ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

میرے بوڑھے سریر میں جیسے بجلیاں دوڑ گئی ہوں۔
 میری عادت ہے کہ ہاکر کا انتطار کئے بغیر اپنے موبائل پر ہی لیٹے لیٹے تازہ اخبارات کی سرخیاں اور چیدہ چیدہ کالموں پر نظرڈال لیتا ہوں، ایک اخبار کی شہ سرخی تھی کہ شہر ہوں یا دور دراز علاقے، دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں میں دبوچا جائے گا ۔ یہ بیان جنرل راحیل کا ہے۔ کیا بتائوں کہ دل کس طرح بلیوں اچھلنے لگا۔ اوریہ شعرزبان پر آگیاکہ نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔
دنیا میں دلیروں اور شہ زوروں کی کبھی کمی نہیں رہی، پاک فوج میں بھی ایک سے ایک بڑھ کر جراتوںکے پہاڑ موجود ہیں مگر اب جو آرمی چیف ہمیں ملا ہے یہ کسی الگ ہی مٹی کا بنا ہے۔میںنے انکی تقرری کے وقت بھی لوگوں کی توجہ اس امر کی طرف  مبذول کروائی تھی کہ اس شخص کو اس کے خاندانی پس منظر میں دیکھو۔ اس کے شجرہ نسب پر غور کرو، اس کا حسب نسب جانچ لو، وہ شہیدوں کا امانت دار ہے، اس کا بھائی نشان حیدر، اس کا ایک کزن نشان حیدر۔میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہیدکی قبروں پر ہر آن اترتے فرشتوں سے پوچھو کہ وہ کیسے لافانی انسان تھے، خدا اپنی زبان سے کہتا ہے کہ وہ زندہ ہیں، انہیںمردہ مت کہو، صرف تم ادراک نہیں کر سکتے۔عزیز بھٹی نے پاکستان کے دل لاہور کو بھارتی جنرل نرنجن پرشاد کے پورے ڈویژن سے محفوط رکھنے کے لئے اپنی جان قربان کی تھی اور میجر شبیر شریف نے بھارتی میجر نرائن سنگھ کی للکار پر خالی ہاتھ اس کی پوری کمپنی کا صفایا کیا تھا اور دشمن کی اسٹین گن سے ہی اس کا سینہ چھلنی کیا تھا۔
کوئی گن سکتا ہے تو گن لے کہ پاکستان کی سرحدوں پر کتنے ملکوں کی افواج مورچہ لگائے بیٹھی ہیں۔ایک سپرپاور ہے،دوسری منی سپرپاورہے اوردودرجن سے زائد نیٹو افواج ہیں۔میںنہیں کہتا کہ یہ سب ہمارے شمن ہیں لیکن ہمارے سجن بھی نہیں۔ انہوں نے ہمارے ایبٹ آباد پر حملہ کیا، سلالہ پر کیا، آئے روز ڈرون بھی مارے اور نجانے دہشت گردوں کو، کون کون تربیت دے رہا ہے۔ان کے آنے سے پہلے ہم امن میں تھے ، ا نکے آنے کے بعد ہم لہولہان ہو گئے۔چلئے فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارے ہاں دہشت گردی میں ا ن کا کوئی ہاتھ نہیں تو بھی دہشت گردوں سے ہمارا سامنا تو ہے، بلوچستان جل رہا ہے، فاٹا جہنم بنا رہا اور وہاں سے نکل کر دہشت گردوں نے ملک کو خون سے نہلا دیا ہے۔
اب تو بچہ بچہ پکار اٹھا ہے کہ بس بھئی بس! اب بس کرو۔ بچوں کی التجا ،میں اورا ٓپ سن رہے ہیں تو کیا آرمی چیف کے کان بند ہیں۔ محمد بن قاسم نے ایک لڑکی کی فریاد سن کر ہزاروں میل دور سے آکر اس کی دست گیری کی تو جنرل راحیل شریف کے گھر کی دیوار تو ہماری دیوار سے ملحق ہے۔ بچوں کا لہو دیکھ کر اس کالہو بھی کھول اٹھا،س کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا۔ اب ضرب عضب کا میدان سج گیا ہے، بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔
ضرب عضب کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا، فاٹا کا علاقہ کلیئر ہو چکا، وزیری مہاجرین کی واپسی کا شیڈول تیار ہے اور اب دہشت گردوںکے سرپرستوں کا تعاقب جاری ہے، یہ دوسرا مرحلہ ہے، اب لڑائی سیدھی دہشت گردوں سے نہیں، وہ  تو چھپے ہوئے تھے، بے چہرہ تھے، بے نام  تھے مگر اب ان کے ساتھیوں سے مقابلہ ہے، ان کے نام ٹی وی اسکرینوں پر چنگھاڑ رہے ہیں ، ان کے ظلم کی داستانوں پر انسانیت تو کیا ، حیوانیت بھی شرما رہی ہے۔
مگر یہ مرحلہ پل صراط سے گزرنے سے بھی زیاد ہ مشکل ہے، مشرقی پاکستان کا نام لے کر ہمیں ڈرایا جا رہا ہے کہ خدا نخواستہ ایک اور سقوط ڈھاکہ ہمارامنتظر ہے۔مشرقی پاکستان میں لڑتے ہوئے ہمیں معلوم تھا کہ بھارت اور مکتی باہنی کے ساتھ ساتھ صوبے کی کم و بیش پوری آبادی ہمارے خون کی پیاسی ہے، مگر آج اس قدر دھول ہے کہ دوست دشمن کی تمیز مشکل ہو گئی ہے۔ دہشت گرد کو ن ہے، اس کا ساتھی اور سرپرست کون ہے اور ملک کے ساتھ کون کھڑا ہے۔ایک طرف فیصلہ ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں بنائی جائیں ، دوسری طرف کچھ لوگ آئین ا ور جمہوریت کا سوال کھڑاکرکے عدالتوںمیں چلے جاتے ہیں، ایک طرف فیصلہ ہوتا ہے کہ مدرسوں کی جانچ پڑتال کی جائے، دوسری طرف مدرسوں والے اعتراضات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ایک طرف اعلان ہوتا ہے کہ فوج آئے ا ور شہر کا کنٹرول سنبھال لے اور جب نیم فوجی یعنی رینجرز کے دستے آپریشن شروع کرتے ہیں تو دہائی مچ جاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ہیڈکوارٹر کا تقدس پامال ہو گیا ہے، ورکروں اور ہمدردوںکے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اگر آپ کیلکولیٹر ہاتھ میں لیں اور حساب کریں کہ فاٹا کے دہشت گردوںنے کتنے مارے اور ایک شہر میں کتنوں کا خون کیا گیاتو آپ اعدا دو شمار دیکھ کر لرز جائیں گے، ان کوکسی نے تو مارا ہے، آسمانی بجلی تو ان پر گری نہیں۔بلوچستان میں کچھ لوگ حق مانگ رہے ہیں کہ وہ ملک کا جھنڈا نہیں لہرانے دیں گے، قومی ترانہ نہیں پڑھنے دیں گے اور قائد کی یادگار زیارت ریذیڈنسی کو بارود سے بھسم کر دیں گے۔ہم ان لوگوں کو قوم پرست قرار دے کر ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، مسنگ پرسنز کا ایشو بنا کر ان کی حمایت میں شورو غوغا کرتے ہیں۔ جبکہ حکومت پاکستان کا موقف ہے اور اسے ہم نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سے حالیہ ملاقات میں بیان کیا ہے کہ فاٹا میں بھارت، دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے، یہ بیان ہمارے آرمی چیف نے بھی دیا اور وزیر اعظم نے بھی دیا۔
بہت کچھ گڈ مڈ ہو گیا ہے یا کر دیا گیا ہے، ہمارے کچھ لیڈرز اور دانشور بنگلہ دیش سے تمغے بھی لے آئے ہیں کہ انہوں نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔آج بھی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔دہشت گردوں کو مجاہدین کہا جاتا ہے، کون کس کا ساتھ دے، کس کا نہ دے، قوم کو کنفیوز کیا جا رہا ہے۔
صرف ایک شخص شرح صدر کے ساتھ میدان میںتن کر کھڑا ہے جیسے اس کا بھائی بھارتی میجر نرائن سنگھ کی للکار سن کر مورچے سے باہر آکر دو بدو جنگ میںکودگیا تھا ،جیسے اس کاکزن برکی میں نہر کے کنارے دن رات ننگے آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر دشمن کی پوزیشنوں پر گولہ باری کی ہدایات دے رہا تھا۔جیسے سرنگا پٹم کے قلعے کے دروازے پر لڑتے ہوئے سلطان میسور نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ جیسے طارق بن زیاد نے اسپین کے ساحل پر اتر کر کشتیاں جلا دی تھیں۔
میںمانتا ہوں کی ایک منتخب حکومت کا بھی فیصلہ ہے کہ وہ دہشت گردی کی ہر شکل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی مگر کیا ہی بہتر ہو کہ وزیر اعظم کہیں کہ وہ اٹک قلعے کا ذکر دوبارہ اپنی زبان پر نہیں لائیں گے، پرویز رشید کہیں کہ وہ امریکہ میں اپنے نفسیاتی علاج کی کتھا نہیں کھولیں گے اور احسن اقبال یہ گردان چھوڑ دیں کہ ان کے کانوں میں کھولتا ہوا پانی انڈیلا گیا تھا، فوج کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تو فوج کے ساتھ کھڑے نظرا ٓنا چاہئے، جیسے فوج خود کھڑی ہے، جیسے سپاہ سالار کھڑا ہے۔تن کر کھڑا ہے۔