ایوان زیریں میں الیکشن کمیشن کے توہین آمیز خط کی بازگشت

پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس منعقد ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس حسب معمول سوا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں ارکان کی حاضری مایوس کن تھی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر لیگل کی جانب سے 249 ارکان پارلیمنٹ کو لکھے جانے والے توہین آمیز خط کی بازگشت سنی یہ واحد ایشو تھا جس پر حکومت اور اپوزیشن ایک ہی صفحہ پر تھے بلکہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی دھواں دھار تقریر پر حکومتی ارکان بھی ڈیسک بجاتے رہے۔ چوہدری نثار علی خان جو حکومتی عہدیداروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے جس کی وجہ سے وہ ایوان میں آنے سے گریز کرتے ہیں لیکن وہ خاص طور پر قومی اسمبلی میں آئے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکان پارلیمنٹ کو جعلی ڈگری ہولڈرز سے ملانے پراپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور خوبصورتی سے 249ارکان پارلیمنٹ کی عزت وتوقیر کا کیس لڑا یہی وجہ ہے ان کو حکومتی ارکان کی طرف سے بھی خوب داد ملی یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی۔ سینیٹر رضا ربانی نے سینٹ میں انکشاف کیا کہ گوادر بندرگاہ کو چین کے سپرد کرنے سے روکنے کے لئے کوئٹہ میں دہشت گردی کرائی گئی ہے ،فوج طلب کر لی جاتی تو ہائی کورٹ کا دائرہ کا ر ختم ہوجاتا اور مارشل لاء کی صورتحال پیدا ہو جاتی ، اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ کے واقعہ بارے بیانات کے تانے بانے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش سے ملتے ہیں بڑی قوتیں پاکستان کو توڑنا چاہتی ہیں۔