عظیم تر پاکستان کا خواب

کالم نگار  |  محمد مصدق

سابق وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے جب نظریہ¿ پاکستان آباد کیا تھا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ چھوٹا سا ادارہ پورے پاکستان میں اپنی جڑیں پھیلانے میں کامیاب ہو جائے گا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آج نظریہ¿ پاکستان کسی ایک بلڈنگ کا نام نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط اور قابل عمل منصوبہ ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں نظریہ¿ پاکستان فورم قائم ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز پانچویں نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کا انعقاد ایوان کارکنان پاکستان میں ہونا تھا۔ تمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن سانحہ¿ کوئٹہ کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ دو روزہ نظریہ¿ پاکستان کی موجودہ تاریخ منسوخ کر کے اس کی جگہ 27 اور 28 فروری کو اس کا انعقاد کیا جائے جس میں پورے پاکستان سے نظریہ¿ پاکستان فورم کے عہدیدار اور نظریہ¿ پاکستان کی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ ڈاکٹر رفیق احمد سے جب اس کے بارے میں گفتگو ہوئی تو انہوں نے نوائے وقت کو بتایا ”نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کا بنیادی مقصد پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے نظریہ¿ پاکستان فورم سے وابستہ افراد اور تحریک پاکستان کی اہم شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ ہم نے ابھی تک کتنی کامیابی حاصل کی ہے اور مزید کامیابیاں حاصل کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے صلاح و مشورہ کیا جائے اور سال بھر کی سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لے کر اپنی غلطیوں کی اصلاح بھی کی جائے۔
مجید نظامی اور ان کے رفقا کی کوششوں سے جب نظریہ¿ پاکستان کی تنظیم کو ملک گیر شناخت مل گئی تو دوسرے بڑے چھوٹے شہروں سے وفود آنے شروع ہو گئے کہ اس عظیم ادارے کی شاخیں ان کے شہروں میں بھی قائم کی جائیں۔ اس موقع پر باہمی مشاورت سے طے کیا گیا کہ نظریہ پاکستان ادارے کی برانچیں بنانے کے بجائے نظریہ¿ پاکستان فورم بنانے کی اجازت دے دی جائے جو اپنی جگہ خودمختار ہوں گے لیکن پروگرامنگ کے سلسلہ میں ان کی پوری مدد کی جائے گی۔ نتائج بہت اچھے نکلے۔ انہیں فورمز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے سالانہ دو روزہ نظریہ¿ پاکستان کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلہ کا پانچوں پروگرام ہو گا جن کیلئے 27 اور 28 فروری کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ نشست کا افتتاح مجید نظامی 27 فروری کو صبح دس بجے کریں گے۔
ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں ہونے والی پانچویں نظریہ¿ پاکستان کانفرنس میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا کہ عظیم تر پاکستان کا خواب جو دیکھا گیا ہے اس سلسلہ میں کتنی پیشرفت ہوئی ہے اور پاکستان کو ایک اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری مملکت بنانے کیلئے آنے والے انتخابات میں کس قسم کی قیادت کو ووٹ دینا چاہئے کیونکہ جب تک دیانتدار‘ سنجیدہ اور خوشحال پاکستان کا خواب حقیقت میں تبدیل کرنے والی قیادت نصیب نہیں ہو گی اتنی دیر تک پاکستان اپنے بے شمار وسائل سے فائدہ اٹھا کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکتا اور مہنگائی‘ گیس اور بجلی کی کمی وقتی ہے‘ فعال قیادت پاکستان کو تمام معاشی مسائل سے آزاد کر سکتی ہے۔