شراب معرفت ....

شراب معرفت ....

شراب نوشی اور منشیات کمزوری کی دلیل ہیں، کمزور انسان کو مزید کمزور بناتی ہے۔ حقیقی نشہ شراب معرفت ہے۔ خطرناک طبقہ وہ ہے جس کے چہرے پر سنت کی داڑھی، زبان پر دینی کلمات اور ہاتھ میں تسبیح ہے لیکن شامیں شراب نوشی اور منشیات کے ساتھ گزرتی ہیں۔ ان سے مبینہ بے دین افراد بہتر، گنہگار اور برے کہلاتے ہیں لیکن دوزخ کے سب سے نچلے درجے سے محفوظ ہیں۔ دوزخ کا سب سے نچلا درجہ منافقوں کا منتظر ہے۔ ”میرا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا۔ اس نے کبھی نماز نہیں پڑھی، وہ شراب پیتا تھا۔ لیکن شراب اور نشے کے زیر اثر ایسا ہی ہوتا ہے جو کہ ہوا۔ پیرس کے ایک ہوائی اڈے پر ہلاک کیا گیا مشتبہ انتہا پسند منشیات کے زیر اثر تھا اور اس نے اورلی ہوائی اڈے پر ایک خاتون پولیس اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش سے قبل شراب بھی پی رکھی تھی۔ پیرس پراسیکیوٹرز کے دفتر نے اتوار کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے ایک حصے کے طور پر کئے گئے سائیکالوجی ٹیسٹس سے زید کے خون میں کوکین اور کینابس کے اثرات ملے جب کہ مرنے سے قبل شراب بھی پی رکھی تھی جس کی مقدار اعشاریہ 93 گرام فی لیٹر خون پائی گئی جو کہ فرانس میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی مقررہ مقدار سے دوگنا زیادہ تھی۔

اس فرانسیسی شہری کا مجرمانہ ماضی تھا اور وہ منشیات اور ڈکیتی سے متعلق جرائم میں ملوث رہ چکا تھا۔ ماں کہتی ہے کہ اس کا بیٹا نام کا مسلمان تھا لیکن وہ دہشت گرد نہیں تھا کیوںکہ وہ شراب پیتا تھا، کوکین کا نشہ کرتا تھا۔ نماز بھی نہیں پڑتا تھا۔ وہ دہشت گرد کیوں کر ہو سکتا تھا؟ دہشتگرد کا مفہوم مجرم کی ماں نے بیان کر کے ہر با عمل مسلمان کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ یعنی شراب اور منشیات کا عادی بے عمل مسلمان دہشت گرد نہیں ہو سکتا؟ مجرم اور قاتل کی ماں نے جو دیکھا سنا وہی کہا۔ اسلام اور۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے دہشت گردوں کو مذہبی مسلمان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ داڑھی، نمازی، شراب منشیات سے گریز؟ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہشت گرد ایک مکروہ اور قبیح کردار کا نام ہے جس کا کسی مذہب تو درکنار انسانیت سے بھی دور کا تعلق نہےں۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد باآسانی برین واش ہو جاتے ہیں۔ منشیات اور شراب نوشی کا نیک یابد یا مذہبی و بے دین ہونے سے نہیں بلکہ نفسیاتی کمزوری سے تعلق ہے۔ غم صدمات پریشانیاں ڈپریشن یا انگسایٹی سے نجات کے لئے عارضی نشے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ عارضی سکون کے لئے انسان کئی طرح کے ٹوٹکے استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن جس نے معرفت کی شراب چکھ لی، وہ ہر زخم صبر سے پی سکتا ہے۔ حرام کیا تو حلال کیا یہ ہمارے دل پہ ہے منحصر، جسے چاہے دل تو حلال ہے جو نہ چاہے دل تو حرام ہے۔ شراب کی کئی اقسام ہےں۔ شراب معرفت، شراب وحدت، شراب ولایت، شراب عشق و محبت، شراب کافورہ، شراب زنجب، شراب سلسب، شراب طہور، شراب کوثر۔ شراب" پینے والی چیز کے معنی میں ہے اور پاک اور پاک کرنے والی چیز کے معنی میں ہے۔ مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہشت میں مختلف قسم کی پاک اور خوشگوار پینے والی چیزیں ہوں گی۔ قرآن مجید کی ایک آیت میں ”شراباً طہوراً" کی تعبیر بیان ہوئی ہے: " اور انہیں ان کا پروردگار پاکیزہ شراب سے سیراب کرے گا۔" قرآن مجید کی آیات میں بہشتی شراب کو بہترین اور خوبصورت ترین تعبیر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس شراب کو پلانے والے خوبصورت ترین ساقی ہوں گے جو قد و قامت کے لحاظ سے زیبا اور خوشنما آنکھوں والے صفوں میں جام لئے ہوئے کھڑے ہوں گے اور بہشتیوں کو پلانے کے لئے گردش میں ہوں گے، یہ ایسی شراب ہو گی جس سے بہشتیوں کو خاص لذّت محسوس ہو گی وہ شراب نہ ا±ن کی عقل میں خلل ڈالے گی، نہ انہیں بدمست کرے گی اور نہ ان کے بدن کو کوئی ضرر پہنچائے گی۔ کئی دوسری آیات میں آیا ہے کہ بعض بہشتی جیسے ”ابرار“ نیکوکار بندے ”رحیق مختوم“ نامی شراب سے سیراب ہوں گے جس سے ان پر باطل سے تحفظ کی مہر لگے گی اور آلودگی سے محفوظ ہوں گے مقربین درگاہ الٰہی کا اجر چشمہ تسنیم کی شراب ہو گی جس کا ساقی خود ذات اقدس الٰہی اور اس کا ساغر اس کی معرفت و محبت کی حقیقت ہو گی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تسنیم، بہشت کی بہترین شراب ہے، جسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام نوش فرماتے ہیں، اصحاب یمین اور باقی بہشتی اس کے مخلوط محلول کو پیتے ہیں۔"نتیجہ کے طور پر، جس طرح دنیا میں انسانوں کے مختلف درجے اور مراتب ہیں، اسی طرح بہشت میں بھی گوناگوں مراتب ہیں اور بہشتی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق ان مراتب سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس لئے قرآن مجید میں ان کے بارے میں مختلف تعبیریں استعمال کی گئی ہیں۔ بعض کو ”اصحاب یمین“ بعض کو ”ابرار“ اور بعض کو ”مقربین“ درگاہ الٰہی کہا جاتا ہے اور ان کے مقامات کے اعتبار سے انہیں فائدہ بھی ملتا ہے۔ ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے جس سے نجات کے لئے عارضی ادویات، ٹوٹکوں یا طریقوں کی مدد لیتا ہے۔ ہماری کمزوری انسانی رشتے ہیں۔ رشتوں سے محبت ہے۔ جدائی مار دیتی ہے۔ غم اور پریشانی سے نجات کے لئے عارضی ٹوٹکوں کا سہارا لینے کی بجائے مستقل نشہ میں عافیت سمجھی۔ غم کو طاقت بنانے کی سعی میں لگی ہوں۔ کبھی گر جاتی ہوں اور کبھی پھر لڑکھڑاتے قدموں سے چلنے لگتی ہوں۔ خالق پر قوی یقین تمام عارضی ٹوٹکوں اور نشوں سے نجات دلا سکتا ہے بشرطیکہ زندگی کے صحن کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ایک کھڑکی کے اور وہ کھڑکی توکل و یقین کی کھڑکی ہے۔