ایم ایم اے پر اعتراضات اور سراج الحق کے جوابات

ایم ایم اے پر اعتراضات اور سراج الحق کے جوابات

سراج الحق پر یہ مسلسل تیسرا کالم ہے۔ وہ بہت ذہین ہیں یا بے حد خوش قسمت، ایک ملاقات ڈالی جو کئی کالموں کا سبب بن گئی۔ ان میں سے کوئی کالم بلاوجہ نہیں، سب کے سب تازہ ترین صورت حال کے بارے میں ہیں۔

میں تو ایم ایم اے کے احیاءکو خوش آمدید کہوں گا مگر کیا کیا جائے کہ عوام کے ہونٹوں پر کئی سوالات ہیں، عوام تسلی اور تشفی چاہتے ہیں۔
پہلا سوال نہیں بلکہ اعتراض ہے کہ ایم ایم اے کی ایک جماعت پشاور میں عمران خان کی اتحادی ہے اور یہ خود جناب سراج الحق کی جماعت ہے جبکہ ایک جماعت وفاق میں نواز شریف کے ساتھ ہے۔ اور کم و بیش پچھلے پندرہ برس سے ہر حکومت کے ساتھ ہے، یہ ہے جے یو آئی ف جس کے قائد مولانا فضل الرحمن ہیں۔ دو جماعتیں جن کے درمیان بعد المشرقین ہے، کیسے ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ مجھے اس اعتراض کا جواب مولانا فضل الرحمن سے مانگنا چاہئے تھا، میرے ان سے بھی اچھے، قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں اور وہ لاہور تشریف لاتے ہیں تو ملنے کا وقت ضرور نکال لیتے ہیں۔ بہرحال سراج الحق کا کہنا تھا کہ جب سے ایم ایم کا وجود نہیں ہے تو اس میں شامل تمام جماعتیں اپنے راہ عمل کے انتخاب کا پورا پورا حق رکھتی ہیں۔ سینیٹر علامہ ساجد میر بھی نواز شریف کے حلیف ہیں اور اس وقت ہم ان پر یا وہ ہم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے کہ فلاں کے ساتھ کیوں یا کیوںنہیں ہو، جو کوئی مناسب خیال کرتا ہے، کرنے کا مجاز ہے۔ ہاں جب ایم ایم اے کا احیاءعمل میں آ جائے گا تو پھر ہم متفقہ طور پر نیا لائحہ عمل بنائیں گے۔ الیکشن میں کس کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں، کس کے ساتھ نہ کریں، اجتماعی طور پر کوئی راستہ اختیارکریں یا سیٹ ٹو سیٹ فیصلے کریں، یہ سب کچھ طے ہو جائے گا، الیکشن کے بعد حکومت سازی کے مرحلے پر بھی ہم مشاورت سے ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔
مگر جماعت اور جمعیت کے درمیان فاٹا کے مستقبل پر بھی اس وقت اختلاف ہے، جماعت انضمام کے حق میں ہے جبکہ مولانا اس راستے کو امریکی خواہش کی تکمیل قرار دیتے ہیں تو کیا جماعت امریکی اشارے کی تکمیل چاہتی ہے۔ سراج الحق نے جواب دیا کہ انضمام کا فیصلہ اکیلے ہمارا نہیں حکومت پاکستان کا ہے اور ہم تو صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اپنے فیصلے پر عمل کرے۔ یہ حکومت امریکہ کی نہیں، پاکستان کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت کو بہت جلد اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر انضمام کے فیصلے کو بروئے کار لانا پڑے گا، اس لئے یہ مسئلہ ہمارے اور جمعیت کے مابین وجہ نزاع نہیں بن سکتا۔ بالفرض یہ مسئلہ اٹک جاتا ہے تو پھر ایم ایم اے جو فیصلہ کرے گی، ہماری جماعت بھی اس کی پابندی کرے گی۔
دنیا یہ کہتی ہے کہ پشاور اور گرد و نواح یا پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدرسے انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں اور یہاں دہشت گرد پروان چڑھتے ہیں۔ سراج الحق نے ہنستے ہوئے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس یا کل بھوشن یادیو ان مدرسوں کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، نہ کراچی کی سنگین وارداتوں میں ملوث پی ایچ ڈی نوجوان ان مدرسوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ بی ایل اے کے دہشت گرد بھی دینی مدارس سے تعلق نہیں رکھتے۔ دینی مدرسوں پر اعتراضات ایک شوق فضول ہے۔ ان مدرسوں یا ہمارے زیرانتظام چلنے والے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بلاامتیاز مذہب و ملت داخلے دیئے جاتے ہیں۔ ان میں غیر مسلم بھی ہیں اور سبھی کا داخلہ میرٹ اور ذہانت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، ہمارے اداروں سے نکلنے والے پیشہ ور انہ مہارت کے حامل ہوتے ہیں اور بیرونی ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، وہ پاکستان کے لئے قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں، زلزلہ آ جائے، سیلاب کی آفت نازل ہو جائے یا تھر جیسا قحط ہو تو خطیر رقوم اور قیمتی سامان بھجواتے ہیں۔ ان پر تو ہر لحاظ سے فخر کیا جانا چاہئے۔
ایم ایم اے اسلام کو سیاست کے لئے کیوں استعمال کرتی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ اور اس کے سربراہ حضرت قائداعظم نے اسلام کی بنیاد پر ہی پاکستان بنایا، تو کیا انہوں نے کوئی غلط کام کیا۔ یہ ملک اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر تشکیل دیا گیا، اسے ماڈرن جمہوری فلاحی اور مہذب ریاست کا ایک نمونہ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم قائداعظم اور بانیان پاکستان کے وعدوں کی تکمیل کے لئے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں، اس میں اسلام کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کا سوال کہاں سے آ گیا، ہم منافقت نہیں کر رہے، ہم قرارداد مقاصد کی روح کے مطابق پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کے خواہاں ہیں۔ ہمارے سامنے مدینہ کی ریاست ایک مثالی نمونہ ہے۔ پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی بھی یہی خواہش ہے۔
کیا آپ کو ان کروڑوں مسلمانوں کا مینڈیٹ حاصل ہو سکے گا۔
جواب تھا۔ اس وقت الیکشن کا نظام فراڈولنٹ ہے، آپ اسے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر منعقد کروائیں تو نتیجہ دیکھ لیں کہ دینی جماعتیں کتنی سیٹیں لے جائیں گی، اس وقت تو یہ الیکشن روپے پیسے کے لالچ کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے، اس میں جاگیر دار ہیں، وڈیرے ہیں، تمن دار ہیں، کرپشن سے لتھڑے ہوئے لوگ ہیں، ٹیکس چور ہیں۔ قرضے خور ہیں، اور دوہری شہریت کے لوگ ہیں۔ذرا ان کو احتساب کی چھلنی سے تو گزاریئے، پھر دیکھئے مقابلہ کسے کہتے ہیں۔ اور نتائج کیا آتے ہیں۔
کیا ایم ایم اے کی کامیابی کی صورت میں پاکستان ایک بنیاد پرست ریاست نہیں بن جائے گی، دنیا اسے کیسے ہضم کر پائے گی۔
جواب تھا کہ اس وقت اسرائیل ایک بنیاد پرست ملک ہے، سعودی عرب اور ایران بھی بنیاد پرست ملک ہیں تو کیا انہیں دنیا نے ہضم نہیں کیا۔ کیا انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ جمہوریت میں عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ کون سے نظام کو اپنانا چاہتے ہیں، بھارت کی طرح کے منافقانہ سیکولر نظام کو یا قائداعظم کے بقول ایک ماڈرن اسلامی، جمہوری نظام کو۔ عوام اپنی قسمت کے مالک ہیں تو کرنے دیجئے انہیں فیصلہ!!
میں نے سراج الحق صاحب کو ایک مفت مشورہ دیا کہ ایم ایم اے کے احیاءکے مذاکرات کے مرحلے پر اگر تمام فریق غیر مشروط طور پر آگے بڑھیں یعنی کوئی پیشگی شرط عاید نہ کریں تو یقینی طور پر اتحادکا راستہ ہموار ہو جائے گا۔