے لئے کہتے ہیں کہ وہ بھٹو صاحب سے کیوں ملا تو پھر سیاست دان کیوں بھٹو صاحب سے ملے جن میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد بھی تھے۔ وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں جب کرسی ٹوٹ رہی ہوتی ہے اور وہ کسی کے کام نہیں آتی۔ سنا ہے باجوہ صاحب کے خلاف جو مہم چلی تھی اس میں جماعت اسلامی کا ہاتھ تھا۔ اب قاضی انور کے خلاف جو بات چلی ہے اس کے پیچھے کون ہے؟ بہرحال رفیق باجوہ کا معاملہ اتنا قابل اعتراض نہ تھا۔ قاضی انور نے جو کیا ہے اسے وہ پٹھانوں کی روایات کی آڑ میں جائز قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے چیک واپس کرکے اپنا کام مزید خراب کیا۔ ایک دن میں اپنی روایات کا جنازہ نکال دیا۔ سپریم کورٹ کے ملازمین نے چیک ملنے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ چیک کی واپسی پر افسوس کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کے باوجود نہیں بڑھائی گئیں۔ عیسیٰ خیل کے وکیلوں کے لئے باتھ روم نہیں تھا۔ ڈاکٹر بابر اعوان کی گرانٹ سے باتھ روم بن گیا ہے۔ یہ فنڈ وکیلوں کا حق ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا وزیر قانون تھے تو انہوں نے مختلف کچہریوں میں فنڈز فراہم کئے تھے۔ مگر ڈاکٹر بابر اعوان کے اس عمل کے خلاف سیاسی ردعمل آیا ہے ۔ اب قاضی انور نے خود یہ گرانٹ ہنسی خوشی قبول کرکے کیا ثابت کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بابر اعوان کو چائے پلائی اور اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ وزرات کے بعد پھر سے اکٹھے کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اب چیک کی واپسی کا کیا مطلب ہے۔ وکلا کہتے ہیں کہ ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا گیا ہے۔ قاضی صاحب پر الزام لگائے کہ وہ بک گئے ہیں۔ یہ الزام اعتزاز احسن پر لگا۔ علی احمد کرد کو خورد برد کہا گیا۔ جسٹس (ر) طارق محمود کا معاملہ بھی مشکوک ہوا ہے۔ ایک اطہر من اللہ ہے جس کے لئے کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی۔ اس نے چیف جسٹس کی ترجمانی کی جیسے وکیلوں کے دلوں کی ترجمانی کی۔ سپریم کورٹ کے جنرل سیکرٹری راجہ ذوالقرنین کا کردار بھی قابل تعریف ہے۔ کئی وکیل قاضی انور کے خلاف زور زور سے بولتے رہے۔ یہ آوازیں بھی آئیں کہ قاضی صاحب ڈاکٹر بابر اعوان سے ذوق وشوق سے ملے۔ لگتا ہے کہ پہلے بھی کئی بار مل چکے ہیں۔ چیک وصول کرتے ہوئے قاضی صاحب اعوان صاحب پر بڑے خوش تھے جس پر وکلا حیران پریشان ہو گئے۔ چیف جسٹس نے خبر کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ قاضی صاحب اب اپنی صدارت کے چند دن کیسے پورے کریں گے۔ وہ بوڑھے آدمی ہیں مگر وکیل ریٹائرڈ نہیں ہوتا۔ مگر ٹائر تو ہوتا ہے اس دن کئی وکیلوں کی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر ہو گئے۔ تیر کمان سے نکل چکا ہے اور ڈاکٹر بابر اعوان نے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں۔ رانا ثنااللہ نے انہیں وکیلوں کا ابوجہل کہا تھا وہ اب انہیں کیا خطاب دیں گے۔ ایک رپورٹر قاضی صاحب سے کچھ کہلوانے میں ناکام ہوا مگر اس نے سنا کہ وہ زیر لب حفیظ جالندھری کا یہ شعر پڑھ رہے تھے۔....
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف ۔۔۔۔ اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی