مدینتہ الاولیاء میں تین روز

مدینتہ الاولیاء میں تین روز

خراب موسم اور’’ سموگ ‘‘ کی وجہ سے ہر کوئی مدینتہ الاولیا ء کا سفر مؤخر کرنے کا مشورہ دے رہا تھا لیکن میں طے شدہ پروگرام کے تحت ہر قیمت پر ملتان پہنچنا چاہتا تھا سو میں رات کو ملتان جانے والی آخری بس پر سوار ہو گیا ۔ موٹروے پر پنڈی بھٹیاں تک ہی سفر کیا پھر ہمیں ایک نا مانوس سڑک پر ڈال دیا گیا میں نے دھند میں پہلے بھی سفر کیا تھا لیکن ’’ سموگ‘‘ میں سفر کرنے کا پہلی بار تلخ تجربہ ہوا ۔ سموگ میں حادثے کے خوف سے نیند آئی اور نہ ہی سکون کے ساتھ سفر کیا میری زندگی کا یہ مشکل ترین سفر تھا۔ کئی سال بعد مدینتہ الاو لیا ء جانے کا موقع ملا تو نقشہ ہی بدلاہوا دیکھا جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دوست پسماندگی کا ذکر کرتے تھکتے نہیں لیکن مجھے ملتان کی ترقی پر رشک آیا روزنامہ نوائے وقت ملتان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرشمیم اصغر رائو نے کہا کہ’’ اگر ترقی کا نام فلائی اوورز اور میٹرو بس ہے تو پھر واقعی ترقی ہوئی ہے لیکن ترقی فلائی اوورز اور میٹرو بس چلانے سے نہیں آتی اس کے لئے اور بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ملتان کی تعمیرو ترقی میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ‘‘۔ شمیم اصغر رائو کو ملتان میں ’’بابائے صحافت ‘‘کا خطاب مل چکا ہے ان کی ٹیم کے ارکان اشفاق احمد ، ممتاز نیازی، نوید شاہ اور ملک شکیل الرحمن حر نے مدینتہ الاولیا ء میں میزبانی حق ادا کر دیا ۔سہیل افضل اور شعیب احمدکی قیادت میں کراچی سے سینئر صحافیوں کا وفد ملتان آیا تھا میں یہ سوچتا ہوں کیا وجہ ہے جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کے مقبول ترین نعرے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو بھاری اکثریت حاصل ہوتی ہے ۔ مسلم لیگ(ن) کو جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکا وٹ سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود اس کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے امیدوار مارے مار ے پھرتے ہیں ۔ میری اس بات سے شمیم اصغر رائو نے جزوی طور پر اتفاق کیا اور کہا کہ ’’ ملتان سے باہر نکلیں ہر طرف غربت منہ کھولے غریبوں کو نگلنے کے لئے کھڑی نظر آتی ہے‘‘ ۔ ناشتہ کے بعد میں کچھ دیر کے لئے سو گیا اس دوران راولپنڈی ، اسلام آباد ،ہزارہ ، آزاد جموں وکشمیر ، فیصل آباد،کراچی ، حیدر آباد ،بہاولپور اور رحیم یار خان اور لاہور سے سینئر صحافیوں کے وفود ملتان پہنچ گئے دوپہر کے کھانے سے تقریبات کا آغاز ہو گیا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدرکی حیثیت سے راقم السطور کو ہر تقریب کے اختتام پر اظہار خیال کی ’’جبری‘‘ ذمہ داری ادا کرنی پڑتی تھی ملتان کے میئر چوہدری نوید ارائیں کی جانب سے پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا ظہرانے کے بعد پورے پاکستان سے آئے ہوئے صحافیوں کو حضرت بہائو الدین زکریا اور حضرت شاہ رکن عالم کے مزارات پر لے جا یاگیا حضرت شاہ رکن عالم کے مزار پر چادر چڑھانے کے بعد صحافیوں کی دستار بندی کی گئی بعد ازاں دمدمہ سے پورے شہر کا نظارہ کرایا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے ملتان میں تین روز ہ قیام کے دوران جن شخصیات نے تقریبات کا اہتمام کیا ان میں سید فخر امام ،مخدوم جاوید ہاشمی ، رفیق رجوانہ ، شاہ ،محمود قریشی اور رانا محمود الحسن شامل ہیں جماعت اسلامی کے وقار لیاقت بلوچ کی ملتان آمد سموگ کی نذر ہو گئی سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور دیگر سیاسی شخصیات بھی تقریبات کا انعقاد کرنا چاہتی تھیں لیکن منتظمین کے پاس مزید تقریبات کی گنجائش نہیں تھی ۔ ملتان کی سیاسی شخصیات سے میرا دیرینہ تعلق ہے ۔مخدوم جاوید ہاشمی واحد شخصیت ہیں جن سے کم و بیش نصف صدی سے میرا یارانہ ہے سید فخر امام سے کم وبیش 37سال سے دوستی ہے شاہ محمود قریشی سے بھی دیرینہ تعلق ہے ۔ رانا محمود الحسن سے تو ان کے والد رانا نور الحسن سے اس وقت سے یاد اللہ ہے جب وہ جلاوطنی کے دوران مسجد نبویؐ میں افطار میں میاں نواز شریف کے مہمان ہوتے تھے ۔تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائم مقام پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے شاہ محمود قریشی اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ’’کپتان‘‘ پچھلے ساڑھے چار سال سے قومی اسمبلی میں غیر حاضر ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ان کی پارلیمنٹ میں کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ عمران خا ن کی غیرحاضری میں انہیں پارلیمنٹ میں جوہر خطابت دکھانے کا موقع مل رہا ہے انہیں جوش خطابت میں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی تقریر کس قدر طوالت اختیار کر گئی ہے ان کی طرف سے دئیے گئے عشائیہ کے عوض ہمیں ان کا ایک گھنٹہ کا لیکچر بھی سننا پڑا انہوں نے موجودہ حالات میں جہاں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی وہاں انہوں نے ملک کو درپیش سیاسی بحران پر بھی اظہار خیال کیا شاہ محمود قریشی نے جمہوریت پسند ہونے کے ناطے اپنی پارٹی کے کردار کو اجاگر کیا شاہ محمود قریشی کا موقف ہے کہ موجودہ حکومت اپنا مینڈیٹ کھو چکی ہے لہٰذا ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے فوری انتخابات کرائے جائیں ۔ راقم السطور نے شاہ محمود قریشی کو مشورہ دیا کہ تحریک انصاف ملک کی دوسری بڑی جماعت ہے اس کی قوت ’’جلسوں اور دھرنوں ‘‘ میں ضائع کرنے کی بجائے پارٹی کی از سر نو صف بندی کی جائے تاکہ 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف پوری تیاری کے ساتھ حصہ لے سکے ۔ اگلی صبح کا ناشتہ سید فخر امام کی رہائش گاہ پر تھا سید فخر امام سے میری 1980ء سے دوستی ہے جب وہ ضیاء الحق کابینہ میں وفاقی وزیر بلدیات تھے میں نے ان جیسے بہت کم بااصول سیاست دان دیکھے ہیں جب ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین کی نشست ایک ووٹ سے ہار گئے تو ضیاء الحق کابینہ سے استعفیٰ دے دیا قومی اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے مارشل لاء کے خلاف تاریخی رولنگ دینے کے ’’جرم‘‘ میں سپیکر شپ سے محروم ہو گئے لیکن پارلیمانی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ۔ میری ان کی دانشور اہلیہ و سیاست دان بیگم عابدہ حسین کی موجودگی میں اسلام آباد میں ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں دونوں ایک ہی جماعت مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہوتے بھی الگ الگ جماعتوں کے ٹکٹ پر انتخاب لڑتے رہے ہیں ۔میاں نواز شریف سید فخر امام کو تو پارٹی ٹکٹ دینے پر تیار ہو گئے لیکن بیگم عابدہ حسین کو دوبارہ اپنی پارٹی میں قبول نہیں کیا وہ بیگم عابدہ حسین سے اس حد تک ناراض تھے جب میثاق جمہوریت کے بعد بیگم عابدہ حسین پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیں تو میاں نواز شریف احتجاج کرنے کے لئے لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ۔ بیگم عابدہ حسین جو سید فخر امام کی طرح ایک پڑھی لکھی سیاست دان ہیں نے کبھی میاں نواز شریف کو اپنا لیڈر نہیں مانا انہوں نے ان کے خلاف سارا غصہ اپنی خود نوشت میں نکال لیا ۔ سید فخر امام واقعی ملتان کا فخر ہیں سیاسی کردار اور علم دوست ہونے کے ناطے ان کو سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ وہ آج کل کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ سول اور فوج کے اداروں میں مختلف موضوعات پر لیکچر دے رہے ہیں انہوں نے جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور کسانوں کی بدحالی کاخاص طورذکر کیا میں نے ان سے پوچھ ہی لیا جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا جنوبی پنجاب کے سیاست دان کس حد تک ذمہ دار ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے سیاست دان اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دئیے جا سکتے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی وابستگی کس جماعت سے ہے شاید وہ تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ مخدوم جاوید ہاشمی سے زمانہ طالبعلمی سے دوستی ہے جسے ہم دونوں کم و بیش نصف صدی سے نبھا رہے ہیں سیاست کا موسم سرد ہو یا گرم ،ہماری دوستی پر کبھی اثر انداز نہ ہوا مخدوم جاوید ہاشمی بہادر سیاست دان ہیں جیل ان کے لئے ’’حجلہء عروسی ‘‘ سے کم نہیں ۔ بہادری سے جیل کاٹنا کوئی ان سے سیکھے طویل جیل یاترا نے جہاں ان کو سوانح عمری تحریر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے وہاں انہوں نے سیاسی موضوعات پر کتب بھی لکھی ہیں ۔ اس لحاظ سے اب وہ صاحب کتاب بن چکے ہیں مخدوم جاوید ہاشمی کی رہائش گاہ پر حاضری میرے دورے کا اہم حصہ تھا انہوں نے خاص طور پر اپنا بیڈ روم دکھایا۔ اگلے روز مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان پریس کلب کے ظہور الٰہی شہید ہال میں پورے ملک سے آئے ہوئے صحافیوں سے طویل نشست کی ۔ میں نے ان سے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بڑے دکھی انداز میں کہا کہ ’’صرف قومی اسمبلی کی ایک نشست کا معاملہ تھا لیکن میاں نواز شریف نے مجھے مایوس کیا کاش میاں صاحب ایسا نہ کرتے میں مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر کہیں اور نہیں جانا چاہتا تھا لیکن میرے لئے ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے کہ مجھے مسلم لیگ(ن) کو ’’خدا حافظ ‘‘ کہنا پڑا‘‘ ۔ انہوں نے مدینتہ المنورہ میں میاں نواز شریف سے ہونے والی آف دی ریکارڈگفتگو بھی بتائی تو میں سن کر حیران ہو گیا اب میں نے ان سے میاں نواز شریف کے ٹیلیفون اور ان سے سوئی ہوئی محبت کے جاگ جانے کے بارے میں استفسار کیا تو وہ یہ کہہ کر ’’محبت سویا نہیں کرتی‘‘ طرح دے گئے میں نے محسوس کیا مخدوم جاوید ہاشمی ، میاں نواز شریف کا کینٹ ایریا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر استقبال کرنے لئے تیار ہیں جو انہوں نے کچھ روز قبل کروڑوں روپے میں بیچ کر اپنی سیاست کا خرچہ گھر میں ڈال لیا ہے رانا محمود الحسن بلا کے مقرر ہیں انہوں نے اپنے عشائیے میں بتایا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے یونیورسٹیاں مانگیں تو انہوں نے ملتان کو 5 یونیورسٹیوں کا تحفہ دے دیا پنجاب کے درویش صفت گورنر رفیق رجوانہ کے ذکر کے بغیر کالم نامکمل ہو گا جو اپنے دوستوں سے ایک ٹیلیفون کال دور ہیں ’’ سموگ ‘‘ ان کی ملتان آمد کی راہ میں حائل ہو گئی لیکن ان کے جواں سال صاحبزادے آصف رجوانہ نے ظہرانہ میں اپنے ہر دلعزیز باپ کی کمی کو پورا کر دیا سائودرن پنجاب یونیورسٹی کا مطالعاتی دورہ بھی یادگار رہے گا ۔