طیارہ اغواء برائے تاوان ۔۔۔!

طیارہ اغواء برائے تاوان ۔۔۔!

ابھی تو طیارہ اغوا کیا گیا ہے، اغوا برائے تاوان کی حقیقت بھی عنقریب منظر عام پر آجائے گی۔ پاکستان کو سازش کی بُو آ رہی ہے اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنی سرزمین پر ملائیشین طیارے کی موجودگی کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ طیارہ بھی اس ملک کی فضائوں میں تلاش کیا جا رہا ہے جس ملک میں عیدین اور رمضان کا چاند تلاش کرنا ایک مسئلہ ہے۔ اسامہ بن لادن پاکستان کے قلب میں موجود تھا، اگر اس کی کسی کو خبر نہ ہو سکی تو لاپتہ طیارہ کون تلاش کرے۔ امریکہ کو اسامہ بھی نظر آ گیا اور لاپتہ طیارہ بھی نظر آ جائے گا۔ پاکستان فقط بیانات اور تسلیاں دے۔ ہم نے ملائیشین طیارہ کی گمشدگی کی خبر سُنی تو سُنی ان سُنی کر دی کہ ترقی یافتہ ملکوں کی دور بین سے بچ کر کہاں جا سکتا ہے انشأاللہ مل جائے گا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ہماری چھٹی حِس کی کھڑکی کُھلنے لگی کہ ہو نہ ہو لاپتہ طیارہ نائن الیون کی دہشت گردی میں استعمال ہونے والے طیاروں کا عزیز رشتہ دار معلوم ہوتا ہے۔ آج تک نہ ان دو طیاروں کا معمہ کھل سکا اور نہ لاپتہ طیارے کی کہانی بے نقاب ہو نے کی امید ہے۔ ہم نے مظفر گڑھ میں خود سوزی کرنے والی آمنہ اور لا پتہ ہونے والے طیارے کی کہانیوں پر قلم اٹھانے سے گریز کیا کہ دونوں کہانیاں افسوسناک اور پیچیدہ ہیں۔ آمنہ نے انصاف نہ ملنے کی صورت میں خود کو آگ لگا دی ورنہ مختاراں مائی بنا دی جاتی۔ جب آزاد میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا، اجتماعی زیادتیاں اس وقت بھی ہُوا کرتی تھیں مگر اس قسم کے واقعات شاذو نادر سُننے میں آتے تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آمنہ مرحومہ کوکچھ میڈیا رپورٹروں نے حکومت کی توجہ دلانے کی راہ دکھائی مگر معاملہ ہاتھ سے نکل گیا اور رپورٹر ویڈیو ہی بناتا رہ گیا۔ آمنہ خود سوزی نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے زندگی کے لئے پانی بھی پیا مگر بعض اوقات کچھ صدمات اور واقعات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ ایک آمنہ کی کہانی اتنی دردناک ہے جبکہ لاپتہ طیارے پر 239 کہانیاں سوار ہیں اور ان کے پیارے آس اور یاس کی کیفیت میں جل رہے ہیں۔ اغوا شدہ طیارہ اپنے ہی کسی محلے سے برآمد ہونے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔ برطانوی اخبار نے بھی شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ طالبان کے قبضے میں ہو سکتا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ طیارے کا رُخ پاک افغان طالبان کی طرف موڑ لیا گیا۔ اخبار کے مطابق طیارہ افغانستان اور پاکستان کے ان علاقوں میں ہے جہاں طالبان کا کنٹرول ہے اور طالبان بعد میں اس طیارے کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ لاپتہ طیارے کی تلاش میں 30 ممالک کی ٹیمیں شامل ہیں۔ دنیا بھر کے انسان اور سائنس دان حیران اور پریشان ہیں طیارہ آخر گیا کہاں؟ امریکہ کی جانب سے بھی اسامہ بن لادن کا حوالہ دیتے ہوئے الزام تراشی کی جا رہی ہے کہ طیارہ بھی اسی خطے میں چھپا لیا گیا ہے۔ طیارہ کے لاپتہ ہونے سے زیادہ اس بات پر حیرانی ہے کہ جو امریکہ اوپر چاند پر پہنچ گیا اسے نیچے زمین کی چیزیں کیوں دکھائی نہیں دیتیں۔ جس امریکہ کو اپنی سرزمین کے اندر بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرانے والے طیارے دکھائی نہ دے سکے اسے اتنی دور بیٹھے پاک افغان خطے میں داخل ہونے والا گمشدہ طیارہ دکھائی دے گیا؟ امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ روکا تو حیرت اس وقت بھی ہوئی تھی کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔ سازش کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی، کہیں سے بھی کسی بھی صورت میں نمودار ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے قریباً ہر ٹی وی چینل پر نجومی بٹھا رکھے ہیں مگر سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ستاروں میں تقدیریں تلاش کرنے والے کسی ’’جادوگر‘‘ نے طیارے کا اتہ پتہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نائن الیون کے واقعہ کی طرح ملائیشین طیارہ کی گمشدگی کے پیچھے بھی سازش کی بُو آ رہی ہے۔ ادھر الطاف حسین کو سکرپٹ لکھ کر دے دیا جاتا ہے اور وہ بھی بغیر ناشتہ کئے پڑھ کر سُنا دیتے ہیں۔ الطاف حسین کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ الطاف بھائی کو تیزابیت کا عارضہ ہے جبکہ حلیم تیزابیت کے لئے انتہائی خطرناک غذا ہے۔ فوج کو دعوت ’’تیزابیت‘‘ کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستان کی جمہوریت باہر والوں کو سوٹ نہیں کرتی اور آمریت حکم عدولی کا سوچ نہیں سکتی۔ ملائیشین طیارے کی گمشدگی کو اسامہ بن لادن کی کہانی سے جوڑا جا رہا ہے۔ ملائیشین طیارہ کو لاپتہ ہوئے دو ہفتے ہو رہے ہیں مگر دنیا بھر کی جدید ٹیکنالوجی بھی طیارے کا کوئی سراغ لگانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ طیارہ ایبٹ آباد کی طرح پاک افغان خطے میں کہیں سے بازیاب کر لیا جائے گا۔ حیرانی یہ نہیں کہ طیارہ اغواہ ہُوا ہے یا تباہ۔ پریشانی اس بات پر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک طیارہ نظروں سے اوجھل ہو جائے؟