یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا....

کالم نگار  |  بشری رحمن

اسلام آباد میں پھر افواہیں گردش کرنے لگی ہیں کہ الیکشن نہیں ہوں گے.... ویسے تو غلام گردشیں اسی خاطر بنائی جاتی ہیں کہ وہ خالی نہ رہیں‘ ان کے اندر کوئی نہ کوئی ہمیشہ گردش کرتا رہے۔ اور گردوں ان پر کڑی نظر رکھے۔ اگر کچھ بھی نہ ہو۔ تو پھر افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے انڈسٹری تو بچاری منہ کے بل گری پڑی سسک رہی ہے مگر افواہ ساز فیکٹریاں تازہ دم ہیں۔ اور لوڈشیڈنگ کے زمانے میں وہ زیادہ افواہیں پھیلا سکتی ہیں ہم نے کسی سیانے سے پوچھا آپ کو یہ خیال کیوں آیا؟.... کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ بولے۔ بلوچستان اور کراچی کے حالات دانستہ خراب کئے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں تو باقاعدہ فوج فوج کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ فوج آئے گی تو پھر ایک حصے پر قناعت نہیں کرے گی۔ عکہتے ہیں سمٹ کر پہاڑ اسکی ہیبت سے رائیہم نے کہا آخر بلوچستان کو یونہی.... سسکتا اور تڑپتا تو نہیں چھوڑا جائے گا۔ وہاں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے۔ غضب خدا کا.... صوبائی اسمبلی بلوچستان کے اندر رکن تو کوئی ہے نہیں سب کے سب وزیر بنا دئیے گئے۔ یہی تو جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ اپوزیشن دھڑا دھڑ لوٹے بنا لیتی ہے اور حکومت وقت تھوک کے حساب سے وزارتیں تقسیم کرکے انہیں اپنے زیر سایہ غلام بنا کر رکھ لیتی ہے۔ آٹھ رکن جو مسلم لیگ ق کو وہاں نصیب ہوئے تھے۔ وہ بھی اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔ اس لئے وزارتوں کے ریلے میں وہ بھی بہہ گئے کیونکہ آلام اور آفات کے موسم میں ہمیشہ اپوزیشن آگے آکر شور مچاتی ہے۔ ڈھول پیٹتی ہے اور کچھ کرے نہ کرے حکومت کو جگا دیتی ہے۔ اب کوئٹہ میں سبھی اہل اقتدار ہیں۔ بھلا جھنڈے والی گاڑی کے نشین اتنی سخت سردی میں مظلوموں کی دلدہی کے لئے کیوں آئیں۔ جو آغوش میں لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ جمہوریت کی کامیابی کے لئے اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ تو کوئٹہ کا مسئلہ کیسے حل ہو۔ علامتی طور پر کچھ دوستانہ حزب اختلاف قسم کی چیزیں واک آ¶ٹ کرتی ہیں اور ہڑتالی کیمپ میں ذرا کی ذرا قیام کرتی ہیں اور پھر یہ کہتے ہوئے کہ آسماں بھی وقف ہے تیرے ستانے کے لئےباہر نکل جاتی ہیں۔ کیا کوئٹہ کے مسئلے کا حل صرف فوج کے پاس ہے۔کوئٹہ کے مسئلے پر علمائے کرام چپ ہیں۔ یہ چپ سی کیوں لگی ہے اجی کچھ تو بولئے؟آج مذہبی اور سیاسی تنظیموں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔ شیخ الاسلام چیخ چیخ کر سیاست کو للکارتے رہے اور ریاست بچانے کا شور مچاتے رہے؟ اس معاملے پر کیوں خاموشی سادھ رکھی ہے۔ جن خاندانوں پر قیامت گزر رہی ہے صرف وہ ہی جانتے ہیں کہ قیامت کیا ہوتی ہے۔اور سب لوگ جانتے ہیں کہ کراچی کے حالات جان بوجھ کر خراب کئے جا رہے ہیں۔ جو لوگ کراچی کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ رکھنے کے دعویدار ہیں اگر وہ کراچی کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے۔ خرابی میں ان کی رضا شامل ہے۔ آپ پوچھتے کیوں نہیں؟ بتا تیری رضا کیا ہے....؟اب جبکہ اسمبلیاں جانے پر تلی بیٹھی ہیں تو شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنے میں کس گروہ کا فائدہ ہے۔ الیکشن کمیشن اپنا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ انتخابات کو صاف شفاف بنانے کے لئے ہر روز کوئی نیا فیصلہ یا نئی ترمیم آجاتی ہے۔ ابھی کل ہی الیکشن کمشن نے الیکشن فارم کے اندر 15 نئی ترامیم کی ہیں۔ جو مثبت ہیں اور قابل عمل ہیں اگر ان پر باقاعدہ عمل کیا گیا تو امید ہے کہ 90 فیصد صحیح لوگ آجائیں گے۔ یوٹیلٹی بلز کی رسیدیں‘ ٹیکس کا نمبر آمدنی کے سارے ذرائع ملک سے باہر سفروں کی تفصیل اور مقاصد.... اس پر ہمیں یاد آیا کہ وزیراعظم کے ساتھ جو وفد جایا کرتا ہے۔ اسکی شاہ خرچیوں اور شاہانہ ہوٹلوں میں قیام کرنے کے قصے ان کے گزر جانے کے بعد نکل آیا کرتے ہیں۔ کیا اقتدار کے زمانے کی تفصیل بھی الیکشن کمیشن وزیراعظم وزراءاور ارکان سے مانگے گا۔ بڑے بڑے سٹوروں کے اندر مہنگی خریداری کا کچا رسیدی چٹھا بھی سنانا پڑے گا۔ ملکی خزانے کو پانی کی طرح بہانے کا کیا جواز پوچھا جائے گا....یا پھر گذشتہ را صلٰوة آئندہ رااحتیاط کہہ کر چھوڑ دیا جائے گا....بڑی مہین باتیں ہیں۔ سوئی کے ناکے سے نکلنے والی سارے خفیہ اکا¶نٹ ظاہر کرنے پڑیں گے۔ تو خفیہ بیویوں کا بھید بھی کھل جائے گا۔ گھروں کے گھر بے سکون ہو جائیں گے۔گذشتہ سال ہمیں انڈیا کے الیکشن کمشنر ملے اور انہوں نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ قریشی صاحب کہنے لگے ہمارے ہاں الیکشن کا عمل اتنا شفاف ہوتا ہے کہ حال ہی میں ہمارے ایک رکن صرف ایک ووٹ سے ہار گئے۔ انہوں نے رٹ کر دی۔ کمیشن نے دوبارہ گنتی کی ان کے منتخب حلقے میں سے ایک ہی ووٹ کم نکلا۔ چھان بین کی گئی کہ کس نے ووٹ نہیں ڈالا۔ گھر گئے تو پتہ چلا کہ ان کی اصلی بیگم صاحبہ شوہر کے جیتنے کی خوشی میں سہیلیوں کے ساتھ شاپنگ کرنے چلی گئی تھیں اور ووٹ نہیں ڈالا۔ بیویاں اور شوہر سن لیں۔ اصلی بیوی کا ووٹ بہت فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ شق کسی فارم میں شامل نہیں ہے مگر ہم شوہروں سے کہے دیتے ہیں کہ اس موسم میں بیویوں کو راضی رکھیں۔ خوش رکھیں۔مشرف دور میں بھی ایک واقعہ ہوا تھا۔ 2002ءکے جس دن الیکشن ہو رہے تھے۔ ایک بہت ہی مالدار امیدوار جو جیتنے کی دوڑ میں داخل ہو چکے تھے۔ ان کی بیگم بیوٹی پارلر چلی گئی تھیں سارا دن لگا کے‘ گیسو اور چہرہ سنوار کے ابھی پارلر سے نکلی ہی تھیں کہ شوہر کے ہارنے کی خبر مل گئی....ہاں یاد آیا.... مشرف دور میں بھی‘ الیکشن سے قبل یہ افواہیں پھیلائی گئی تھیں کہ یہ صرف دھوکا ہے۔ الیکشن نہیں ہوں گے.... وغیرہ وغیرہ....لیکن الیکشن بڑے دھڑلے سے ہو گئے تھے۔ آجکل بھی فارغ البال فیکٹریاں یہ افواہ اڑا رہی ہیں۔ الیکشن کا بروقت ہو جانا عوام‘ سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کرام کے حق میں ہے۔ عوام کو تیسری باری بھگتنے دیں۔ جمہوریت ٹریک پر آجائے گی.... جو لوگ جان بوجھ کر حالات کو خون آلود کر رہے ہیں ان کے لئے سخت سزائیں ہونی چاہئیں بغیر سزا کے جرم کا نشان نہیں مٹایا جا سکتا؟