”شہید صحافت حمید نظامی کی یاد میں عقیدت کے چند پھول“

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران ایک ممتاز عالمی شہرت کے سائنسدان ہونے کے علاوہ پاکستان کی سب سے بڑی اور تاریخی لحاظ سے قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی واحد جامعہ کے موجودہ سربراہ ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کا ایک اعزاز جو شائد ہی کسی اور وائس چانسلر کے نصیب میں تقدیر نے لکھا ہو یہ ہے کہ ان کے والد محترم مرحوم سید شبیر حسین جو نہ صرف ایک نامور ماہر تعلیم بلکہ ایک قومی سطح کے اونچے درجے کے حامل اور مستند صحافی بھی تھے اور صحافی بھی ایسے کہ ایک معروف انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے مدیر ہونے کے علاوہ کالم نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ حال ہی میں ان کی 1991ءمیں لکھی گئی ایک نایاب کتاب المشرقی THE DISOWNED GENIUS کا ایک اور ایڈیشن شائع ہوا ہے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر مجاہد کامران کے خون میں علم و ادب میں دلچسپی اور جذبہ صحافت اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہے کہ وہ نہ صرف کئی کتابوں کے مصنف ہیں بلکہ ان کی مسلسل کالم نگاری سے ان کو ایک صحافی کے ناطے بھی ہر لحاظ سے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا شرف حاصل ہے چنانچہ ان اوصاف کا قدرتی مظہر وہ جذبہ تھا جس کے تحت انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں دو عظیم صحافیوں کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے دو خصوصی Chairs قیام کا اعلان کیا جس کا محرک یہ احساس تھا کہ نئی نسل اپنے محسنوں کی یاد کو ہمیشہ کیلئے تازہ و تابندہ رکھے ان دونوں قابل صد ہزار احترام صحافیوں جنہوں نے صحافت کے اعلیٰ ترین معیار کے علاوہ پاکستان کے قیام اور بعد میں تعمیر پاکستان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کو پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا جا سکے اس کے لئے تحریک پاکستان کے دوران بے مثال جہد مسلسل کے لئے حق گوئی اور بے باکی کے لئے مولانا ظفر علی خان کے نام نامی کا انتخاب کیا گیا جو پرانی نسل کیلئے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور نئی نسل کیلئے ان کی جدوجہد آزادی کی بے مثال قربانیوں کی طرف توجہ دلانا اس لئے ضروری ہے کہ وہ موجودہ ماحول میں نئی نسل کیلئے روشنی کا ایک مینار ثابت ہو سکیں دوسرا نام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے قابل صد افتخار استاد مرحوم و مغفور پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی ہیں اور موجودہ شعبہ صحافت کے ہر شعبہ اور ہر سطح پر شاید ہی کوئی ایسا نوجوان صحافی ہو گا جو حجازی صاحب کا شاگرد نہ رہ چکا ہو۔
گزشتہ روز جب راقم الحروف مولانا ظفر علی خان کے اعزاز میں پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ ان کے اعزاز میں تقریب میں مختلف تقاریر سن رہا تھا جس میں صحافت کے مختلف ستارے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سے مولانا کے نام پر خصوصی چیئر کے قیام کی استدعا کر رہے تھے تو وائس چانسلر کے جواب نے میرے دل کی گہرائیوں میں ایک ہلچل برپا کر دی ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ مولانا کے نام پر خصوصی چیئر کا قیام آج ان کے یوم پیدائش پر جامعہ پنجاب کیلئے باعث اعزاز ہے اور اس کیلئے کسی توجہ دلانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
اس کا رسمی اعلان پہلے سے ہی میرے دل میں تھا۔ میں نے دل میں سوچا اگر چہ اس کا اظہار نہیں کیا کہ جامعہ پنجاب جب عظیم صحافیوں کی یادوں میں جگمگا رہا ہے تو نور کی برسات کے ا س درخشاں و تاباں عالم میں قائداعظم کے نوجوان معتمد خاص جنہوں نے مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے نوجوانوں کا دل ”لے کے رہیں گے پاکستان“ کے نعرہ سے یوں گرمایا تھا کہ پورے پنجاب کے گاﺅں گاﺅں اور شہر شہر کے کوچہ کوچہ میں طالب علموں نے تحریک پاکستان کے دوران پاک وطن کی گونج کو گھر گھر پہنچا دیا تھا مجھے یاد ہے کہ 23 مارچ 1940ءکے تاریخ ساز دن جب پورے ہندوستان کے مسلمان قائدین پاکستان ریزولیوشن کے اعلان کیلئے لاہور کے منٹو پارک میں جمع تھے تو نوائے وقت کے پہلے پرچے نے پنڈال میں پاکستان کا روح پرور مژدہ سنایا جس نے حمید نظامی کو تحریک پاکستان کے ہیروز کی فہرست میں شامل کر دیا اور ہندو اخبارات ”ملاپ“ اور ”پرتاپ“ اور Tribune پر جیسے موت طاری ہو گئی ہو میری آنکھوں کے سامنے وہ نادر یادآج بھی جھلملا رہی ہے جب حمید نظامی نے ”نوائے وقت “کا پرچہ قائداعظم کی خدمت میں پیش کیا تو بانی پاکستان کے چہرے پر چمکتی ہوئی خوشی کی جھلک اور نوجوان حمید نظامی کے جذبہ کو دیکھ کر اپنے مشن کی کامیابی کا یقین دیدنی تھا اور حمید نظامی کہا کرتے تھے کہ وہ لمحہ ان کی زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ ہے 1940ءسے لیکر 1962ءتک بائیس سال کی طویل جدوجہد جو قیام پاکستان کے دوران اور اس کے بعد تعمیر پاکستان کیلئے ایک ایسی بے مثال صحافتی زندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے جو ایسی عظیم قربانیوں سے بھر پور ہے جس کی مثال شاید ہی کسی اور صحافی کی زندگی پیش کر سکے اس زندگی کے ایک ایک لمحہ پر تحقیق اور نئی نسل کو اس سے روشناس کرنے کی کاوش پوری قوم کیلئے ایک مقدس فرض کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ شاید ہی کسی صحافی نے ایسے تکلیف دہ اور ہوشربا حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے جس میں حمید نظامی نے کلمہ حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے کسی بھی جابر حکمران کے سامنے جھکانے کی بجائے جام شہادت نوش کرنا قبول کر لیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحافت کے ایسے شہیدوں کیلئے کسی جامعہ میں خصوصی چیئر کی استدعا کی بجائے ایسی چیئر کا قیام ہر جامعہ کیلئے باعث صدافتخار ہے۔