تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی

اپنے زمانے میں ہمیں شورش کشمیری بہت یاد آتا ہے۔ وہ ہر زمانے کا آدمی تھا۔ ہمیں ہر وقت شورش کاشمیری کی ضرورت ہے۔ وہ زندہ آدمی زندہ تر آدمی تھا۔ وہ ایسے زمانے کا سب سے بہادر نمائندہ تھا۔
مگر اس سے پہلے مجھے ڈاکٹر خالد وحید یاد آ رہا ہے۔ وہ لوگوں میں آنکھیں بانٹتا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی یہاں آتے ہیں۔ ایک فقیر آدمی بھی آتا ہے۔ وہ دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے۔ ڈاکٹر خالد ڈاکٹر بھی بڑا ہے اور بڑا آدمی بھی ہے۔ وہ خوبصورت آدمی ہے۔ دل کا بھی خوبصورت ہے۔ وہ دیکھتا بھی اچھی طرح ہے اور دکھتا بھی اچھی طرح ہے۔ لوگ یہاں جھولیاں بھر کے آنکھیں لاتے ہیں اور پھر خوش ہو کے ڈاکٹر صاحب کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ماں اور اہلیہ گھر میں بیٹھے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی نگرانی کرتی ہیں۔ میں ان کے لیے کسی دوسرے کالم میں پورا ذکر کروں گا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان دونوں عظیم خواتین کو سلام کرتا ہوں۔
نجانے شورش کاشمیری کے ذکر میں ڈاکٹر صاحب مجھے کیوں یاد آئے۔ آنکھوں کا نور بہت بیش بہا ہے۔ ایک دل کا نور بھی ہوتا ہے۔ شورش کاشمیری نے نور بھی ریوڑیوں کی طرح تقسیم کیا ہے۔ وہ ایک للکار تھا۔ اس کی بازگشت آج ہر سچی للکار میں محسوس ہوتی ہے۔ شورش شاید صداقت، جرات اور خطابت کے قافلے کا آخری آدمی تھا جس پر پہلے آدمی کا گماں ہوتا ہے۔
ایک بہت شاندار اور یادگار تقریب شورش کاشمیری کی یاد میں ہوئی اور حیرت ہے کہ اس کی صدارت گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کی۔ غالباً خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ یہ پہلا گورنر ہے جس نے پریس کلب میں صحافیوں کے ساتھ تقریب میں شرکت کی ہے۔ صدارت کی ہے۔
یہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے شورش کاشمیری جیسے مجاہد آزادی اور ولولہ انگیز شخصیت جس کے وجود میں پوری حزب اختلاف وجد کرتی تھی، تڑپتی تھی، صدارت کی۔ انہیں کسی نے حکمران کہا تو انہوں نے کہا میں حکمران نہیں ہوں۔ جو حکمران ہو اور کہے کہ میں حکمران نہیں ہوں کتنا بڑا معزز اور محترم آدمی ہو گا۔
پریس کلب کے صدر شہباز میاں نے پریس کلب میں علمی ادبی صحافتی اور تخلیقی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔ مشہود شورش کے مشورے کے بعد شورش کاشمیری کے لیے ایک بہت زبردست تقریب ایک بڑی معرکہ آرائی ہے۔
شورش کاشمیری کے لیے اس تقریب کے لیے گورنر پنجاب ملک محمد رجوانہ نے خصوصی شرکت کی۔ وہ خود ایک علمی فلاحی تہذیبی اور دوست شخصیت ہیں۔ مشہود شورش نے گورنر ہاﺅس کے ماحول کو ایک تخلیقی ماحول دینے کی کوشش کی ہے۔ جب گورنر صاحب بھی دوستانہ فضا میں ایک اچھا تاثر عام کرنا چاہتے ہوں اور تعاون کرنے والے بھی ہوں تو بات بن جاتی ہے۔
شورش کاشمیری صبح سویرے نوائے وقت پڑھتے تھے اور پھر مجید نظامی کو فون کرتے تھے۔ یہ دن کی شروعات کا لازمی حصہ تھا۔ آج کل ہفت روزہ اور ماہنامہ رسالے کا رجحان بہت کم ہوا ہے مگر شورش کے چٹان کی اشاعت کسی روزنامہ سے کم نہ تھی۔ چٹان پڑھ کر آدمی کو محسوس ہوتا کہ وہ خود ایک چٹان بن گیا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ چٹان پڑھ رہے ہوتے۔
شورش کاشمیری کے لیے یہ تقریب ایک زبردست تقریب تھی۔ پریس کلب میں اتنے حاضرین کم کم دیکھے گئے ہیں۔ علامہ صدیق اظہر کی کمپیئرنگ نے بڑا مزا دیا۔ وہ دلیر آدمی ہے۔ بہت اچھا مقرر بھی ہے۔ تقریب میں خاور نعیم ہاشمی، سلمان غنی، علامہ سعید اظہر، علامہ صدیق اظہر، مشہود شورش، سہیل وڑائچ، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، مجیب الرحمن شامی، ملک محمد رفیق رجوانہ نے خطاب کیا۔ اس دوران کوئی بھی آدمی اٹھ کے نہ گیا۔ انہوں نے بہت جچی تلی بات کی۔ انہیں سن کر بڑا مزا آیا۔ میں نے شہباز میاں سے گزارش کی کہ یہ پریس کلب کے لیے بھی اعزاز ہے کہ وہ گورنر پنجاب کو بلایا کریں۔
شورش کاشمیری 1917 میں پیدا ہوئے اور آج 2017 ہے۔ انہیں 100 سال ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر تقریب کی اہمیت کچھ اور زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس کے لیے مشہود شورش کے شکر گزار ہیں اور شہباز میاں کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے صحافیوں کے مرکز پریس کلب میں اس بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔
میری خوش قسمتی ہے کہ میری کئی ملاقاتیں ان سے ہوئیں۔ وہ بہت بے تکلفانہ اور بے نیازانہ زندگی گزارتے تھے۔ بڑے چھوٹے کو ایک ہی گرمجوشی سے ملتے۔ وہ قادرالکلام آدمی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں صرف ایک نام یاد آتا ہے وہ مولانا ظفر علی خان تھے۔ ظفر علی خان سے بڑا تعلق شورش کاشمیری کا تھا۔ ان کے اخبار میں بھی پہلے صفحے پر ظفر علی خان کی نظم شائع ہوتی تھی۔ زمیندار کی طرح چٹان میں بھی ایک زبردست نظم شورش کاشمیری لکھتے تھے۔ ان جیسی نثر کوئی نہ لکھ سکا نہ نظم لکھ سکا۔
اس کے علاوہ ایک کتاب انہوں نے ”اس بازار میں“ بھی لکھی۔ اس میں بڑی جرات سے انہوں نے ایک بڑی جگہ کی سب باتوں کو بڑے اچھے انداز میں بیان کیا۔
صدیق اظہر کے مطابق وہ عظیم بھٹو صاحب کے بڑے دوست تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بھٹو صاحب جب مجھ سے بات کرتے تھے تو رباعیات خیام سن رہا پھر بھٹو سے دوریاں بھی ہیں۔ شورش کاشمیری کے گھر والوں کی بہت منت سماجت کر کے ان کی قبر پر پہنچا اور فاتحہ خوانی کی۔
علامہ صدیق اظہر نے کمپیئرنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقبال کا دن ضرور منایا جائے اور اقبال کی چھٹی بھی بحال کی جائے۔ پریس کلب کے معاملات کے لیے بھی خصوصی دلچسپی لینے کی بات کی گئی۔ شہباز میاں نے بھی اپنے خطاب میں ان مطالبات کو دہرایا۔
رجوانہ صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ ان باتوں کے لیے متعلقہ لوگوں سے بات کریں گے۔ اور انشااللہ یہ مطالبات پورے ہوں گے شورش کاشمیری کے لیے بھی سوچا جائے کہ ہم ان کی یاد کو آباد رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ شورش کاشمیری کی ایک نظم حاضر خدمت ہے۔
زلف و زنجیر
میں جو محسوس کرتا ہوں اگر تحریر ہو جائے
تو یہ نظم مرصع زلف یا زنجیر ہو جائے
دنا زندہ دلان شہر کی تقصیر ہو جائے
پیالہ زہر کا سقراط کی تقدیر ہو جائے
یہ لازم ہو گیا تو موت کو آواز دے لوں گا
قلم میرا وزیر و میر کی جاگیر ہو جائے
سیاسی نرخ پر اوراق مصحف بیچنے والو
مبادا دولت اسلام دامن گیر ہو جائے
ادب کے تاجروں نے آجروں سے شرط باندھی
کہ ہر مصرع نیاز و ناز کی تصویر ہو جائے