حکومت اور دولت کیلئے سیاسی افراتفری

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

فیصل آباد میں بھی صدر زرداری نے تقریر پنجابی میں کی‘ پگ بھی پہنی۔ یہ پگڑی پنجاب کے جاگیرداروں کی ہے جن کے پاس کوئی طرہ¿ امتیاز نہ تھا صرف پگڑی کا طرہ تھا۔ جاگیردار غریبوں، مزارعوں کو طرہ نہیں باندھنے دیتے تھے۔ انگریزوں نے اپنے غلاموں کو خود جاگیریں دی تھیں تو اپنے نوکروں کو طُرے والی پگڑی کی وردی پہنا دی۔ غریبوں کے لئے صدر زرداری نکلے ہیں تو کلچر کا بھی پتہ چلا¶ فیصل آباد میں تقریر کرتے ہو تو پھر کچھ فیصلے بھی کرو۔ فیصلے جو دلوں کے درمیان فاصلے ختم کر دےں۔ ایذرا پا¶نڈ نے کہا تھا کہ وہ مقناطیس کہاں کھو گیا جو دلوں کو دلوں کی طرف کھینچتا تھا۔ سیاست و حکومت میں مقناطیسیت تھی تو کہاں چلی گئی؟ صدر زرداری کہتے ہیں کہ میں موت سے نہیں ڈرتا اور تقریر بلٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر کی۔ کیا موت کو شیشے روک لیں گے؟ ان شیشوں کی کرچی کرچی آنکھوں سے دل تک اتر جائے گی۔ یہ اچھی بات کہی کہ جیالیو! بھٹو کی طرح جینا چاہتے ہو تو بھٹو کی طرح مرنا بھی سیکھو۔ لگتا ہے کہ صدر زرداری کچھ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے پھر وعدہ کیا ہے کہ میں لوگوں کو اچھی زندگی فراہم کرنے کے لئے کچھ کروںگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم موت سے نہیں بھاگتے۔ موت ہم سے ڈر کر بھاگ رہی ہے۔ بہت پہلے مولا علیؓ نے کہا کہ جو موت سے بھاگتا ہے وہ موت کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے پرچم اور بے نظیر بھٹو کی تصویریں سجائی گئی تھیں وہ مظاہرین نے جلا دیں۔ بی بی شہید ہوئی تھی تو ہر دل میں اس کی تصویر سج گئی تھی تو پھر یہ تصویریں کس سنگدل نے جلائی ہیں۔ وہ جو بی بی کی تصویر اپنی جیب میں لئے پھرتے ہیں وہ سوچیں کہ کیا وہ خود تو اس زیادتی کے ذمہ دار نہیں؟ ایک آدمی کی بٹوے سے فلمسٹار نیلی کی تصویر گر گئی۔ بیٹے نے اٹھا لی تو والد نے کہا کہ بیٹا یہ تیری امی کی تصویر ہے۔ بیٹے نے کہا کہ ابا یہ تو نیلی کی تصویر ہے۔ باپ گھبرا گیا، بیٹا میں نے رکھی تو تیری امی کی تصویر تھی پڑے پڑے نیلی ہو گئی ہو گی۔ فیصل آباد میں اس سے پہلے بھی مظاہرے ہو رہے تھے وہاں بجلی نہیں، گیس نہیں، پاور لومز بند ہیں جس شہر کی ٹیکسٹائل دنیا میں مشہور ہے صدر زرداری کہتے ہیں کہ میں نے فیصل آباد میں بنے کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہاں دھاگہ نہیں ہے۔ پہلے مظاہروں میں جیالے بھی تھے اب جیالوں کی بھی قسمیں ہیں اکثر بھٹو کے جیالے ہیں، اور کچھ جیالے جیل سے نکلے ہیں جیالے اور جیل۔ راجہ ریاض کہتے ہیں کہ یہ مسلم لیگ ن یعنی پنجاب حکومت کی شرارت ہے۔ خود راجہ صاحب پنجاب حکومت کے سینئر وزیر ہیں۔ حکومت کس کی ہے کہاں ہے، کہاں کہاں ہے، حکومت اور اپوزیشن گڈمڈ ہو گئی ہیں۔ یہ بھی سوچنا ہو گا کہ آجکل لاہور میں کس کی حکومت ہے۔ فوزیہ وہاب کہتی ہے کہ لاہور ہمارا قلعہ ہے۔ اسے فتح کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ صدر زرداری احتیاطاً فتح کرنے آئے ہیں۔ قلعے سے مراد گورنر ہا¶س ہے؟ گورنر ہا¶س کا دروازہ پھلانگ کے جیالے اور جیالیاں اندر گئے۔ پولیس اور سکیورٹی ان کو روک نہ سکی۔ فیصل آباد جاتے ہوئے موٹروے پر سکیورٹی تھی کوئی آ جا نہیں سکتا تھا۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ بیرئر توڑ کر سکیورٹی کو پریشان چھوڑ کر چلے گئے پولیس دیکھتی رہ گئی یہ کس محاذ آرائی کی تیاریاں ہیں۔
شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جلوس نکالا اور ممنوعہ اسلحے کا کھلے عام مظاہرہ کیا۔ ان کے لئے کسی سیاستدان نے کوئی صفائی پیش نہیں کی۔ البتہ دل والے آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے اسلحہ بردار لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ کون کون سیاستدان کس کس کو چھڑوا کے لے جائے گا اور پولیس دیکھتی رہ جائے گی۔کسی ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہو گا اور SP سے نہیں پوچھا جائے گا۔ شیخوپورہ کے ڈی آئی جی قربان لائن لاہور میں دفتر لگاتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے اس فیصلے پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔ نہ کوئی قانون ہے نہ پوچھنے والا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ہی قانون توڑتے ہیں۔ حکمران اپنی اپنی حکومتیں بچانے میں لگے رہتے ہیں۔ افسران اور پولیس افسران حکمرانی کرتے ہیں‘ حکمرانی کے معانی یہاں من مانی ہے ویسے پاکستان میں حکمرانی من مانی ہی ہوتی ہے۔ کسی حکمران کو معلوم ہے کہ شالیمار کالج کے کچھ طلبہ کو معمولی جھگڑے پر شالیمار تھانے میں الٹا لٹکا دیا گیا۔ بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ تھانے، عقوبت خانے ہیں۔ اچھے پولیس افسر آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر بتائیں کہ تھانہ کلچر کب بدلے گا۔ سی سی پی او پرویز راٹھور بھی پینڈو مزاج کے نفیس آدمی ہیں۔ ایس ایس پی شفیق گجر بھی دلیر آدمی ہیں۔ یہ پولیس افسران بتائیں کہ کیا شالیمار تھانے کے لوگوں کو صرف معطل کرنے سے اس بربریت کا ازالہ ہو گا۔ اور کوئی معطل پولیس ملازم کبھی برطرف ہوا ہے۔ ان کی اگلی پوسٹنگ کسی بہتر تھانے میں ہوتی ہے۔ پولیس والے جانتے ہیں کہ بہتر تھانہ کیسا ہوتا ہے۔ یہ افراتفری کیوں ہے۔ صدر زرداری لاہور میں ہیں اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف ترکی سے انگلستان چلے گئے ہیں اور وہاں بھی انہیں یہ بات کرنا ضروری تھا کہ صدر زرداری کو سیاسی عہدہ چھوڑ دینا چاہئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی عہدہ چھوڑ دینے کے بعد کیا وہ صبر کر لیں گے۔ اس کے بعد وہ کچھ اور چھوڑنے کے لئے زور دینا شروع کر دیں گے۔ جھگڑا ختم کرنے کیلئے ایک آدمی سے کہا گیا کہ وہ تمہارا نیا نیا دوست ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ سگریٹ چھوڑ دو تو تم سگریٹ چھوڑ دو اس نے کہا کہ ٹھیک ہے میں سگریٹ چھوڑ دیتا ہوں تو وہ اس کے بعد یہ کہے گا کہ میں شراب بھی چھوڑ دوں۔ !!
کہتے تھے کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد پانچ سال تک کچھ نہیں کہیں گے۔ مگر پھر سترھویں ترمیم نکل آئی اور تیسری بار وزیر اعظم بننے کی پابندی جمہوریت اور نظام کے لئے ختم کرانا ضروری ہو گیا تھا۔ اب پیپلزپارٹی کی سربراہی سے استعفیٰ کا مطالبہ آ گیا ہے۔ اتحاد اور بالخصوص حکومتی اتحاد میں شرطیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ صدر زرداری کوئی بات نہ مانتے۔ صدر بنتے ہی چیف جسٹس کو بحال کر دیتے اور بیرون ملک سے اربوں روپے واپس لے آتے۔ تو پھر نواز شریف کو اور دوسرے سیاستدانوں کو بھی یہ مشکل اور ذاتی کام کرنا پڑتا ہم جان قربان کے اعلان تو کرتے رہتے ہیں۔ اپنے مال و دولت کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے۔ جان کی قربانی سے زیادہ بڑی قربانی ہے کہ اللہ کے لئے اور قوم و ملک کے لئے اپنا مال و دولت قربان کیا جائے جبکہ یہ سب کچھ ہم دوسروں کے لئے چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔ ہم مال و دولت کے لئے جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ صدر زرداری کی بیوی اور بی بی بھی چلی گئی۔ حکومت بھی مال و دولت کی طرح ہے۔ ہمارے ملک میں دولت اکٹھا کرنے کے لئے حکومت بڑی ضروری ہے۔ اب بھی وقت ہے صدر زرداری کچھ کریں تو پھر کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک حکمران نما دولت مند مر رہا تھا کسی نے کہا کہ کچھ اللہ کی راہ میں دے دو تاکہ مرنے میں سہولت ہو۔ وہ بولا کہ میں اپنی جان تو اللہ کی راہ میں دے رہا ہوں.... اور کیا دوں؟!