جنگلی بِلّا اور وزیرِ اعظم کا مور

کالم نگار  |  اثر چوہان
جنگلی بِلّا اور وزیرِ اعظم کا مور

رائے وِنڈ میں وزیرِاعظم نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ ’’جاتی عُمرا‘‘ میں داخل ہو کر وزیرِاعظم کا لاکھوں روپے کا مالیتی مور کھانے والا جنگلی بِلّا پکڑ لِیا گیا ہے۔ ایک نجی ٹی کے مطابق اِس بِلّے کو پکڑنے والے اہلکاروں کو تعریفی اسناد سے بھی نوازا گیا ہے۔ اِس سے پہلے خبر آئی تھی کہ ’’جنگلی بِلّے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر مامور 21 اہلکاروں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسِز جاری کئے گئے، جِن کی غفلت سے جنگلی بِلّا ’’جاتی عُمرا‘‘ میں داخل ہُوا اور وزیرِاعظم کے قیمتی مور کو کھا گیا۔‘‘ اہلکاروں کو تعریفی اسناد سے نوازکر میاں نواز شریف نے ’’اہلکار نوازی‘‘ کا مظاہرہ کِیا ہے۔ اِس لئے کہ یہ اہلکار تعریفی اسناد کے اُس وقت مستحق ہوتے جب وہ جنگلی بِلّے کو وزیرِاعظم کے مور کا گوشت کھاتے اور ہڈیاں چباتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے۔ بہرحال اب جاتی عُمرا میں تعینات اہلکار یا وفاق یا پنجاب کی کوئی خفیہ ایجنسی جنگلی بِلّے سے تفتیش بھی کرے گی اور اگراُس کا جُرم میں ثابت ہو گیا تو اُسے عدالت سے سزا بھی دلوانے کی کوشش کرے گی۔
اب مسئلہ یہ ہو گا کہ جنگلی بِلّے پر عام عدالت میں مقدمہ چلایا جائے یا انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں؟ اور یہ کہ اگر جنگلی بِلّے نے صحتِ جُرم سے انکار کر دیا تو؟ کیا اُس کا D.N.A ٹیسٹ کرایا جائے گا؟ اور کیا جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار کوئی این جی او عدالت میں جنگلی بِلّے کی قانونی مدد کے لئے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرے گی؟ یا عدالت ملزم جنگلی بِلّے کو مجرم قرار دینے سے پہلے اُس کے لئے سرکاری خرچ پر وکیل صفائی مقرر کر دے گی؟ اگر مُلزم چالاک نِکلا اور اُس کا وکیل بھی قانونی دائو پیچ کا ماہر ہُوا اور اُس نے کسی خُدا ترس ڈاکٹر سے بِلّے کی 9 یا 9 سے زیادہ بیماریوں کا سرٹیفیکیٹ لے کر عدالت میں پیش کر دِیا اور یہ مطالبہ بھی کِیا کہ ’’جنگلی بِلّے کے میڈیکل چیک اَپ کے لئے ہر مرض کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا بورڈ بنایا جائے؟ یا اُس پر فردِ جُرم عائد کرنے سے پہلے اُسے امریکہ برطانیہ یا کسی اور مُلک میں علاج کے لئے بھیجا جائے تو؟
جنگلی بِلّے کا پہلا جُرم تو یہ ہے کہ وہ وقت اور اجازت لئے بغیر وزیرِاعظم کی ذاتی رہائش گاہ میں گھُس آیا۔ یہ اُس کا جنگلی پن یعنی بدتہذیبی تھی؟ دوسرا جُرم یہ ہے کہ وہ وزیرِاعظم کے پالتو اور قیمتی مور پر جَھپٹا اور اُس کی تِکّا بوٹی کئے بغیر اُسے کچاّ ہی چبا گیا اگر بِلّا جنگلی کے بجائے ’’تہذیب یافتہ‘‘ ہوتا تو وہ مور کا ناچ دیکھتا۔ اُسے داد دیتا اور حسبِ توفیق انعام دے کر وہاں سے رُخصت ہو جاتا اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے جنگل کی کسی کم قیمت مخلوق کے گوشت اور ہڈّیوں سے پیٹ کی آگ بجھا لیتّا۔ مجھے تو یہ جنگلی بِلّا شرارت پیشہ لگتا ہے۔ کیا یہ  مشرق سے آیا تھا یا مغرب سے؟ کہیں اِسے ’’احرار اُلہند‘‘ یا ’’احرار اُلِاسرائیل‘‘ نے تو نہیں بھیجا؟ ’’محبِ وطن طالبان‘‘ اور حکومت کے متوقع مذاکرات کو ’’سبو تاژ‘‘ کرانے کے لئے؟ مَیں حیران ہُوں کہ مولانا سمیع اُلحق اور چودھری نثار علی خان نے جنگلی بِلّے کی مذمّت میں کوئی بیان کیوں نہیں جاری کیا؟
ایک اہم بات یہ کہ اگر جاتی اُمراء کے اہلکاروں نے جِس جنگلی بِلّے کو گرفتارکر کے تعریفی اسناد بھی وصول کر لی ہیں وہ اصل ملزم نہ ہو، اُس کا ہم شکل جُڑواں بھائی ہو جو کئی سال پہلے (بچپن میں) میلہ چراغاں میں اُس سے بچھڑ گیا ہو۔ پھر تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ گرفتار کِیا جانے والا جنگلی بِلّا اپنے مفرورُ بھائی کی بازیابی کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ عام طور پر ہماری پولیس جِس کسی کو ملزم قرار دے کر پکڑ لیتی ہے اُسے مجرم ثابت کرنے کا فن بھی جانتی ہے۔ ملزم نہ سہی اُس کا بھائی سہی؟ ایک اور بات کہ ’’ہاتھی اور مور کی چِنگھاڑ تو بہت مشہور ہے۔ فرض کِیا کہ پکڑے جانے والا جنگلی بِلّا وہی ہے کہ جِس نے وزیرِاعظم کے مور کو ہڑپ کِیا تو کیا وہ مور اپنی جان جانِ آفریں کے سُپرد کرنے سے پہلے چنگھاڑا نہیں ہو گا؟ کیا اُس کی حفاظت یا خِدمت کے لئے مامور21 اہلکاروں نے اُس کی چنگھاڑ نہیں سُنی ہو گی؟ کیا وہ اُس وقت آپس میں کوئی "Indoor Game" کھیل رہے تھے؟
’’بھگت‘‘ (عبادت گُزار) کا رُوپ دھار کر پانی سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑنے والے ’’بگلے‘‘ کو  ’’بگلا بھگت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وزیرِاعظم کا مور جنگلی بِلّے کو ’’بگلا بھگت‘‘ سمجھ کر خود ہی اُس کے پاس چلا گیا ہو؟ اگر جنگلی بِلّے کا وکیل عدالت کو اِس نُکتے پر قائل کر لے تو ملزم بِلّا بری بھی ہو سکتا ہے یا وہ سزائے موت سے تو بچ ہی جائے گا۔ جناب آصف زرداری صدرِ مملکت تھے تو انہوں نے ایوانِ صدر میں ایک بِلّی پال رکھی تھی جِسے وہ اپنے عُہدے سے سبکدوش ہوتے وقت وہِیں چھوڑ گئے تھے۔ پھر پتہ نہیں چلا کہ کیا اُس بِلّی کو صدر ممنون حسین نے Adopt کر لِیا۔ کیا اُس نے اپنا گھر بسا لِیا؟ کیا وہ باقی عُمر یادِ الٰہی میں گُزارنے کے لئے جنگلوں میں چلی گئی؟ کہیں وزیرِاعظم کا مور کھا جانے والا جنگلی بِلّا اُس بِلّی کی تلاش میں تو نہیں آیا تھا؟ اور وہ غلطی سے لاہور میں جنابِ زرداری کے بم پروف محل کے بجائے وزیرِاعظم کی ذاتی رہائش گاہ میں گھُس گیا؟ اور ’’کھسیانا بِلّا‘‘ بن کر وزیرِاعظم کا مور کھا گیا۔ جنابِ زرداری نے گذشتہ جنوری میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا نام لئے بغیر انہیں ’’دُودھ پینے والا بِلّا‘‘ قرار دیا تھا۔ اِس کا جناب پرویز مشرف نے بُرا بھی منایا تھا۔ دروغ بر گردنِ ڈاکٹر امجد ملک کہ ’’مجھ سے میرے قائد نے مُسکراتے ہُوئے کہا تھا  ؎
’’یُوں تو پیتے ہیں ہزاروں اور بھی
اِک مشرفؔ کیوں بھلا بدنام ہے؟‘‘
فارسی میں مور کو ’’طائوسؔ‘‘ کہتے ہیں اور ایک ایرانی ساز کو بھی طائوسؔ ہی کہا جاتا ہے۔ اگر جنگلی بِلّے اور طائوس کی واردات جنرل پرویز مشرف کے دَورِ صدارت میں ہوتی تو خبر کچھ یُوں بنتی کہ ’’جنگلی بِلّا‘‘ صدرِ پاکستان کا طائوسؔ اُٹھا کر لے گیا اور ساتھ میں رباب ؔ بھی‘‘ مُغل بادشاہ شاہ جہاں (1592ء سے 1666ئ) نے تختِ سلیمانؑ کی نقل میں اپنے لئے ہِیرے جواہرات سے مرصّع ’’تختِ طائوسؔ‘‘ بنوایا تھا۔ جِس پر ایک مرصّع مور پر پھیلائے کھڑا تھا۔ 1739ء میں ایران کا بادشاہ نادر شاہ دُرانی ہندوستان پر حملہ آور ہُوا، لُوٹ مار کی اور تختِ طائوس اور کوہِ نُور ہیرا لے کر وطن واپس چلا گیا تھا۔ وزیرِاعظم کا لاکھوں روپے مالیت کا مور ’’جرمِ ضعیفی‘‘ کی سزا پا کر آنجہانی ہو گیا۔ اب وہ زندہ تو نہیں ہو سکتا۔ میری تجویز ہے کہ آئندہ جنگلی بِلّوں کو اِس طرح کی دہشت گردی سے باز رکھنے کے لئے ، وزیرِ اعظم کا مور کھا نے کے جُرم میں پکڑے جانے والے، جنگلی بِلّے سے مذاکرات کئے جائیں؟