میں سربکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے

کالم نگار  |  خالد احمد

کابینہ کی حلف برداری کی تقریب جاری تھی کہ کابل کا صدارتی محل وزارت دفاع اور مرکزی بنک کے دفاتر طالبان نے زد پر رکھ لئے اور یوں ثابت کر دکھایا کہ ’افغان طالبان‘ مکالمے کے لئے تیار ہیں!
یہ بات، جہاں اور بہت سی باتوں کی نشاندہی کرتی ہے وہاں امریکی اسلحہ ساز اداروں کی نیت بھی آشکار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جناب بارک اوباما کی اف۔ پاک پالیسی کے انہدام کے لئے ’اسرائیلی دولت‘ اور ’بھارتی مہارت‘ یک رخ ہو چکے ہیں! اور وہ افغانستان کو مزید غیر مستحکم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہو چکے ہیں اور کابل دھماکوں اور رائفلوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج کر سوگ میں ڈوب چکا ہے!
’کیا طالبان پاگل ہو گئے ہیں؟‘ امریکی خصوصی نمائندے کی زبان پر آنے والا فقرہ، اس امر کا غماز ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان سے مکالمے، انہیں ملازمتیں اور مراعات دینے کے لئے برسرکار ہیں اور وہ ان سے برسرپیکار ہیں! ان امریکی کوششوں کو کون کنارے لگنے سے پہلے ’غرق‘ کر دینا چاہتا ہے؟ یقیناً یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں! پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے! لیکن غیر مستحکم اف۔ پاک کس کے لئے اس کے خوابوں کی تعبیر ہو سکتا ہے؟ لہٰذا ہم نے ’نشان جمہوریت‘ جناب مجید نظامی کا حالیہ بیان اسی روشنی میں دیکھا اور ہمیں یہ بلند آہنگ بیان، ان ’بھارت۔ اسرائیل‘ کوششوں کے منہ پر ایک طمانچہ بن کر لگتا دکھائی دیا!
’پاکستانی طالبان‘ کسی مرحلے پر بھی پاک فوج کے سامنے نہیں آئے، مگر طالبان پاکستان کے ترجمان ایسی ایسی باتوں کو بھی اپنے سر لیتے رہے کہ جنہیں اپنے سر لے کر وہ پاکستانی طالبان کے لئے عوامی ہمدردی کی رہی سہی رمق بھی ختم کر ڈالیں۔
ہم نہیں جانتے کہ پاکستان میں ایک اسرائیلی نمائندہ چینل محترمہ ہیری کلنٹن اور جناب ڈیوڈ ملی بینڈ کے مکالمے پر ایک ’نغمہ محبت‘ اوورلیپ کرکے کس قوت کی خدمت بجا لا رہا تھا! بل کلنٹن کے بعد ہیلری کلنٹن کس قوت کا ’ہدف‘ ہیں۔ جناب بارک اوباما کا ’وژن‘ مسخ کرنے کے کام کا آغاز محترمہ ہیلری کلنٹن کا چہرہ مسخ کرنے سے ہی شروع ہونا چاہئے تھا! ہم اس مرحلے پرفلسطین اتھارٹی کے قیام اور اس کے حقوق کے احترام کے لئے اسرائیل پر دباﺅ بڑھانے کے نتیجے میں جناب کلنٹن کے لئے ’مونیکا لیونسکی‘ کا کردار تخلیق کرنے والی ’قوت‘ کا ذکر کئے بغیر یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اب امریکہ میں بھی ’اسرائیل بے زار‘ روئیے سامنے آنے لگے ہیں! اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے کہ اسرائیل اپنی حدود سے اس حد تک تجاوز پر آمادہ ہے کہ وہ عربوں پر ’ایٹمی جنگ‘ مسلط کرنے سے بھی نہیں چوکے گا! لہٰذا چور کے بھائی گرہ کٹ پر بھی ضرب لگانا اور اسے اس کی اوقات یاد دلانا ضروری ہو چکا تھا! لہٰذا کشمیر کے ساتھ ساتھ جوناگڑھ اور مناودر کے مسائل کھڑے کرنا ضروری ہیں! پانی کے معاملات میں راوی، چناب اور ستلج کے سیلابی حقوق پورے سال پر پھیلا کر تواتر سے حاصل کرنا ہمارا حق ہے اور یہ سندھ طاس معاہدے میں شامل ہے! جب تک ہماری سیاسی اور جمہوری حکومت یہ مسائل نہیں اٹھائے گی اور ہماری مسلح افواج اس سیاسی اور جمہوری قیادت کے پیچھے پوری قوت سے نہیں کھڑی ہوں گی! یہ مراحل طے نہیں کر سکیں گے!
نشان جمہوریت جناب مجید نظامی نے چینل 5 پر ایک انٹرویو میں ایک بار پھر کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ’فوجی ایکشن‘ پارلیمنٹ کی منظوری سے شروع نہیں ہوا لہٰذا اسے دوبارہ پارلیمنٹ میں لے جا کر اس معاملے پر حقیقی ’قومی مفاہمت‘ کی مہر تصدیق لگوانا ضروری ہے!
نشان جمہوریت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے خاتمے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے بشرطیکہ ’دہشت گردی‘ کے اسباب کا خاتمہ بھی ساتھ کے ساتھ کیا جائے! انہوں نے فرمایا کہ آپ اسے ’جہاد‘ کہہ لیں یا ’جنگ‘ کہہ لیں، بات یہ ہے کہ کشمیر ہماری ’شہ رگ ہے‘ اور ’شہ رگ‘ پر ’دشمن کی گرفت‘ تسلیم کر لینا، مر جانے کے برابر ہے! لہٰذا ہمیں کشمیر کے لئے لڑنا ہی ہو گا! کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 62 ڈیم بنانے میں لگا ہے اور ہماری اجازت کے بغیر ان کی تکمیل کے بعد وہ، جو نہ کرے گا، وہ کم ہو گا! ’نشان جمہوریت‘ کا گونجیلا لہجہ کابل اور دہلی میں گونجتے روابط کی گونج پر حاوی تھا!
سندھ طاس معاہدے کی رو سے وادی، چناب اور ستلج پر مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں کوئی تعمیر پاکستان کی پیشگی اجازت اور ڈیزائن کی پاکستانی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی!
اگر نشانِ جمہوریت جناب مجید نظامی کا یہ موقف پاکستان کے کسی شہری کو ”ضرورت سے زیادہ‘ بلند آہنگ نظر آئے تو ہم اس کی خدمت میں جناب برٹرینڈ رسل کا یہ قول پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں: اپنی آراءکے تسلیم نہ کئے جانے کے خوف میں مبتلا نہ ہو کیونکہ آج کے تمام ’مسلمات‘ جب پیش کئے گئے تو وہ بھی کسی نے تسلیم نہیں کئے تھے!
بات یہاں تک پہنچ گئی ہے تو بات ختم کرنے کے لئے ایک شعر کا سہارا لے لیا جانا بھی غلط نہ ہو گا اور جبکہ شعر ہو بھی جناب عدیم ہاشمی کا! وہ کہتے ہیں....
مفاہمت نہ سکھا! جبرِ ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے