کھرا سچ!!!

کھرا سچ!!!

دوستوں کی محفل میں مبشر لقمان اپنی کتابیں بھی لایا تاکہ سب پڑھ کر کسی فیصلے تک پہنچیں، اس کے لئے ظاہر ہے ایک اور محفل برپا کرنی پڑے گی مگر مبشر لقمان نے ہمیں بتایا نہیں اور عین تقریب کے درمیان ایک صاحب اسٹیج پر آ براجمان ہوئے۔ مبشر نے بتایا کہ کہ یہ حاجی اقبال ہیں۔ میں کافی دیر تک سمجھتا رہا کہ حاجی عبدالرزاق تشریف لائے ہیں۔ ان کا نام زیادہ سن رکھا تھا، ٹی وی کا حوالہ تو تھا ہی مگر سونے کی تجارت میں بھی ان کا بڑا نام ہے ۔میری ان سے ایک مختصر ملاقات نیویارک کے نواح میں ہوئی، میں سردار نصراللہ کا مہمان تھا، وہ کھرے مسلم لیگی ہیں ، ان کی وساطت سے میں سید طارق شاہ سے بھی ملا جو امریکہ میں مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر بھی رہے اور اس حیثیت میںنواز شریف ، شہباز شریف اور سرتاج عزیز کی میزبانی کرتے رہے۔ سردار نصراللہ ان دنوں پاکستان میںہیںاور اپنی سیاسی قسمت آزمائی میںمصروف ہیں، سید طارق شاہ اپنی خاندانی پراپرٹی کے تنازعات کی وجہ سے سوا سال سے لاہور میں پھنسے ہوئے ہیں اور ریوینیو بورڈ اور سرگودھا کی ضلعی مشینری کے درمیان فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔وہ آسمان صحافت کے دو تابندہ ستاروں، پاکستان ٹائمز کے سیدشبیر شاہ، اور دی نیشن کے سید سرور شاہ کے کزن ہیں مگر ان کے بارے میں کھرا فیصلہ ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا جا رہا، بہر حال نیویارک میں ان اصحاب کی وساطت سے میں ایک سونے کی بڑی دکان پر پہنچا، وہاں قلم بھی بکتے تھے اور مجھے اپنے ایک قلم کی وارنٹی میں مرمت کروانا تھی، اس بہانے دکان میں حاجی عبدالرزاق سے مختصر ملا قات ہوئی، میںنے انہیں ایک کھرا انسان پایا، ان کے بارے میں اتنے افسانے تراشے جاتے ہیں ، یہ سحر انگیز اور الف لیلوی شخصیت گزشتہ دنوں خالق حقیقی سے جا ملی۔میں ان کے بارے میں زیادہ جانتا ہوتا تو ان کے کردار پرضرور لکھتا مگر مبشر لقمان کی وساطت سے حاجی اقبال سے ملاقات دو گھنٹوں تک جاری رہی اور ہر سوال کا جواب ان سے حاصل کرنے کی کو شش کی۔حاجی اقبال ایک میڈیا ہائوس کے مالک ہیں اس لئے میں ان کی ہر بات یہاں لکھنے کامکلف نہیں ہوں، ایک بات جس پر میرے کان کھڑے ہوئے، وہ یہ تھی کہ انہوںنے دس سال تک بھارت میں چینل چلانے کی کوشش جاری رکھی مگر انہیں بھارتی انڈسٹری نے اشتھار نہیں دیا، کوئی میڈیاہائوس اشتھاروں کے بغیر چل نہیں سکتا، اس لئے حاجی اقبال نے بھارتی صنعت کاروں اور کاروباری اداروں کی منت سماجت بھی کی کہ اشتھار دے دو، بھلے اس کے پیسے نہ دو، تمہاری دیکھا دیکھی شاید ہمیں دوسروں سے ہی اشتھار ملنے لگ جائیں مگر جواب ملا کہ بھائی! جس دن ہمارا شتھار تمہارے چینل پر آیا ، اسی دن سے ہماری مصنوعات کا بائیکاٹ شروع ہو جائے گا۔ سو بھارتی انڈسٹری اور بزنس کمیونٹی نے ہمیں بھوکا مارا اور ہمیں وہاں سے بھاگتے ہی بنی۔
میں نے اس سے بڑا اور کھر اسچ کبھی نہیں سنا تھا۔ میںحاجی اقبال سے نہ ملا ہوتا تو مجھے چودھری شجاعت کی طرف سے اوم پوری کی میزبانی شاید بری نہ لگتی۔  اوم پوری نے لاہور میںمزے کی محفلوںمیں شرکت کی ہے، ہر جگہ اس نے کہا ہے کہ لاہور آتے ہوئے وہ ڈر رہا تھا کہ ایک تو اس نے پاکستان دشمن فلموںمیںکام کیا ہو اہے جن میں غدر کی فلم کو تو پاکستانی کسی طور پر برداشت ہی نہیں کر سکتے، اس پر مستزاد پاک بھارت کرکٹ میچ پر کشمیری طلبہ کے خلاف غداری کے جو مقدمے بنائے گئے اور انہیں بھارتی کالجوں سے نکال دیا گیا، اس پر تو پاکستانیوں کا غم و غصہ تازہ تھا۔ مگر انہیں حیرت ہوئی کہ لاہوریوںنے ہر جگہ کشادہ بازووں سے ان کاا ستقبال کیا۔ اوم پوری نے لاہوریوں کی فراخدلی کی داد دی مگر اوم پوری اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ہماری کشادہ ظرفی نہیں، اوم پوری کو تصدیق ہو گئی ہے کہ اب پاکستانی سو جوتے بھی کھا سکتے ہیں اور سو پیاز بھی کھانے کو تیار ہوں گے۔
1971 میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیاہے، اب ان کی بہو سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ پاکستانیوں پر کسی لشکر کشی کی ضرورت ہی نہیں، ہم نے انہیں ثقافتی یلغار سے سرنڈر پر مجبور کر دیا ہے۔اوم پوری نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ پاکستانی قوم بے حسی کے کینسر کا شکار ہو گئی ہے۔اوم پوری نے فیشن کے طور پر اپنے ملک سے مطالبہ تو کیا ہے کہ پاکستانی فلموں اور ٹی وی چینلز کو بھارت میںکام کرنے کی اجازت دی جائے مگر وہ جانتے ہیں کہ اس مطالبے سے وہ صرف ہماری دلپشوری کر رہے ہیں۔انہوںنے دوسرے سانس میں یہ بھی کہا کہ برلن وال ٹوٹ سکتی ہے تو ہم کیوں ایک نہیں ہو سکتے۔
مبشر لقمان اور میرے درمیان بھارت سے امن کی بد معاشی کے ایجنڈے پر اتفاق ہے۔بھارت سے امن کی بھیک قائد اعظم کی روح کو تڑپانے کے مترادف ہے۔ابھی دیکھنا کہ اوم پوری کی جگہ ہمارے میڈیا میں خشونت سنگھ کے نوحے شروع ہو جائیں گے، کوئی بعید نہیں ، کہیں اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر دی جائے۔
غنیمت سمجھوکہ پاکستان میں ابھی تو حافظ سعید کو نظریہ پاکستان کانفرنس کے انعقاد کی اجازت مل گئی ہے مگر وہ وقت دور نہیںجب ایسی مجلسوں کو اکھاڑنے کے لئے نئی نویلی ریپڈ فورس قیامت ڈھایاکرے گی۔
میں اپنے بزرگ عبدالقادر حسن کی تھپکی کا ممنون ہوں کہ انہوںنے کل والے کالم پر میرا حوصلہ بڑھایا ، ملک صاحب سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ میری حق گوئی نہیں ، ڈاکٹر مجید نظامی کا مضبوط اور ناقابل تسخیرمورچہ ہے جس میں بیٹھ کر مجھے لکھنے کی آزادی میسر ہے۔