الیکشن کی آمد آمد اور سیاسی سرپرائز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
الیکشن کی آمد آمد اور سیاسی سرپرائز

لاہور پہنچتے ہی ”صدر“ زرداری نے جو پہلی بات کی ہے وہی سیاسی سرپرائز ہے۔ ہمارے روایتی سیاستدان سرپرائز میں دلچسپی نہیں لیتے۔ انہیں صرف پرائز سے غرض ہوتی ہے اور وہ انہیں کسی نہ کسی شکل میں ملتا رہتا ہے۔ ان کا کام پریشان کرنا ہوتا ہے وہ حیران کرنا جانتے ہی نہیں۔
پاکستانی سیاست کو پہلی بار بھٹو صاحب نے حیرت سے آشنا کیا تھا۔ لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ ہیں بینظیر بھٹو کی شہادت بھی سیاسی حیرت کا ایک قرینہ تھا۔ اب ”صدر“ زرداری نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا ہے تو یہ ایک تسلسل ہے جو قائم دائم ہے۔ انہوں نے ایوان صدر میں پانچ سال پورے کئے اور بڑی خوش اسلوبی سے پورے کئے۔ یہی اسلوب سیاست ہی محبوب ہو سکتا ہے۔
مجھے زرداری صاحب اچھے لگتے ہیں۔ اس جملے میں انہیں میں نے ”صدر“ زرداری نہیں کہا۔ کیا زرداری صاحب کا سیاسی سفر ایک سرپرائز نہیں ہے؟ پاکستان کا کوئی آدمی یہ سوچنے کے لئے بھی تیار نہ تھا کہ آصف زرداری صدر پاکستان ہوں گے بینظیر بھٹو سے شادی بھی ایک سرپرائز ہے۔ زرداری صاحب کی زندگی جراتوں سے بھری ہوئی ہے۔
میں نے کل کے کالم میں جو لکھا تھا وہی زرداری صاحب کی زبان پر آیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ میرا کالم پڑھتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں ”پنجاب اب ہمارا ہو گا“ بھٹو صاحب نے پنجاب پیپلز پارٹی کی قسمت بنایا تھا۔ یہ سیاسی وژن زرداری صاحب تک پہنچا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام کے ساتھ بھٹو لگا دیا۔ جسے لوگوں نے قبول کر لیا ہے۔
تاریخ انسانیت میں ماں کے رشتے سے جو معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے وہ بے مثال ہے مجھے زرداری صاحب کے اس جملے نے بہت مزا دیا ہے ”الیکشن میں مخالفین کو بڑے سرپرائز دیں گے“ سب سے پہلے سردار ذوالفقار کھوسہ کا نام لیا گیا ہے جسے پیپلز پارٹی میں لانے کی کوشش کی جائے گی کئی اہم لیڈر جو خاموش بیٹھے ہیں ان سے رابطے تیز کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ پی پی پی کے جیالوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ زرداری صاحب نے واضح انداز میں کہا کہ کسی کو پارٹی سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔
شفاف الیکشن کے لئے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ بیلٹ پیپرز بین الاقوامی کمپنیوں سے چھپوائے جائیں کہ الیکشن کے لئے ابتدائی تیاریوں کا مظاہرہ بھی ہوسکے۔ یوسف رضا گیلانی، قمرالزمان کائرہ، ندیم افضل چن اور دوسرے رہنماﺅں سے ملاقات کے بعد کہا کہ جنوبی پنجاب کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ لگتا ہے کہ اب سیاسی سرگرمیاں زور پکڑیں گی۔ حکومت ترقیاتی کاموں کی طرف بھی توجہ دے گی۔
بہادر ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلائی جا رہی ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں نوٹس لینا چاہئے۔ عاصمہ جہانگیر خود ان لوگوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ ان کے خلاف ایسی مہمیں تو چلتی رہتی ہیں۔ انہوں نے ایسی ہر حرکت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ مخالفین کو پسپا ہونا پڑا ہے۔
صدر ممنون حسین کبھی کبھی جرات مندانہ انداز میں بولتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے وہ اپنی موجودہ حکومت کے خلاف بات کر رہے ہیں؟ سنا ہے کہ ان کی باتوں کا نوٹس بھی لیا گیا ہے۔ مگر وہ اپنی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ اب لوگ واقعی ان کے ممنون ہو رہے ہیں۔
صدر ممنون حسین نے کہا کہ کرپٹ لوگوں سے گھِن آتی ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کی لعنت نے ملکی ترقی کا راستہ روک رکھا ہے یہ بھی صدر محترم کو پتہ ہے کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے؟ مگر سیاستدان اور حکمران اشاروں کی زبان نہیں سمجھتے مجھے تو لگتا ہے کہ کسی دن صدر صاحب کھلم کھلا بات کر دیں گے۔ یہ انکشاف نہیں ہو گا۔ بس اطلاع ہو گی۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی؟
اس دوران برادرم ڈاکٹر شاہد مسعود نے تو ڈرا ہی دیا ہے ”پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں قومی اسمبلی توڑنے پر غور کرنا شروع کر دیا گیا“ لگتا ہے کہ حکومت والوں کو کوئی اشارہ ملا ہے۔ مسئلہ صرف اسمبلی توڑنے سے حل نہیں ہو گا حکومت کو استعفیٰ دینا پڑے گا اور نئے الیکشن کے لئے بات ہونے لگے گی مگر اس میں میری گزارش ہے کہ نجم سیٹھی کو دوبارہ نگران وزیر اعلیٰ نہ بنا دیا جائے؟ زرداری صاحب نے آئینی ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کا کانٹا نکالنے کی تجویز بھی دی ہے جو کافی غور طلب ہے۔ نواز شریف کو بھی اس سے متفق ہونا پڑے گا۔