بھارت میں وحشت کے ساتھ اٹھی انتہا پسندی

کالم نگار  |  نصرت جاوید
بھارت میں وحشت کے ساتھ اٹھی انتہا پسندی

آبادی کے لحاظ سے بھارت کے سب سے بڑے صوبے یوپی میں ریاستی اسمبلی کے لئے انتخابات کے مراحل ختم ہوئے تو میں ہرگز حیران نہیں ہوا۔صرف تین سال قبل اسی صوبے سے نریندرمودی کی ہندوانتہاءپسند جماعت نے لوک سبھا کے چناﺅ کے دوران 45فی صد کے قریب ووٹ لئے تھے۔مجھے فیلڈ میں جائے بغیر پورا یقین تھا کہ یہ جماعت اب صوبائی حکومت بھی بنائے گی۔سوال میرے ذہن میں صرف یہ رہا کہ متعلقہ اسمبلی کی 403میں سے کتنی نشستیں حاصل کرنے کے بعد ؟۔
خود کو لیفٹ /لبرل وغیرہ کہلواتے میرے کئی بھارتی صحافی دوست اگرچہ مجھ سے متفق نہ تھے۔ وہ بضد رہے کہ اقتدار میں 3برس گزارنے کے بعد بھی مودی سرکار معاشی حوالوں سے کوئی بڑا کارنامہ نہیں دکھاپائی ہے۔کالے دھن کو ختم کرنے کے نام پر نوٹ بندی کے فیصلے نے بلکہ اس کے کٹرحامیوں کو بھی ناراض کردیا ہے۔کئی دھندے نقدی کی عدم فراہمی کے باعث ٹھپ ہوئے نظر آئے۔روزانہ اُجرت کے محتاج بہت سے افراد اس کی وجہ سے خودکشی پر بھی مجبور ہوئے۔دوکانیں اور بازار سنسنان ہوگئے۔
مجھے بتایا گیا کہ وزارتِ عظمیٰ کے تین سالوں نے مودی کی حقیقت پورے بھارت کے عام آدمی کے سامنے عیاں کردی ہے۔وہ صرف جذباتی تقاریر اور غیر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے شعبدہ نماحرکات میں مصروف رہتا ہے۔یوپی کا ویسے بھی ایک مخصوص مزاج ہے۔22کروڑ کی آبادی والے اس صوبے میں مسلمان کم از کم 20فی صد ہیں۔ان کا ایک مستحکم”ووٹ بینک“ ہے جو نچلی ذات کی نمائندہ جماعتوں کے ساتھ مل کر ہندوانتہاءپسندی کو یوپی پر مسلط نہیں ہونے دیتا۔انتخابی نتائج نے ان خوش گمانیوں پر مبنی تجزیوں کو بالآخر جھٹلادیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی اور 15سال کے طویل وقفے کے بعد مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت کو حکمرانی نصیب ہوگئی۔
2014ءکے عام انتخابات سے قبل بھارت کی تاریخ اور معاشرت کو بہت اشتیاق سے سمجھنے والے ولیم ڈال رمپل William Dalrympleجیسے لوگ پریشان ہوئے یہ بات جاننے کو بے چین رہے تھے کہ خود کو سکیولر،لیفٹ یا لبرل کہلوانے کے شوقین بھارتی صحافی اور دانشور اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کررہے کہ مودی کی صورت میں ہندوانتہاءپسندی تعصب کی انتہاﺅں کو چھورہی ہے۔وہ خود کو اس دلیل کے ساتھ دھوکا دے رہے ہیںکہ مودی کی انتہا پسندی”سیاسی“ ہے۔وہ اسے ایک مستحکم ووٹ بینک قائم کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔متعصبانہ نعروں کی بدولت گجرات میں اقتدار پر مکمل قبضہ جمانے کے بعد اس نے پوری توجہ مگر گڈگورننس پرمرکوز رکھی تھی۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے صوبے میں نئے کاروبارکھولنے پرآمادہ کیا اور عام لوگوں کو ترقی اور خوش حالی کی طرف بڑھنے کی راہ دکھائی۔
یوپی کے حالیہ انتخابات کے لئے چلائی مہم کے دوران بھارتیہ جنتاپارٹی کا بنیادی نعرہ”وکاس“ہی رہا۔یہ انگریزی کے Developmentکا متبادل ہے۔اُردو میں اسے ہم ”ترقی وکمال“ بھی کہہ سکتے ہیں۔”وکاس“ کے بارے میں مچائے شور کے باوجود حقیقت یہ بھی رہی کہ نریندرمودی کی جماعت نے کسی ایک مسلمان امیدوار کو بھی ٹکٹ نہیں دیا۔اس کی جماعت ان شہروں میں بھی کامیاب ہوگئی جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 60 فیصد ہے۔ایسے ہی شہرو ں میں دیوبند بھی شامل ہے۔1866ءمیں یہاں ”قوم پرست“ علماءنے ایک شہرئہ آفاق ”دارالعلوم“کی بنیاد رکھی تھی۔اس مدرسے کے نمائندہ علماءنے دوقومی نظریے کی شدید مخالفت کی اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک جدامملکت کے حصول کی جدوجہد کو بہت ضداور استقامت کے ساتھ کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی۔اس شہر سے صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہوتے ہی وہاں کے نمائدے-برجیش سنگھ-نے اب یہ عہدکیا ہے کہ دیوبند کا نام بدلنا ہوگا۔مہا بھارت میں اس شہر کا ذکر ہے۔اپنے جنگلات کی وجہ سے اسے ”دیوبن“ کہا جاتا تھا۔اس نام کو بحال کرنا ہوگا۔
دوروزقبل اس کالم کے لئے مواد ڈھونڈتے ہوئے میں نے سوچا تھا کہ برجیش سنگھ کے اعلان کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیوبند کے بارے میں فخر کرتے چند اکابرین کو ”ہورچوپو“نوعیت کے طعنے دئیے جائیں۔ہفتے کی شام مگر اپنے پھکڑپن کو بھلاکر میں ہکا بکا ہوجانے پر مجبور ہوگیا۔
یوپی کی انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے جان بوجھ کر اپنے کسی شخص کو ممکنہ وزیر اعلیٰ کے طورپر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ ممکنہ وزیر اعلیٰ کا نام دئیے بغیر ووٹ صرف اور صرف مودی کی شخصیت کے لئے حاصل کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔کیونکہ یہ شخصیت اب ”وکاس“ کی بھرپور علامت بن چکی ہے۔صرف ”وکاس“ کی اسی علامت نے اگرچہ یوپی میں اپنی تقاریر کے دوران انتہائی ڈھٹائی سے ”قبرستان اور شمسان“میں برابری کی بات کی۔
ہندوانتہا پسند اپنے مخالفین کو مسلمانوں کے سامنے ”بکری“ بن جانے کے طعنے دیتے ہیں۔کانگریسی اور دیگر جماعتوں سے انہیں شکوہ رہا کہ وہ مسلمانوں کے قبرستان کے لئے مختص زمینوں کا تحفظ کرتی ہیں۔مساجد کو سستے نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اور حج کی خاطر ہوئے اخراجات کو ریاست Subsidiseکرتی ہے۔
ان طعنوں کو سیاسی صورت دینے میں اہم ترین کردار ادتیا ناتھ نام کے ایک شخص نے بھی ادا کیا ہے۔اس شخص کا تعلق مشرقی یوپی کے شہر گورکھپور سے ہے۔نوجوانی میں یہ ”ناتھ“فرقے کارکن بن گیا تھا۔یہ فرقہ خود کو ”یوگی“کہتا ہے۔کان چھدواکر سرمنڈوائے اور گیروے کپڑے سے بدن چھپائے رہتا ہے۔وارث شاہ کے رانجھے نے بھی ”بالناتھ“سے منسوب اس فرقے میں شامل ہوکر اپنے کان چھدوائے تھے اور جوگی کے روپ میں ہیر کے سسرال پہنچ کراپنی محبوبہ کو لے بھاگا تھا۔
ادتیا ناتھ بھی رانجھے جیسا”دیوانہ بکار خویش ہوشیار“نوعیت کا ”یوگی“ہے۔1998ءمیں جب وہ 26سال کا تھا تو لوک سبھا کا سب سے کم عمر رکن بنا۔اس وقت سے آج تک وہ گورکھپور سے ہمیشہ بھارت کی قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوتا چلا آرہا ہے۔1999ءمیں اس نے گورکھپور کے ایک نواحی قصبے میں واقع ایک قبرستان میں پیپل کادرخت لگاکر وہاں اپنا”ڈیرہ“جمالیا۔اس کے ذریعے ا س نے اپنے پیروکاروں کو یوپی کے دیگرقبرستانوں پر قبضے کی راہ دکھائی۔اپنی تقاریر میں وہ تواتر کے ساتھ ہندونوجوانوں کو اس بات پر اُکساتا رہا کہ وہ مسلمان عورتوں کی قبریں کھود کر لاشیں نکالیں اور ان کی بے حرمتی کریں۔اس ”یوگی“ کی پشت پناہی میں مشرقی یوپی کے کئی چھوٹے قصبوں میں ”ٹھاکر“ہندوجتھہ بند ہوکر مسلمان گھرانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔وہاں سے نوجوان بچیوں کو اغواءکرکے ہندونوجوانوں کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے۔اس گھناﺅنے عمل کو ”گھرواپسی“ کا نام دیا گیا۔مسلمان نوجوان کسی ہندودوشیزہ سے شادی کرلیں تو اسے "Love Jihad"کہتے ہیں۔یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ مسلمان ایک حکمت عملی کے تحت ہندوعورتوں سے شادی کررہے ہیں تاکہ بالآخر اسلام،ہندوستان کا اکثریتی مذہب بن جائے۔
”گھرواپسی“ جیسی وحشیانہ تحریک کے انتہائی متحرک اس ”یوگی“ کو اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے یوپی کا ممکنہ وزیر اعلیٰ نامزد کردیا ہے۔ہفتے کی شب اس کا نام انٹرنیٹ کے ذریعے میرے سامنے آیا تو ہکا بکا رہ گیا۔مجھے اس بات کی تصدیق کرنے کو دوگھٹنے لگے کہ واقعتا ادتیا ناتھ ہی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔تصدیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے میں نے ایک ٹویٹ بھی دیکھی جس کے ذریعے کسی دل جلے نے ادتیا ناتھ کی نامزدگی کے بعد نعرہ لگایا کہ ”ہندو کا وکاس-باقیوں کا ستیاناس“۔اس ٹویٹ کو پڑھنے کے بعد مجھ میں بھارت میں بہت وحشت کے ساتھ اُٹھی ہندو انتہا پسندی کی لہر پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ہمت ہی باقی نہیں رہی۔
٭....٭....٭....٭....٭....٭....٭