کتابِ ہدایت اور حقوقِ نسواں کی شورا شوری

کالم نگار  |  سعید آسی
کتابِ ہدایت اور حقوقِ نسواں کی شورا شوری

خواتین کے حقوق کی شورا شوری میں اگر میں یہ بات کہتا تو گردن زدنی ٹھہرتا مگر اپنے تجربات کے نچوڑ کی صورت میں یہ نتیجہ خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم ’’ہنر شنر‘‘ کی کرتا دھرتا، ڈاکٹر سمانہ ذیشان نے اخذ کیا ہے کہ اکثر گھریلو جھگڑوں اور خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ میں عورت ہی فساد کی جڑ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سمانہ ایک پڑھی لکھی سُلجھی خاتون ہیں۔ اگرچہ لاہور کی رہنے والی ہیں مگر اپنی تنظیم کی سرگرمیوں کے ناطے زیادہ تر بیرون ملک مقیم رہتی ہیں۔ نیپال میں ان کا مستقل ٹھکانہ ہے جہاں کی انہوں نے شہریت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ تعلیم کے حساب سے ڈاکٹری ان کا پیشہ ہے مگر وہ ’’ویمن لائف‘‘ کا ایک سبجیکٹ کے طور پر مطالعہ اور مشاہدہ کرتی رہتی ہیں۔ شوکت عزیز کے دورِ حکومت میں انہیں حکومت کی جانب سے خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی میں مشاورت کیلئے بُلایا گیا اور ان کی پیش کی گئی بیشتر تجاویز کو تحفظ حقوق نسواں کے بل میں پذیرائی دی گئی۔ پچھلے دنوں وہ اپنی تنظیم کے ملکی اور غیر ملکی عہدیداروں کے ساتھ میرے پاس آفس میں بیٹھی تھیں کہ دورانِ گفتگو انہوں نے خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں، دونوں کے لئے قرآن مجید کی سورۃ النساء کا حوالہ دے کر باور کرایا کہ معاشرے میں خاتون کے مقام کے تعین کے لئے سورۃ النساء میں دکھائی گئی راہِ ہدایت سے زیادہ ٹھوس اور مؤثر اور کوئی قانون نہیں ہو سکتا، اگر خالقِ کائنات نے معاشرے اور خاندانوں میں خواتین کے مقام، مرتبے اور کردار کے حوالے سے سورۃ النساء میں خود پیرا میٹرز متعین فرما دئیے ہیں تو ہم اس کی مخلوق اس سے سرکشی کرنے والی کون ہوتی ہے اور پھر ہم مسلمان ہیں تو یہ ہمارے عقیدے اور ایمان میں شامل ہے کہ کتابِ ہدایت قرآن مجید آخری صحیفہ آسمانی ہے اور جس ہستی پر یہ کتاب نازل فرمائی گئی وہ محمد مصطفی خاتم الانبیائؐ ہیں۔ قرآن مجید کے بعد نہ کوئی دوسری کتابِ ہدایت آنی ہے اور حضرت نبی کریمؐ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ ہی ذاتِ باری تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت بھی ختم فرما دیا ہُوا ہے اس لئے ذاتِ باری تعالیٰ نے قیامت تک کے زمانوں کی اپنی مخلوقِ انسانی کے لئے ہدایت اور رہنمائی کے اصول کتابِ ہدایت قرآن مجید میں ہی متعین فرما دئیے ہوئے ہیں جن میں کسی ردوبدل کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کر سکتا اور اگر یہ دلیل دی جائے کہ 14، 15 سو سال پہلے کے ضابطۂ حیات کا موجودہ زمانے پر اطلاق نہیں ہو سکتا تو اس سے بڑی کٹ حجتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے اپنی ناقص عقل کو برتر سمجھ کر یہ نتیجہ اخذ کرنا مقصود ہو گا کہ نعوذ باللہ خالقِ کائنات کو اپنی مخلوق کے آج کے دور کے طور اطوار سے آگاہی نہیں ہو گی۔ اگر ذاتِ باری تعالیٰ نے اپنے نظامِ کائنات کے قیامت تک کے مراحل متعین فرمائے ہیں تو انسان کی شکل میں بنائے گئے نظامِ کائنات کے ایک پُرزے کی خوبیوں خامیوں اور اس کی ساری عادات و اطوار کی بنیاد پر ہی قیامت کی نوبت آنی ہے مگر ہماری سرکشی ایسی ہے کہ سورۃ النساء میں بگڑی خاتون کی اصلاح کے لئے متعین کردہ طریق کار کا تذکرہ سُننے کی بھی ہماری این جی اوز روادار نہیں ہوتیں۔ خواتین کے حوالے سے دانستہ طور پر ایک ایسا کلچر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بننے والی خواتین کی بے راہروی پر شعائر اسلامی کے حوالے سے کوئی بات کی جائے تو آسمان سر
پر اٹھاتے ہوئے اس پر طوفان برپا کر دیا جائے، یہ ایجنڈہ لادین عناصر کا تو ہو سکتا ہے مگر ہم مسلمان ہیں تو کتابِ ہدایت قرآن مجید سے کیسے روگردانی کر سکتے ہیں، یہی ڈاکٹر سمانہ کا تجسّس تھا جس کی بنیاد پر وہ معاشرے میں خواتین کی متعینہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کی بھی متقاضی ہیں اور اپنی سالہا سال کی تحقیق اور مشاہدے کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ گھریلو ناچاقیوں میں خاتونِ خانہ ہی زیادہ تر فساد کی جڑ ہوتی ہے جس کی سورۃ النساء میں اپنے شوہر کے لئے جو ذمہ داریاں متعین ہیں ان کی ادائیگی سے گریز کرتی ہے تو گھر میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ ان کے تجربات کا یہ نچوڑ بھی پلّے باندھنے والا ہے کہ آج کے دور میں صرف متوسط طبقات کے خاندان متوازن زندگی بسر کر رہے ہیں جن کی خواتین گھر کے تقدس اور عزت و عصمت کی پاسداری کرتی ہیں جبکہ غریب طبقات اور اوپر کی سطح پر امیر طبقات کی زندگیاں غیر متوازن ہیں۔ غریب طبقے کی عورت اپنے خاندان اور بچوں کی بھوک برداشت نہ کرتے ہوئے مجبوراً بے راہروی کا چلن اختیار کرتی ہے جبکہ متمول خاندانوں میں مرد و خاتون سب میں یہ لت محض اپنی حرص و ہوس پوری کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے، اس حساب سے تو ہمارا معاشرہ قطعی طور پر غیر متوازن ہو رہا ہے کیونکہ اقتصادی ناہمواریاں اس معاشرے کے درمیانے طبقے (مڈل کلاس) کا وجود ہی غائب کر رہی ہیں۔ یہ طبقہ درحقیقت معاشرے کا پائوں ہے۔ اگر پائوں ہی غائب ہو گیا تو معاشرہ کھڑا کیسے رہ سکتا ہے اس لئے میں اپنے سابقہ کالم کی طرح آج کے کالم میں بھی اس نتیجے پر پہنچ رہا ہوں کہ ہمیں قیامت لانے کی بہت جلدی لگی ہوئی ہے۔ ہم مسلمان ہو کر کتابِ ہدایت سے روشنی حاصل کرنے میں شرم یا اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں اور خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے اپنی ذہنی اختراعات کی بنیاد پر زندگی کا وہ چلن اختیار کر رہے ہیں جسے کتابِ ہدایت میں قیامت کی نشانیوں سے تعبیر کیا گیا ہے تو پھر بالآخر (شاید بہت جلد) ہمیں اس انجام سے ہی دوچار ہونا ہے جو قیامت کی شکل میں کائنات کی ہر چیز کو روئی کے گالوں کی طرح پُرزے پرُزے کر کے اڑاتا نظر آئے گا۔ بے شک جرگوں اور پنچائتوں کے ماورائے آئین و قانون فیصلوں اور اقدامات پر انہیں گردن زدنی ٹھہرائیں مگر غربت کے نام پر قتل یا خواتین کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچانے والے اسباب کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے کر ان کے تدراک کی بھی کوئی تدبیر کر لیں جو سورۃ النساء پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ بے شک جرگوں اور پنچائتوں کو فساد فی الارض کا باعث نہیں بننا چاہئے، شر پھیلانے اور خواتین کو ونی کرنے اور ان کے ساتھ اجتماعی بداخلاقی یا قتل کا حکم دینے والے جرگوں اور سرپنچوں کو بھی بے شک چوراہے پر لٹکا دیا جائے مگر خاندانوں کے بڑے پنچائت کی شکل میں کسی بھی وجہ سے کسی خاندان میں پڑنے والی پھوٹ ختم کرانے کے لئے مفاہمانہ کردار ادا کرتے ہیں تو اس سے یقیناً معاشرے کو متوازن بنانے میں مدد ملتی ہے۔ خیبر پی کے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سمانہ کی تنظیم کے ایک عہدیدار نے بجا طور پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ جرگوں اور پنچائتوں کے جو فیصلے خواتین کے حق میں ہوتے ہیں انہیں میڈیا پر کیوں اُجاگر نہیں کیا جاتا جبکہ خواتین کے خلاف صادر ہونے والے اکا دکا فیصلوں پر طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ میں اس دلیل کے تحت جرگوں اور پنچائتوں کی ہرگز وکالت نہیں کرنا چاہتا کہ ان کے وجود اور کام کی کسی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں تو اس کا جواز بھی کیوں نکالا جائے مگر معاشرے کو شرفِ انسانیت اور اخلاقیات کی جانب لوٹانے کے جو تقاضے ہیں وہ تو نبھا لئے جائیں، کیا خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کو ان تقاضوں سے اتفاق ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر  ؎
قیامت بھیج دے کچھ روز پہلے
اگر کٹتا نہیں وقتِ ’’نادانی‘‘