ضرب عضب اور چینی سرمایہ کاری

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
ضرب عضب اور چینی سرمایہ کاری

یہی نور خان ایئر پورٹ تھا جہاں چینی صدر کو پچھلے سال اترنا تھا۔مگر ملک کی سیکورٹی صورت حال معزز مہمان کوخوش آمدید کہنے کے لئے سازگار نہ تھی۔

دارالحکومت کا محاصرہ جاری تھا، عمران خاں کا سونامی ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور ایک دوہری شہرےت والے انقلابی شیخ الاسلام پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے سبزہ زار میں قبریں کھود رہے تھے۔
فوج کی ساری توجہ ضرب عضب پر مرکوز تھی۔ضرب عضب رکوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ یہ کہنے والے سبھی تھے کہ پہلے مذاکرات۔اس کار لاحاصل کے لئے کئی کمیٹیاں بنیں۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا حکومت خود بھی حالات سدھارنے میں تاخیر کرنا چاہتی تھی۔لگتا تو ایسے ہی تھا۔کیونکہ حکومت کو کسی نے یہ راستہ نہیں دکھا یا تھا، اس نے مذاکرات کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلائی۔ یوں دہشت گردوں کو اپنی نئی مورچہ بندی کے لئے کافی وقت مل گیا۔اگر کوئی کسر باقی تھی تو عمران خاںنے کنٹینر پر چڑھ کر پوری کر دی۔ وہ خیبر پی کے کا حکمران تھا، طالبان کے لئے اس کے دل میں ہمدردی کے جذبات تھے۔ نہ صرف وہ پاک فوج کے آپریشن کا مخالف تھا بلکہ امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت میں بھی وہ پیش پیش رہا۔ اس کے لئے اس نے جلوس بھی نکالے۔نیٹو سپلائی میں رکاوٹ ڈالنا اس کے مقاصد میں شامل رہا۔عمران اپنے طور پر درست کر رہاہو گا ۔وہ نیک نیت بھی ہو گا مگر اس سے دہشت گردی کے عفریت کو مضبوط اور مستحکم ہونے کا موقع مل گیا۔ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طالبان ہمدردی سے فائدہ اٹھا کر شمالی وزیرستان میںمورچہ زن غیر ملکی دہشت گردوںنے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کوبھی نشانے پر رکھا اور یہی ان کی غلطی تھی ۔ انہوں نے چین کے صوبے سنکیانگ میں اودھم مچا دی۔یہی وہ موقع ہے جب اسی چینی صدر نے جس کا ہم نے پر جوش استقبال کیا ہے ،یہ کہا تھا کہ چین کی سرحد پر کانکریٹ کی سر بفلک دیوار کھڑی کر دو، چین نے کسی زمانے میں ویوار چین تعمیر کر کے اپنا دفاع کیا تھا، آج کے دور میں لوہا اور سیمنٹ ملکوں کی ڈھال کی ضمانت نہیں دیتا ، اس کے لئے خون کی دیوار کھڑی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جنرل راحیل شریف اورمچی دھماکوںکے بعد چین گئے، ظاہر ہے ان کے سامنے اسی دہشت گردی کا مسئلہ رکھا گیا اور ان کے سامنے کوئی اور چوائس نہیں تھا کہ وہ شمالی وزیرستان میں بچے کھچے ملکی ا ور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہر قیمت پر کچل ڈالیں، یوں ضرب عضب کا آغاز ہوا مگر قوم ذہنی طور پر ساتھ نہیں دے رہی تھی، پشاور کے اسکول میں ڈیڑھ سو کے قریب ننھے بچوں کو شہید کیا گیا تو فوج کو ایک لکیر کھینچنا پڑی۔یہ ملک کی خوش قسمتی تھی کہ ساری قوم لکیر کے پار فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔کنٹینر والے صاحب کے بھی ہوش ٹھکانے آ گئے اور انقلابی بھائی کے توہوش اڑ گئے، انہوں نے واپس کینیڈا کی راہ لی۔یوں فوج نے یک سو ہر دہشت گردوں کا تعاقب کیا۔
پیر کے روز جب نور خان ایئر پورٹ پر چینی صدر کا طیارہ اتر رہا تھا تو ان کے ذہن میں یہ خیال بھی نہ آیا ہو گا کہ چینی سرحد پر سر بفلک دیوار کھڑی کی جائے، اس لئے کہ پاک فوج نے اپنے مقدس خون سے دہشت گردوںکے سامنے ہمالیہ سے بلند دیوار کھڑی کر دی ہے، پاک چین دوستی پہلے ہی ہمالیہ سے بلند تھی، اب شہیدوں کے خون نے اسے قوس قزح کے رنگوںمیں رنگ دیا ہے، جس کسی کو یہ دیوار نظر نہیں آتی تھی، اب اس کو بھی واضح طور پر عزم و حوصلے اور ولولے اور شجاعت اور عزیمت کی یہ لازوال دیوار نظر آنے لگ گئی ہے، اب اور مچی تو دور کی بات ہے، کسی کو اسلام آباد کے محاصرے کا خیال بھی نہیں آ سکتا۔محاصرہ کرنے والے سونامی خاں اچھے بچوں کی طرح الیکشن الیکشن کھل رہے ہیں۔
چین کے ساتھ دوستی پر میرے مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ، یہ ایک حقیقت ہے، ر وز روشن کی طرح عیاں، یہ عوام کی عوام سے دوستی ہے، یہ الگ بات ہے کہ میاں صاحبان نے چین کے پھیرے بہت لگائے، اور ہر پھیرے کے بعدکئی مژدے سنائے مگر نتیجہ کوئی نہ نکلتا تھا۔ چین نے اگلا قدم تب اٹھایا جب پاک فوج ضرب عضب میں سرخرو ہو چکی تھی، ہمیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کا شکر گزار ہونا چاہئے ا ور چین کو بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہئے، چین نے بھی ہماری خاطر جانوں کا نذرانہ دیا ہے، شاہراہ ریشم کی تعمیر ہو یا گوادر ہو یا کوئی اور پراجیکٹ ، چینی انجنیئروں اور محنت کشوںنے جان پر کھیل کر کام جاری رکھا۔شاہراہ ریشم کے چپے چپے پر جان دینے والے چینیوں کے نام کندہ ہیں۔ اب پاکستان نے بھی قربانی کا حق ادا کر دیا ہے، یہی قربانیاں ہیں جن کی بدولت چین کے معزز صدر دورے پر تشریف لانے کے قابل ہوئے۔اس دورے نے میاںصاحبان کے چہروں پر مسکراہٹ تو بکھیرنا ہی تھی مگر یقین جانئے ہر پاکستانی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چینی صدر کو خوش آمدید کہتا دکھائی دیتا ہے، میں نویں جماعت کا طالب علم تھا، جب چو این لائی لاہور آئے تو میںخاص طور پر ان کی ایک جھلک دیکھنے مال روڈ پر گھنٹوں کھڑا رہا، گورنر ہاﺅس کے سامنے باغ جناح کی ہریالی کے پس منظر میں، میںنے چو این لائی کو دیکھ کر زور زور سے ہاتھ ہلائے، مجھے یوںمحسوس ہوا کہ انہوں نے صرف میرے جواب میں ہاتھ ہلائے، ان کے چہرے پر جو بشاشت کھیل رہی تھی، وہ میرے انگ انگ میں اتر گئی۔
چین ہماری مدد کرے گا، اربوںکھربوں کی سرمایہ کاری کے منصوبے طے پائیں گے مگر ایک بات یاد درکھئے ۔چین کسی جلدی میں نہیں۔ وہ ہر کام کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرتا ہے۔اس نے ہانگ کانگ کی واپسی کے لئے پچاس برس کا انتطار کیا، اب اس کا کہنا ہے کہ تائیوان کی واپسی کے لئے مزید پچاس برس انتظار کا کشٹ اٹھائے گا، چینی بڑی صابر و شاکر قوم ہے۔ وہ ہمیںبھی یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی معیشت کو ٹھیک کرو اور کشمیر کے لئے انتظار کرو۔مگر میرے دل میں شک گزرتا ہے کہ چین کے مقابلے میںکوئی بھارت نہیں،ورنہ اسے مزید پانچ سو برس کے انتظار کے بعد بھی شاید کچھ نہ ملتا۔ہم پچاس برس تو انتظار کر چکے۔اب مودی تو کشمیر کو مکمل ہڑپ کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے، شاید ایک ضرب عضب کشمیر کے لئے بھی ضروری ہو گئی ہے، چین سے پیشگی معذرت!!