کچھ باتیں اَن کہی بھی رہنے دو!

کالم نگار  |  خالد احمد
کچھ باتیں اَن کہی بھی رہنے دو!


کھربوں روپے کے ڈاکے سہتی اور لوٹ مار کے نت نئے ناکوںسے’ اللہ بھلا کرے گا!‘کہتی کہتی گھسٹتے گھسٹتے یہ قوم اُس مقام تک آن پہنچی ہے کہ اب بیٹھی سوچ رہی ہے کہ یہ ناممکن ارتقائی سفر اُس نے کیسے طے کرلیا!اور کیا اب ہمیں ملک بچانا ہے،یا، تباہ ہوتے دیکھتے رہ جانا ہے! دہشت گردی کے خلاف خصوصی عدالتوں کے قیام کے بعد اب وفاقی کابینہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے نئی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کر چکی ہے! گویا دہشت گردی کوئی اور چیز ہے! اور دہشت گردکسی اور دُنیا کے باسی ہیں!جنہیں پکڑنا اور پھر پکڑے رکھنا ایک تیسرا کام ہے! جسے شاید ہم جیسے فانی لوگوں کو اب کرنا ہی پڑ جائے گا!
رشین فیڈریشن کے صدر جنابِ ولادی میر پیوٹن نے کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے! صدر پیوٹن نے دہشت گردی کے اس واقعے کو بہیمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی! اور کہا کہ اس کارروائی کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے!پاکستان میں مذہبی عناصر کے درمیان جاری لاگ ڈانٹ ہمیں کہاں پہنچا دے گی! شاید اس کا اندازہ ہم ابھی تک نہیں کر سکے! بھارتی وزیرِ خارجہ جنابِ سلمان خورشیدنے گوادر پورٹ پاکستان اور چین کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر پورٹ پر چین کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے! اس معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان کوئی مسابقت نہیں تھی!
دُنیا ہمارے ایک ایک کام پر نگاہ رکھے بیٹھی ہے! اور ہمیں علم ہی نہیں ہو پاتا کہ ہمارے اِرد گِرد کیا ہو رہا ہے؟
ایک اطلاع کے مطابق انتخابی اُمیدواروں کے لیے اپنے اثاثے ، تین برس کی آمدن اور ٹیکس تفصیلات الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرانا لازم قرار دے دیئے گئے ہیں!سابق ارکان یہ بھی بتائیں گے کہ اُنہوں نے پانچ برس کے دوران اپنے حلقے میں کیا کیا ’کام‘ کیے؟اور گزشتہ تین برسوں میں غیرملکی دوروں ، بچوں سمیت زیرِ کفالت افراد کی تفصیلات، گھر کی مالیت ،آمدن کے ایک سے زائدذرائع اور معاف کرائے گئے قرضوں ، غیرملکی پاسپورٹوں اور بیرونِ ملک مقیم بچوں کی تفصیلات بھی مہیا کرنا ہوں گی! اُن پر یوٹیلیٹی بلز کے بارے میں بھی آگاہ کرنا ہو گا! الیکشن کمیشن نے کاغذاتِ نامزدگی میں 15 ترامیم کی منظوری دے دی ہے! البتہ نگران حکومت فنڈز جاری کرنے پر پابندی ختم کر سکے گی!ہم سب زمین پر بیٹھے آنکھیں مَل مَل کر دیکھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے خلاف جنابِ طاہر القادری کیوں اِتنے سرگرم تھے! اور اب احساس ہو رہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں نگران حکومت کے بارے میں ایک ایک بات پہلے کیوں طے کر لینا چاہتی ہیں!
جنابِ نواز شریف نے فرمایا ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی انتہا کو پہنچ گئی ہے! جب تک کوئی بڑا ہنگامہ ،یا، دھرنا سامنے نہ آئے! اِن لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی! اُنہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن عناصر کے خلاف بھی اجتماعی قومی جدوجہد کی ضرورت ہے! حالانکہ ملک میں کارِ جمہوریت کے فروغ کے لیے جنابِ صدرِ مملکت، جنابِ وزیر اعظم اورجنابِ آرمی چیف بلوچستان میں گورنر راج ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں! کیونکہ جنابِ فاروق ایچ نائیک کا فرمانا ہے کہ بلوچستان میں جمہوری حکومت کے قیام کے بغیر عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں!
ایک اور اطلاع کے مطابق جنابِ عبدالحفیظ شیخ وزارتِ خزانہ چھوڑ گئے ہیں! تاکہ اُنہیں نگران حکومت کا وزیر اعظم بنایا جا سکے!
اب ہر طرف جمہوریت کا غلغلہ برپا ہے! صدرِ مملکت نے انتخابی قواعد میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے! انتخابی نشانات میں اضافہ کر دیا ہے! اور مشابہت رکھنے والے انتخابی نشانات کا بستر گول کر دیا ہے!اِدھر پیپلز پا رٹی کے 9منحرف ارکان کی نااہلی کے لیے ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی اور صوبائی الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیئے گئے ہیں! اور اُدھر کراچی میں ایک سرکاری افسراور تین بھائیوں سمیت کل 13افرادموت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے ہیں!ہر طرف ایک قیامت برپا ہے! کہیں لوگ مر رہے ہیں! کہیں مارے جا رہے ہیں! کہیں میتیں تدفین کے انتظار میں ہیں! اور کہیں ایک سگا بھائی محض لمحاتی گھریلو جھگڑے پراپنے تین سگے بھائی خون میں نہلا دیتا ہے!اور اِدھر ہماری قسمت دیکھئے کہ جنابِ رحمن ملک کے طیارے کے انجن نے آگ پکڑ لی! وہ پی آئی اے کی پروازکے ذریعے کوئٹہ سے اسلام آباد جا رہے تھے کہ جہاز کے ایک انجن نے ٹیکسی کے دوران آگ پکڑ لی! لہٰذا اب اُن کی قسمت دیکھئے کہ وہ ایک منٹ کی تاخیر کیے بغیر سی ون 30طیارے میں بیٹھے! اور اسلام آباد پہنچ گئے!
اِن تمام باتوں سے بڑی بات یہ ہے کہ عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کا اعتراض تسلیم کرلیا گیا ہے! اور اب بھارت کشن گنگا پراجیکٹ کا ڈیزائن بدلنے پر مجبور کر دیا گیاہے!یہ بات ہمیں ایک ہی بات سکھلاتی ہے ! اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے موقف پر پوری صداقت کے ساتھ کھڑے رہیں،تو، فتح بالآخر سچ کی ہوتی ہے! اور جھوٹے کے جوتے نہیں ہوتے!کیونکہ جھوٹ کے پاﺅں ہی نہیں ہوتے!