سنبھلے ہوئے گراں خواب چینی اور ہم بھٹکے لوگ

کالم نگار  |  سعید آسی
 سنبھلے ہوئے گراں خواب چینی اور ہم بھٹکے لوگ

آج یوم اقبال ہے اور پاکستان چین شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی کو مزید میٹھا، مزید بلند اور مزید گہرا کرنے کے لئے عوامی جمہوریہ چین کے صدر ژی چن پنگ پاکستان کی دھرتی پر قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ علامہ اقبال نے پاکستان کی تشکیل اور چین کی آزادی سے قبل خطے میں چین کے ممکنہ کردار کی اپنے اس شعر میں عکاسی کر دی تھی کہ…؎
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
گراں خواب چینی تو بلاشبہ خواب خرگوش سے انگڑائی لے کر سنبھل چکے ہیں اور اپنی ساری نامرادیوں کو منزل مراد سے سرفراز کر چکے ہیں مگر اس سے دو سال پہلے دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والی ارض پاکستان کے باسی ہنوز اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے اس تجسس میں ہیں کہ…؎
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
ارے ہم نے تو ابھی تک اپنا کلچر ہی پروان نہیں چڑھنے دیا۔ ارض وطن کی تشکیل کے مقاصد سے نئی نسل کو کبھی روشناس ہی نہیں ہونے دیا۔ اپنی زبان میں اتنی ملاوٹ کر بیٹھے ہیں کہ اس ملغوبے میں ہمیں کہیںاپنی ثقافت کی جھلک نظر نہیں آتی۔ یہ ملک خداداد تو ہم نے اپنا قومی تشخص اجاگر کرنے اور خود کو قومی یکجہتی کی علامت بنانے کے لئے حاصل کیا تھا مگر ہم بھانت بھانت کے بکھیڑوں میں الجھتے حرص و ہوس کے پتلے تو بن گئے، ایک قوم نہیں بن سکے۔ مصور پاکستان علامہ اقبال نے اگر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک آزاد و خود مختار الگ خطے کا خواب دیکھا تھا تو ان کی عقابی نگاہوں نے ہمالیہ کے پہاڑوں سے انگڑائیاں لیتی چینی قوم کے اس خطے میں متوقع کردار کو بھی بھانپ لیا تھا اور ہمیں تو ساڑھے 14سو سال قبل ہمارے نبی آخرالزمانؐ نے یہ گائیڈ لائن دے دی تھی کہ علم حاصل کرو، چاہے اس کے لئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ سو خطۂ چین کو تو پہلے ہی ہمارے لئے اپنا رہنما بنا دیا گیا تھا۔ اس نے تو ہمارے ساتھ وفا بھی نبھائی ہے۔ کبھی ہمارا مان نہیں ٹوٹنے دیا۔ کبھی ہمیں نیچا نہیں ہونے دیا۔ مگر ہم ہی خود کو ایک قوم نہیں بنا پائے۔ دوسروں کے کلچر اوڑھنے کے شوق میں احساس کمتری میں ایسے جکڑے گئے ہیں کہ اپنے لہجے کی مٹھاس سے بھی ناآشنا ہو گئے ہیں۔ اب ہم پاکستان چین دوستی کو شہد سے میٹھی کہتے ہیں تو اس میں مٹھاس یکطرفہ ہی نظر آتی ہے۔
کل راولپنڈی سے ایک محترم خاتون نے جو درس و تدریس سے وابستہ ہیں، اسلام آباد کی اس شاہراہ سے گزرتے ہوئے جسے عوامی جمہوریہ چین کے صدر کے دورہ پاکستان کی مناسبت سے پاک چین دوستی کی ترجمانی کرنے والے پوسٹروں، بینرز، فلیکس اور دونوں ممالک کے قائدین کے قدآدم پوسٹروں سے مزین کیا گیا ہے، مجھے فون کرکے بڑی دردمندی کے ساتھ متوجہ کیا کہ ان استقبالی بینروں میں کہیں پاکستان کی اپنی زبان اور کلچر کی جھلک نہیں دکھائی گئی۔ ایک بینر پر چینی زبان میں پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ لکھوایا گیا ہے تو اس کے نیچے بجائے اس کے یہی نعرہ اپنی قومی اردو زبان میں درج کرایا جاتا، انگریزی میں درج کرا کے اپنا کمپلیکسز کی ماری ہوئی قوم کا تشخص ابھارنا ضروری سمجھا گیا ہے اور یہ ’’کارنامہ‘‘ بھی اس ملک کے صدر کی آمد پر سرانجام دیا گیاجو ملک کے اندر ہی نہیں، عالمی روابط کے دوران بھی ہمیشہ اپنی زبان کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کے پاکستان آنے سے پہلے ہی پاکستانی حکام کو یہ پیغام دے دیا گیا تھا کہ آپ کے معزز و محترم مہمان آپ کی پارلیمنٹ سے چینی زبان میں خطاب کریں گے۔ قومی تشخص اور اپنے کلچر کو دنیا میں روشناس کرانے اور تسلیم کرانے کا یہی بہترین تدبر ہے کہ بیرون ملک جانا ہے تو اپنے کلچر کو اوڑھ کے جایا جائے۔
کیا خیال ہے ہمارے اکابرین، محترمین کا کہ کیا چینی قوم انگریزی زبان سے نابلد ہے۔ مجھے 1994ء میں بیجنگ اور چین کے صوبہ جیانگ سو جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران عام چینی کاشتکاروں، دکانداروں اور مزدوروں سے لے کر اعلیٰ مناصب والے حکام تک سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ میں اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی میاں منظور وٹو کی قیادت میں جیانگ سو جانے والے پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی وفد کا حصہ تھا اور اس دورے کے دوران ہی جیانگ سو اور پنجاب کو جڑواں صوبوں کا درجہ دیاگیا مگر ہم جہاں بھی گئے چینی قوم اپنی زبان اور اپنے کلچر کے ستون پر کھڑی نظر آئی۔ ایسا نہیں تھا کہ چینی حکام میں سے کسی کو انگریزی نہیں آتی تھی مگر وہ اپنی زبان کو چھوڑ کر بدیسی زبان میں مافی الضمیر کا اظہار اپنی ہتک سمجھتے تھے اور ہم ایسے کمبخت ہیں کہ ہمارے سفارتخانہ نے انگریزی سے چینی زبان میں ترجمہ کرنے والے انٹرپریٹرز کی خدمات حاصل کیں تاکہ چینیوں کو ہماری اردو زبان کی کہیں بھنک نہ پڑ جائے سو یہ ہزیمتیں ہم اٹھاتے رہے کہ ہمارے میزبان اپنی چینی زبان میں بات کرتے جسے انٹرپریٹر ہمارے لئے انگریزی زبان میں منتقل کرتے اور ہماری جانب سے اس کا جواب اپنی قومی زبان اردو کے بجائے بدیسی انگریزی زبان میں دیا جاتا جسے انٹرپریٹر ہمارے میزبانوں کے لئے ان کی قومی زبان چینی میں منتقل کرتے۔ اقبال علیہ رحمتہ کی نظر میں سموئے یہ گراں خواب چینی اپنے کلچر اور زبان کے ساتھ جڑے دنیا کی رفعتوں کو چھو رہے ہیں۔ ہم اپنا قد بڑھانے کے لئے چین کے ساتھ دوستی کا شہد سے میٹھی‘ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہونے کا پراپیگنڈہ کرتے ہیں مگر اپنی زبان کی مٹھاس سے اس دوستی کو آشنا نہیں ہونے دیتے۔ اگر چین کے صدر کو دکھانے کے لئے ہم نے اسلام آباد کی شاہراہ پر استقبالی بینر چینی زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں لکھوایا ہے تو اس سے ہمارے مہمان محترم کی جبیں پر بل ہی پڑیں گے کہ وہ کس بے لباس تہذیب والے لوگوں میں آن پھنسے ہیں۔ میں صدر عوامی جمہوریہ چین کے اس دورہ اسلام آباد کی افادیت کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہتا۔ اس پر بھی سیر حاصل تبصرہ کر سکتا ہوں مگر بھائی صاحب! ہم مہمان محترم کو اپنا کون سا کلچر پیش کر رہے ہیں؟ پہلے اپنا چال چلن تو درست کر لیجئے۔