’’کُش کُش اور خُود کُش حملہ آور؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’کُش کُش اور خُود کُش حملہ آور؟‘‘

کے ای  ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل میں سزائے موت پانے والے  ایم  کیو  ایم کے کارکن  صَولت مِرزا کو  حکومت کی طرف سے مُلکی قوانین و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہُوئے بذریعہ وِیڈِیو لِنک ’’ قوم سے خطاب‘‘ کرنے کی اجازت دی جانا چاہئے تھی یا نہیں؟ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اُس نے پھانسی کی سزا پانے سے پہلے اپنے بیان میں جو کچھ کہا  اُس نے جناب الطاف حسین اور اُن کی  ایم کیو ایم کی پوزیشن بہت ہی زیادہ خراب کر دِی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ’’ قدرتی یا ناگہانی موت سے پہلے اگرکوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی گُنہگار کیوں نہ ہو جھوٹ نہیں بولتا۔ عُلماء حضرات بھی یہی کہتے ہیں کہ ’’قادرِ مطلق کی طرف سے ہر انسان کے  لئے اُس کی آخری سانس تک توبہ کا دروازہ کُھلا رہتا ہے لیکن  قیامت قائم ہونے پر توبہ قبول نہیں ہوگی‘‘۔
صَولت مِرزا کے وِیڈیو پر ریکارڈ شدہ بیان میں اُس کے چہرے پر موت کا خوف نہیں تھا سنجیدگی تھی لیکن اُس نے خُود کو نشانِ عِبرت قرار  دے کر شاید توبہ کر لی ہے۔ اب یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے کہ وہ اُس کی توبہ قبول کریں یا نہ کریں؟۔ صَولت مِرزا نے کہا کہ ’’مَیں جناب بابر غوری کے گھر پر تھا جب مجھے اُن کے ذریعے الطاف حسین نے شاہد حامد کے قتل کا حُکم دِیا تھا‘‘۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ’’صَولت مِرزا نے جو کچھ کہا  غلط ہے  مَیں اُس سے زِندگی میں کہیں نہیں مِلا‘‘۔ بابر غوری کہتے ہیں کہ’’مَیں صَولت مِرزا سے مِلا تھا لیکن مَیں نے اُسے کسی کو قتل کرنے کو نہیں کہا تھا‘‘۔
صَولت مِرزا نے کہا کہ’’ایم کیو ایم کے کارکُن اور اِس تنظیم میں شامل ہونے کے خواہشمند نوجوان میرا انجام دیکھ کر عِبرت  حاصل کریں کہ ہم جیسے لوگوں کی حقوق نظریات یا قومیت کے نام پر ’’Brian Washing‘‘ کرکے استعمال کِیا جاتا ہے اور پھر’’Tissue Papers‘‘ کی طرح پھینک دِیا جاتا ہے‘‘۔ طوِیل عمل سے کسی شخص کے خیالات کو بدلنے کی کوشش کو برین واشنگ کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے کئی حکمرانوں اور مذہبی رہنمائوں کا تذکرہ مِلتا ہے کہ جِنہوں نے اپنے پَیروکاروں کی برین واشنگ کر کے اُن سے اپنے سیاسی، مذہبی  مخالفین کو قتل کرایا۔ 1124ء میں اِنتقال کرنے والا صباحیہ فرقے کا بانی حسن بِن صباح اس معاملے میں بہت ہی بدنام ہے جِس نے ارضی جنت بنائی۔ اُس میں خُوب صُورت باغ لگوائے اور خُوب صُورت عورتوں کو جنت کی حُوریں بتا کر اپنے عقیدت مندوں کی’’برین واشنگ‘‘ کرکے اُنہیں اُس جنت میںکچھ دِن گزارنے کا موقع دیتا تھا اور اُس کے بعد اُن سے اپنے مخالفین کو قتل کرا دِیا کرتا تھا۔
پھانسی کی سزا پانے والا صَولت مِرزا ایم کیو ایم کا پہلا کارکن ہے کہ جِس نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین اور تنظیم کے دوسرے لِیڈروں پر کارکنوں کی ’’برین واشنگ‘‘ کا الزام لگایا ہے۔11مارچ کو نائن زِیرو پر رینجرز کے چھاپے میں پکڑے جانے والے کارکن عمیر صدیقی نے ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کِلّرز کی طرف سے 120 لوگوں کے قتل کا اعتراف تو کِیا تھا لیکن ’’کارکنوں کی برین واشنگ کا تذکرہ نہیں کِیا تھا۔ قدِیم یونان کی ریاست مقدُونیہ کے حکمران فَیلقُوس (Philip) کو سکندر ِ اعظم کی ماں ’’Olympias‘‘ نے بھرے دربار میں قتل کرا دِیا تھا لیکن اُس نے فوراً ہی فَیلقُوس کے قاتلوں کو بھی اپنے محافظوں سے قتل کروا دِیا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ’’سکندرِ اعظم کو اپنی ماں کی سازش کا عِلم تھا لیکن وہ خُود اپنے شرابی باپ سے نالاں تھا جِس نے بڑھاپے میں ایک جوان عورت سے شادی کر لی تھی۔
16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے جلسہ ٔ عام میں سابق پولیس انسپکٹر سَید اکبر کے ہاتھوں پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو قتل کرانے والوں نے بھی یہی کِیا تھا کہ سَید اکبر کو بھی موقع پر ہی مروا دِیا تھا۔ کیا انہیں فَیلقُوس کے قتل کے طریقِ کار کا عِلم تھا؟۔ مئی 1958ء میں مغربی پاکستان کے وزیرِاعلیٰ خان عبداُلغفار خان کے چھوٹے بھائی خان عبداُلجبار خان المعرُوف ڈاکٹر خان صاحب کو اُن کی سرکاری کوٹھی میں ایک برخاست شُدہ پٹواری عطامحمد نے قتل کر دِیا تھا۔ عطامحمد نے پولیس کو بیان دِیا کہ ’’مجھے خاکسار تحریک کے بانی علّامہ عنایت اُللہ خان المشرقی ؔ نے ڈاکٹر خان صاحب کے قتل پر اُکسایا تھا۔ مَیں نے علّامہ صاحب کی باتوں کے سحر میں آ کر ڈاکٹر خان صاحب کو قتل کر دِیا۔
علّامہ مشرقی  اُن کے نائب  گجرات کے چودھری خورشید خالد  پشاور کے ثمِین جان اور کچھ اورخاکساروں کو گرفتار کر لِیا گیا تھا۔ چودھری خورشید خالد سلطانی گواہ بن گئے لیکن لاہور سیشن جج شیخ انواراُلحق کی عدالت میں مُکر گئے اور کہا کہ ’’مجھ پر پولیس نے اِتنا تشدد کِیا کہ مَیں نے اپنے لِیڈر (علّامہ مشرقی) پر جھُوٹا اِلزام لگا دِیا‘‘۔ یہ وہی شیخ انوار اُلحق تھے کہ جنہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے نواب محمد احمد خان کے قتل کے جُرم میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کی توثیق کی تھی۔ عدالت نے علّامہ مشرقی کو بری کر دیااور چودھری خورشید خالد کو اپنے بیان سے مُکرنے پر چند ماہ اور عطا محمد پٹواری کو موت کی سزا سُنا دی۔ علّامہ مشرقی کے بارے میں بھی اُن کے سیاسی مخالفین کہا کرتے تھے کہ وہ خاکسار تحریک کے کارکنوں کی’’برین واشنگ‘‘ کرکے اُن سے اپنے مطلب کے کام لیتے ہیں‘‘۔
ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کِلنگ کا اعتراف کرنے والے عمیر صدیقی کے پاس  اپنے بیان سے مُکرنے کی گُنجائش ہے یا نہیں؟۔ مَیں نہیں جانتا؟ لیکن پھانسی کی سزا پانے والے صَولت مِرزا کے پاس تو  مُکرنے کی کوئی گُنجائش ہی نہیں ہے۔ صدر ممنون حسین نے صَولت مِرزا کی پھانسی کو 72 گھنٹوں کے لئے مؤخر کرنے کا حُکم دے دِیا ہے۔ اُسے یومِ پاکستان کی چھُٹی کے بعد 24 مارچ کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ (بشرط ِ کہ صدرِ مملکت کی طرف سے اُس کی پھانسی کی سزا مزید مؤخر نہ کردی جائے)۔ کیا وفاقی حکومت صَولت مِرزا کی پھانسی کو مزید مؤخر کرا دے گی؟۔ اِس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ’’جناب الطاف حسین اور ایم کیو ۔ ایم کے دوسرے لِیڈروں پر کارکنوں کی ’’برین واشنگ‘‘ کر کے اُن سے مخالفین (اور اپنی ہی تنظیم کے لوگوں) کو قتل کرانے کا الزام ہے جو فی اِلحال عدالت میں ثابت نہیں کِیا جا سکا۔
یہ بھی لازمی ہے کہ ٹارگٹ کِلّرز اور خُود کُش حملہ آوروں میں بھی فرق واضح کِیا جائے۔ کسی بھی ٹارگٹ کِلّر کا مقصد پاکستان میں اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا نہیں ہوتا۔ یہ مقصد خُودکُش حملہ آوروں کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں کئی سال سے ایک خاص مسلک کے حسن اِبنِ صباح  اسلام کے نام پر نوجوانوں کو جنت اُلفردوس میں اعلیٰ درجہ دِلوانے کا خواب دکھاتے ہیں اور اُن کی ’’برین واشنگ‘‘ کرکے انہیں پاک فوج کے افسروں/جوانوں اور معصوم اور بے گُناہ پاکستانیوں کو قتل کرنے کے لائسنس دے دیتے ہیں۔ فی اِلحال اُن میں سے کسی ایک پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا گیا؟۔ خودکُش حملہ کے’’Masterminds‘‘ خُودکُش حملہ آوروں کے ’’Head Master minds‘‘ سے کئی گُنا خطرناک ہیں۔