ہیں کواکب کچھ‘ نظر آتے ہیں کچھ

کالم نگار  |  سعید آسی

کیا عدلیہ اور عدالتی فیصلوں کے احترام کا یہ تقاضا ہے؟ پبلک جلسوں اور اخباری بیانات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں‘ جب اسکے عملی مظاہرے کا موقع آتا ہے تو سپریم کورٹ کی خالی اسامی پر تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان کی بھجوائی گئی سفارشات اعتراض لگا کر واپس کر دی جاتی ہیں۔ این آر او کیس کی سماعت کے دوران عدلیہ کی آزادی کیلئے اپنا ”اخلاص“ ظاہر کرنے کی خاطر حکومت کی سطح پر اس کیس کی پیروی نہیں کی جاتی مگر جب فیصلہ صدر مملکت اور دوسری حکومتی شخصیات کےخلاف آتا ہے تو نہ صرف اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جاتا ہے بلکہ عدلیہ کو رگیدنے کے جرنیلی آمریت والے ہتھکنڈے بھی اختیار کرلئے جاتے ہیں۔ اس وقت چاروں ہائیکورٹوں میں ججوں کی 60 سے زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہیں‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تقرری کیلئے بھجوائی گئی سفارشات کی فائل دبالی گئی ہے کہ ان سفارشات پر عملدرآمد سے من پسند تقرریوں کا راستہ بند ہو جائیگا۔ پھر عدلیہ کے احترام کی بات کرتے ہیں اور قانون و آئین کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کیلئے عدلیہ کا ایکا توڑنے کی خاطر اپنے سازشی گھوڑے دوڑانا شروع کر دیئے جاتے ہیں‘ جو چیف جسٹس ہائیکورٹ کے ”رشمالُو“ میں بھی بڑھکیں لگاتے اور تفاخرانہ انداز میں آنکھیں نچاتے نظر آتے ہیں....ع
ہیں کواکب کچھ‘ نظر آتے ہیں کچھ
تو جناب عدلیہ کی آزادی پر یقین کا اظہار اور عدالتی فیصلوں کا احترام ایسے نہیں ہوتا‘ اب این آر او کیس کے جاری کردہ سپریم کورٹ کے مفصل فیصلہ نے واضح لائن کھینچ دی ہے۔ آپ اس فیصلہ کو ہر متعلقہ شخص پر خلوص دل سے لاگو کرینگے اور اس پر عملدرآمد کیلئے حکومتی‘ ریاستی مشینری کو بروئے کار لائیں گے تو آپ کے دعوﺅں کے اخلاص کا بھی یقین آجائیگا جبکہ آپکے انداز و اطوار تو کچھ اور ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ تو شہیدِ جمہوریت بننے کی راہ پر چل نکلے ہیں‘ پھر کیا ہو گا‘ آپ عدلیہ سے ٹکراﺅ مول لیں گے تو کوئی آپ کو شہیدِ جمہوریت نہیں بننے دیگا کیونکہ ملک و ملت کے خیرخواہ اور سسٹم کی بقاءکیلئے فکرمند جن قوتوں نے آپ کے ہاتھوں آزاد عدلیہ کو بحال کرایا ہے‘ وہ آپ کے ہاتھوں اس عدلیہ کی درگت نہیں بننے دیں گی۔ اب وہ زمانہ لَد گیا کہ چیف جسٹس اپنے کسی فیصلہ کو لاگو کرانے کیلئے آئین کی دفعہ 190 کو بروئے کار لا کر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے پابند ادارے کو مراسلہ بھجواتے تھے تو اس ادارے کی جانب سے دانستاً آنکھیں بند کرلی جاتی تھیں اور ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹی کے کچلے جانے کا خطرہ مول نہیں لیا جاتا تھا۔ اب تو سول سوسائٹی بھی مستعد ہے‘ میڈیا بھی چاق و چوبند ہے اور متعلقہ ریاستی ادارے بھی آئین کی دفعہ 190 کی پابندی کیلئے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اگر یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ اپنے احکامات پر ہر صورت عملدرآمد کرائیں گے اور کسی کو عدالتی احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنے دینگے تو تمام متعلقین کو اس کے پس منظر کی سمجھ آجانی چاہئے۔ اب ماضی کی طرح عدلیہ کے ساتھ ٹکراﺅ مول لے کر سرخرو ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ اس ٹکراﺅ کا آپ کے پاس کوئی آئینی‘ قانونی تو کجا‘ اخلاقی جواز بھی موجود نہیں ہے جبکہ آئین کی دفعہ 248 کا استثنیٰ تو آپ پر لاگو ہی نہیں ہوتا کہ جو فوجداری کیس آپ کیخلاف دائر ہوتے تھے‘ وہ آپکے عہدِ اقتدار سے پہلے کے ہیں۔
اگر سپریم کورٹ کو اپنے مفصل فیصلہ میں اس استثنیٰ کے بارے میں پیدا کیا گیا ابہام دور کرنے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو آپ بخوبی اندازہ لگا لیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونا ہے۔ جن مقدمات کی بناءپر آپ کے صدارتی امیدوار بننے کی اہلیت ہی نہیں بنتی تھی‘ اب وہ مقدمات بحال ہوئے ہیں تو بطور صدارتی امیدوار آپکی اہلیت کیوں چیلنج نہیں ہو گی اور جس فورم پر آپ کی اہلیت چیلنج ہو گی‘ وہ کسی این آر او کے بوجھ تلے تو دبا ہوا نہیں ہو گا۔ محرم اور مجرم میں بس ایک نقطہ کا ہی تو فرق ہے‘ جس کی پہچان کرانے میں اب سپریم کورٹ کے مفصل فیصلہ کی روشنی میں کسی کو کوئی دقت نہیں ہو سکتی۔ تو آپ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی عملداری قائم کردیں‘ سوئس عدالت میں باضابطہ طور پر کیس بحال کرا دیں‘ ملکی عدالتوں میں بھی انصاف کے کٹہرے میں آجائیں‘ آپ کےخلاف غلط اور ناجائز کیس بنے ہونگے تو انصاف کی عملداری آپکی بے گناہی ثابت کر دیگی‘ صدر مارکوس اور نائجیریا کے صدر قانون و انصاف کے شکنجے میں آسکتے ہیں تو آپ؟
یہیں پہ اٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہو گا