باز کا ساتھی اندھا پن؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

قرآن کریم کی سورة طٰہٰ کی آیت 128 کے تفسیری حاشیے میں علامہ عبداللہ یوسف علی نے لکھا ہے :
\\\"None are so blind as those who will not see\\\"
اور پنجابی محاورہ ہے کہ ”مچھلی پتھر چاٹ کر ہی لوٹتی ہے“ یعنی بحر بے کراں کو وہ اپنی ہی راجدھانی اور آزادیوں کا بحر بے کراں سمجھنے کی غلط فہمیوں کو تب سمجھتی ہے جب زیر آب کسی چٹان سے ٹکرا کر زخموں سے نڈھال ہو جائے۔ اندھی مچھلی؟ نہیں آنکھوں والی۔ فرمان خالق و مالک ہے کہ ”اس کسی جیسا اندھا کوئی بھی نہیں ہو سکتا جس کو ہم نے بصارت اور بصیرت عطا کی ہو اور وہ اس سے کام لینے سے انکار کر دے“ میں اس جلسہ عام میں بھی موجود تھا جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے قائداعظم کے پاکستان کے عوام کی منتخب کی ہوئی اسمبلی میں شرکت کرنے والوں کو ان کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دی تھی اور مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد کے میناروں کو گواہ بنا کر اعلان کیا تھا ”میں قائداعظم کا پاکستان ٹوٹنے نہیں دوں گا اے بادشاہی مسجد کے مینارو گواہ رہنا“ اور اسی جگہ اسی مینار کے زیر سایہ رات بارہ بجے میں نے بھٹو کی آخری کسی پبلک جلسہ میں تقریر بھی سنی تھی اس وقت جب قائداعظم کا وہ پاکستان ٹوٹ چکا تھا جس کو ٹوٹنے نہ دینے کا انہوں نے بادشاہی مسجد کے میناروں کو گواہ بنا کر عہد کیا تھا۔ اس پہلے جلسہ عام میں بے پناہ ہجوم تھا اور پاکستان بچانے کے ان کے عہد پر ”جئے بھٹو!“ کے پرجوش نعرے لگا رہا تھا اور آخری جلسہ میں جو ان کی 1977ءکی انتخابی مہم کا اختتامی جلسہ تھا اس میں ایف ایس ایف والوں، پولیس والوں، بھٹو پارٹی کے عہدیداروں اور میڈیا والوں کی تعداد ان کے عوام سے زیادہ تھی۔ ٹی ہاﺅس سے جلسہ کے اختتام تک ہم سارا سفر جس ٹرک میں سوار تھے اس کے اور بھٹو کے سٹیج والے ٹرک کے درمیان بہت ہی کم فاصلہ تھا جب ہم قائد عوام کے ساتھ ناصر باغ سے لوئر مال کی طرف مڑے تھے تو سیکرٹریٹ کی طرف سے پی این اے کا جلوس آ گیا تھا رات بارہ بجے کے بعد واپسی پر میں نے حسین نقی سے پوچھا تھا ”آپ نے کیا فرق محسوس کیا؟“ اس کا جواب تھا ”فرق تو صاف ظاہر ہے“ انتخاب کے روز ہم نے جو کچھ دیکھا اخبارات کی فائلوں میں موجود اور محفوظ ہے اس کے بعد پی این اے کی تحریک کے دنوں میں قائدعوام کے ”سوہنے منڈے“ عبدالحفیظ پیرزادہ نے شالامار باغ کے پہلو میں جس جلسہ عام میں ”خون کی ندیاں بہا دیں گے“ کا ایجنڈا لہرایا تھا میں اس میں بھی موجود تھا اور قائد عوام کے دوسرے سوہنے منڈے غلام مصطفیٰ کھر کے کمیٹی باغ شیخوپورہ کے اس جلسہ عام میں بھی جس میں مصطفیٰ کھر نے بھی ایسے ہی ایجنڈے کا اعلان کیا تھا اور تاجروں کو نپٹ لینے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اسی جلسہ میں پنجاب یونیورسٹی کے ایک نامی رہ چکے طالب علم رہنما نے نوابزادہ نصراللہ خاں کی پارٹی میں رہنے اور پیپلز پارٹی اور اس کے قائد عوام کی مخالفت کرنے پر عوام سے معافی مانگی تھی۔ اس کے باوجود کیا ہوا؟ بہت لمبی کہانی ہے۔ 9 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ بار کے جلسہ اور جلوس کے بعد ایک پولیس والے کو نیم مردہ حالت میں شاہراہ قائداعظم پر ایک درخت سے لٹکا دیکھنے کے بعد جب شہر پر فوج کا قبضہ ہو گیا تھا ہم پریس کلب کی چھت پر سے اردگرد کا حال دیکھنے لگے پریس کلب اس وقت گنگا رام مینشن میں شاہراہ قائد پر ہی ہوتا تھا گولیوں کی بوچھاڑ آئی تو سید عباس اطہر نے جلدی سے مجھے چھت پر گرا اور لٹا دیا تھا۔ اس روز لاہور ہائی کورٹ کے اندر چیف جسٹس کے کمرہ عدالت کے عقب میں جسٹس شفیع الرحمن کے کمرہ عدالت کے دروازے کے سامنے بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دو معصوم عوام گولیوں کی نذر ہو گئے تھے۔ ہائی کورٹ کے احاطہ میں گولیوں کی نذر ہو جانے والے دیگر عوام ان کے علاوہ تھے اس روز واقعی لاہور کی سڑکوں پر خون کی ندیاں بہا دی گئی تھیں اور انہی ندیوں میں ڈوب جانے کے خوف سے ہر روز پیپلز پارٹی چھوڑنے والوں کے اعلانات کے لئے نوائے وقت میں جگہ کم ہوتی تھی باقی اخبارات تو سرکار کے ہوتے تھے مساوات نصرت بھٹو کا ہو چکا تھا اور نوائے وقت میں جگہ کم پڑ جاتی تھی اور لاہور کے جیالوں کا چیف ظہور عالم شہید مرحوم کی سفارش لایا تھا کہ اس کے قائد عوام اور اس کی پارٹی چھوڑ دینے کی خبر اور اعلان بھی شائع کر دئیے جائیں۔ اسے اتفاق ہی کہہ لیں کہ مارشل لا لگ جانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو جب پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ نے نہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تو عدالت عالیہ کے کمرہ سے مخدوم صادق حسین قریشی کے گھر تک میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا ذوالفقار علی بھٹو نے رہائی کے بعد پہلی پریس کانفرنس وہیں صادق حسین قریشی کے گھر کے بیسمنٹ میں کی تھی اور ایک سوال کا ان کا ”I will forget it as a bad dream“ جو اب اخبارات میں موجود ہو گا۔انہوں نے کسی چیز کو ڈرا¶نے خواب کی مانند بھول جانے کا اعلان کیا تھا یا جنرل ضیاءالحق کو پیغام دیا تھا؟ اس گرفتاری کو بشرطیکہ ضیاءالحق اس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہ کرے۔ لیکن اگر ضیاءالحق باز نہ آیا تو؟ ذوالفقار علی بھٹو کا جواب تھا THEN THE QUESTION OF JURIPRUDENCE WILL ARISE! تو پھر کیا سوال اٹھے اور کیا نہیں اٹھائے گئے تھے؟ کیا وہ مقدمہ بھی عدالت میں لڑنے کی بجائے سیاست کے میدان میں لڑنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس مولوی مشتاق مرحوم بتاتے تھے کہ انہوں نے بیگم نصرت بھٹو کو پیغام بھیجا تھا کہ اپنا وکیل بدلو مگر جواب آیا تھا ”ہم تو یہ مقدمہ سیاسی میدان میں لڑنا چاہتے ہیں“ یحییٰ بختیار کی مولوی صاحب سے ذاتی دشمنی بھی تھی۔ ڈاکٹر خواجہ صادق کی گوری بیوی یحییٰ بختیار کے پاس چلی گئی تو بچوں سے مولوی صاحب کے ہاں ملنے آتی تھی مولوی صاحب نے کہدیا تھا کہ ”بچوں کا ہی کچھ خیال کر بی بی“ یحییٰ بختیار کہتے تھے تم نے میری بیوی کو ورغلایا ہے‘ مگر اس کو چھوڑیں۔ بہت سی پس پردہ کہانیاں ہیں۔ قرآن اٹھانے اور وعدے پورے نہ کرنے کی بھی اصل بات وہی ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہے۔ بصیرت اور بصارت کا اندھا پن ہمیں چھوڑ کیوں نہیں رہا۔ مقدمات عدالتوں کی بجائے سڑکوں اور چوراہوں میں لڑنے کی روایت بھی ورثہ میں ملی ہے؟ یہ بازنگاہی ہے یا معاملہ وہی ہے۔ None are so blind والا؟ قیادت تو حالات و واقعات کو سمجھنے کی صلاحیت کی مالک ہوتی ہے مکے باز تو کھلاڑی ہوتے ہیں مکے دکھانے اور لہرانے والے۔ کیا ہمارے ماضی میں کسی کےلئے کوئی سبق نہیں؟ ہمارے نہیں اپنی گدی کے ماضی کو ہی دیکھ لیں۔ !