کالاباغ کے خلاف جھوٹ ۔ شمس الملک سے مکالمہ

کالاباغ کے خلاف جھوٹ ۔ شمس الملک سے مکالمہ

آج اقبال ڈے یا پانامہ ڈے ہے، فیصلہ آ چکا ہے۔ میں جلد بازی کی دوڑ میں شامل نہیںہوں، ہر کوئی ا نہی موضوعات پر لکھ رہا ہے مگر مجھے فکر فردا لاحق ہے، اس وقت دریائے جہلم نے سری نگر میں سیلاب کی کیفیت پیدا کر دی ہے، یونیورسٹیاں اور عام تعلیمی ادارے بند ہیں، امتحانات ملتوی ہو گئے ہیں، شہر کی کئی سڑکیں زیر آب ہیں، بھارت یہ پانی کہیں درمیان میںنہیں روک سکتا ، روک سکتا بھی ہو تو نہیں روکے گا اور پاکستان کو سیلاب سے ڈبونے کی کوشش کرے گا، پاکستان بھارت کے مصنوعی سیلابوں میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے ایک ہی راستہ اختیار کر سکتا ہے کہ اپنے دریاﺅں اور ندی نالوں پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں پانی ذخیرہ کر نے کے لئے ڈیم بنائے مگر ہم طاقت، دولت اور نخوت کے نشے سے چور قوم ہیں، ہمیں اپنے حال ا ور مسقبل کی کوئی فکر لاحق نہیں، ہم دو ہزار دس میں ڈوبے، پھر دو ہزار چودہ میں ڈوبے، ہمارے کئی علاقے دو ہزارسولہ میں بھی ڈوبے، یہی پانی کہیں ذخیرہ کر لیا گیا ہوتاتو ہم تباہ کن سیلابوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔پانی کا ایک ذخیرہ کالاباغ ڈیم پر بننا چاہئے تھا۔یہ سیاست کا شکار ہو چکا حالانکہ نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کے بعد جو تقریر کی اس میں اعلان کیا کہ وہ کالا باغ ڈیم تعمیر کریں گے، انہیں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئے اور قوم کو ایک طرف سیلاب سے محفوظ بنانا چاہئے اور دوسری طرف بجلی کی پیداوار کے لئے سستا ذریعہ استعمال کیا جائے۔
انجینئر شمس الملک نے کالا باغ ڈیم کا مقدمہ لڑا، وہ واپڈا کے چیئر مین رہے ،ان کی دلیل کو دلیل سے رد کیا جائے تو تب بات بنے اور مزہ بھی آئے ، محض جھوٹ بولنے سے عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔
میرا پہلا سوال شمس الملک سے یہ ہے کہ آپ کو کالا باغ ڈیم کے بارے میں اصل حقائق اور اندر کی کی خبر کیسے ہو گئی۔
جواب: میں خیبر پی کے کا باشندہ ہو ں ، میرا گھر نوشہرہ میں دریائے سندھ کے کنارے ہے، میرے رشتے دارا س صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ جب کالاباغ ڈیم کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو میں اس منصوبے کا جنرل مینیجر تھا۔
سوال: کیاضروری ہے کہ آپ نے منصوبہ سازی میں ڈنڈی نہ ماری ہو۔
جواب:مجھے صوبہ سرحد کے مفادات عزیز تھے کہ یہ میرا اپنا صوبہ تھا، سندھ کومیں قائداعظم کا صوبہ سمجھتا ہوں،ا س لئے سندھ کے ساتھ انصاف کرنا میرے ایمان کا حصہ تھا۔
سوال: تو کیا جواب ہے آپ کے پاس کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
جواب: 1920 اور 2010 میں تو کالا باغ ڈیم نہیں تھا مگر دونوںمرتبہ نوشہرہ ڈوب گیا، اس لئے نوشہرہ ڈوبنے کو کالاباغ سے نہیں جوڑ سکتے۔کالا باغ آئندہ نہ بھی بنے اور سابقہ لیول کا خطر ناک سیلاب پھر آجائے تو یاد رکھئے کہ نو شہرہ کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔
سوال؛اور خدشہ ہے کہ پبی ، مردان اور صوابی سے کالا باغ ڈیم کی وجہ سے سیم پھیلے گی، اور وسیع رقبہ کاشتکاری کے قابل نہیں رہے گا، آپ پھر بھی کالا باغ کی حمائت کیوںکرتے ہیں؟
جواب: مجھے یہ اعتراض سن کر ہنسی آتی ہے، ا سلئے کہ کالا باغ سے مردان کا فاصلہ دوسو کلو میٹر،پبی سے دوسو تیس کلو میٹر اور صوابی سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر کا فاصلہ ہو گا،کالا باغ ڈیم ان علاقوں سے نوے فٹ نشیب میں واقع ہو گا،اگر دلیل یہ ہے کہ اس قدر دور فاصلے اور اس قدر گہرائی میں واقع کالا باغ ڈیم سے ان علاقوں میں سیم پھیل جائے گی تو اب تک تربیلہ ڈیم سے یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہوتا جو کہ صوابی کے میدانوں کے ایک سرے پر واقع ہے، مردان سے صرف پچاس کلو میٹرا ور پبی سے نوے کلو میٹر واقع ہے اور جس کے پانی کی سطح ان علاقوں سے پانچ سو فٹ بلند ہے ، اس کے باوجود تربیلہ نے کوئی سیم نہیں پیدا کی تو دور دراز اور نشیب میں بننے والا کالا باغ ڈیم کیونکر سیم کا باعث بن سکتا ہے، ایک ہی طریقہ ہے کہ جھوٹ گھڑا جائے اور جھوٹ کواس طرح پھیلایا جائے کہ اس پہ سچ کا گمان ہونے لگے۔۔
سوال:تو کیا سندھ کے خدشات بھی اسی طرح بے بنیاد ہیں، کیا کالا باغ سے سندھ بنجر تو نہیں ہوجائے گا، اس ڈیم سے دو نہریں نکلیں گی جن کا پانی پنجاب لے جائے گا تو سندھ کا کیا بنے گا، ڈیم کو بھرنے تک صوبہ سندھ کو پانی کا قطرہ بھی نہیں ملے گا،کیا یہ سب اعتراضات فضول ہیں۔
جواب:ملک میں ڈیم بنتے رہتے ہیں، ان کو بھی بھرا گیا تھا مگر کوئی صوبہ ان کی وجہ سے بنجر نہیں بنا، دریائے سندھ سے اس وقت سات نہریں خیبر پی کے اور پنجاب کو پانی دے رہی ہیںمگر ان کی وجہ سے سندھ کی زمینیں خشک نہیں ہوئیں، دو مزید نہریں کتنا پانی لیں گی ان سات نہروں سے بہت کم۔ اور یاد رکھئے،پانی کی تقسیم کا نگران اکانوے کے آبی فارمولے کے تحت ارسا کاا دارہ ہے جس میں سندھ کے دو نمائندے شامل ہیں، یہ کسی کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، نہ کرنے دیتے ہیں۔
سوال: کیا دریائے سندھ پر صرف صوبہ سندھ کو حق حاصل ہے
جواب: ہر گز نہیں، سندھ طاس معاہدہ کے تحت جہلم ، چناب اور سندھ کے پانیوں پر پاکستان کے تمام صوبوں کو حق حاصل ہے،اس معاہدے سے پنجاب کے تین دریا اس سے چھین کر بھارت کو دے دیئے گئے۔ اس لئے بقایا دریاﺅں کا پانی اکانوے کے متفقہ معاہدے کے تحت تقسیم کیا جارہا ہے۔دیائے سندھ قراقرم سے شروع ہو کر شمالی علاقوں، خیبر پی کے اور پنجاب سے گزرتا ہوا سندھ کے بعد سمندر میںجا گرتا ہے،اس لئے بالائی علاقے بھی اس کے پانی کے اتنے ہی حقدار ہیں جتنا سندھ کا صوبہ، تربیلہ ڈیم خیبر پی کے میں ہے مگر اس صوبے کو صر ف چار فیصد پانی ملتا ہے اور سندھ کو تربیلہ سے ستر فیصد میسر آتا ہے۔ کسی صوبے میں ڈیم بننے کا مطلب ہر گز نہیں کہ وہی صوبہ اس کے کلی پانی کامالک ہو گا۔ پانی کی تقسیم قانونی طور پر ارسا کے فارمولے کے تحت ہوتی ہے۔دنیا میں تمام دریا کئی ممالک سے گزرتے ہیں، کوئی ایک ملک کسی ایک دریا پر استحقاق نہیں رکھتا، تو سندھ کو دریائے سندھ پر فوقیت کیوں کر ہو گی۔
کیا کالا باغ کی مخالفت ا س وجہ سے ہے کہ اس کی بجلی مہنگی ہو گی۔
جواب: اس کی بجلی بے حد سستی ہو گی صرف ڈیڑھ روپے فی یونٹ جبکہ تھرمل یونٹ ساڑھے سولہ روپے میں پڑتا ہے۔
سوال:تو کیا مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ کالا باغ سے کم بجلی ملے گی۔
جواب: ہر گز نہیں منگلا سے تین گنا زیادہ بجلی ملے گی
سوال: کیا کالا باغ ڈیم میں پانی کم خیرہ ہو گا۔
جوب: نہیں جناب، پانی بھی منگلا سے تین گنا زیادہ ذخیرہ کیا جاسکے گا۔
سوال: تو کیا کالاباغ ڈیم سیلاب کی روک تھام کے قابل نہیںہو گا۔
جواب: بات الٹ ہے، کالا باغ کی وجہ سے ڈیرہ اسمعیل خان، وسطی پنجا ب ا ور سندھ میں سیلاب کے نقصانات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔
سوال : تو کوئی تو وجہ ہو گی جس کی بنا پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت جاری ہے۔
جواب: جھوٹ ، جھوٹ اور جھوٹ۔ اللہ نے جھوٹ کو گناہ عظیم کہا ہے، یہاں تو پچھلے تیس برس سے بیس کروڑ افراد کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا ہے، اس جھوٹ کی سزا عوام کو مل رہی ہے، جھوٹ بولنے والوں کونہیں، جھوٹ بولنے والوں کے گھروںمیں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی، ان کی فصلیںخشک نہیں ہوتیںکیونکہ وہ غریب ہاریوں کا پانی چوری کرتے ہیں،ان کو بے روزگاری کا سامنا نہیں کیونکہ ان کی اولادیں بیرون ملک پڑھتی ہیں، وہیں بزنس کرتی ہیں، جھوٹ کا نقصان صرف اور صرف بے چارے عوام کو ہے۔آہ! بے چارے عوام !