’’گُلو بٹ‘‘ کی کہانی۔۔۔!

                       ’’گُلو بٹ‘‘ کی کہانی۔۔۔!

پاکستان کی سیاست میں مسلم لیگ نون کے’’گلو بٹ‘‘ کی کہانی نئی نہیں۔’’گلو بٹ‘‘ ایک بدمعاش،بے حس،بے غیرت اور برین واش کردار کا نام ہے۔’’گلو‘‘ جب بے غیرت ہو جائیں تو پارٹیوں کا’’ جگر جان‘‘ بن جاتے ہیں۔’’گلو بٹ‘‘  کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ نا مکمل ہے۔ گلُو بٹ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں میں ایک اہم کردار چلا آرہا ہے۔مسلم لیگ نون کی حکومت میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک شرمناک تاریخ رقم کر گیا۔لاہور میں مردو خواتین کو بے دردی کے ساتھ مار دیا گیا۔اس سے پہلے کراچی میں ایم کیو ایم کے ’’گلو بٹ‘‘ کے ہاتھوں تحریک انصاف کی نائب صدر زہرہ شاہد حسین کا بہیمانہ قتل ہوچکا ہے۔تحریک انصاف نے لندن پولیس میں مقدمہ درج کرایا ،خوب واویلہ مچایا،الطاف حسین کے خلاف لندن عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہر بار یہ بدبخت’’گلو بٹ‘‘ بچ جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے جلسے میں ’’گلو بٹ‘‘ کی گولی نے پاکستان کو ایک خاتون لیڈر سے محروم کر دیا۔ ’’گلو بٹ ‘‘ نے ذوالقفار علی بھٹو کے جواں سالہ بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا،اس گلو بٹ کی بھی شناخت نہ ہو سکی مگر بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو اپنے پھو پھڑ (زرداری)کو قاتل قرار دیتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ’’گلو بٹ‘‘ کو سوکھی شاباش ہی نہیںعہدوں اور مراعات سے بھی نوازا جاتا ہے،مسلم لیگ نون کے کئی ’’گلو بٹ‘‘ موجیں مار رہے ہیں، نہ جانے رانا ثناء اللہ کا یہ ڈنڈا بردار ’’گلو بٹ‘‘ منظر عام پر کیسے آگیا ؟سیاسی و مذہبی جماعتیں ہی نہیں میڈیا اور سکیورٹی ادارے بھی ’’گلو بٹ‘‘ کے سہارے چل رہے ہیں۔اکثر واقعات میں پولیس اہلکار بھی سادہ لباس میں ملبوس ’’گلو بٹ‘‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔بد نصیبی سے سانحہ ماڈل ٹائون لاہور کا ’’گلو بٹ‘‘ کیمرہ کی گرفت میں آگیا اور خوش نصیبی سے منہاج القرآن کے’’گلو بٹ‘‘کو کیمرے کی آنکھ چھپا گئی کہ اکثر میڈیا ادارے بھی ’’گلو بٹ‘‘کے مرہون منت چل رہے ہیں ۔جو فوٹیج میسر ہیں وہی ’’بریکنگ نیوز‘‘ بنیں گی۔ایک میڈیا گروپ حلفیہ طور پر ایم کیو ایم اور عوامی تحریک کا بازو بن چکا ہے ۔ پیپلز پارٹی کا ایک ’’گلو بٹ‘‘ کئی سال وزیر داخلہ بھی رہا۔مسلم لیگ نون،قاف،جماعت اسلامی ،جے یو آئی اور نہ جانے اور کتنی مذہبی و سیاسی جماعتیں ہیں جن کی کمانڈ ’’گلو بٹ‘‘ کے ہاتھوں میں ہے۔اسلامی جمعیت طلبا اور ایم کیو ایم کے ’’گلو بٹ ‘‘ کی ’’غنڈہ گردی‘‘ کے مناظر آج بھی کیمروں میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ڈنڈوں اور گولیوں سے بھر پور تاریخ کون بھلا سکتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے ’’گلو بٹ‘‘ نے قومی ہیرو عمران خان کو نہ صرف یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ ان پر مبینہ تشدد کیااور کمرے میں بند کر دیا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو ان کی پارٹی کے ’’گلو بٹ‘‘ نے لفٹر سے دھکا دے دیا مگر تحریکی ’’گلو بٹ‘‘ کے جرم کو پردہ پوش کر لیا گیا۔ میڈیا کیمروں نے ہی تحریک پاکستان کے ’’گلو بٹ‘‘ کو ایک سیاستدان خاتون کو ذلیل کرتے ہوئے دکھایا۔اس خاتون نے بتایا کہ تحریکی ’’گلو بٹ‘‘ نے وہ حرکات کیںاور جملے استعمال کئے کہ وہ آن ریکارڈ بیان نہیں کئے جا سکتے۔سیاسی کارندے ایک شاباش کے لئے بدمعاشی کی تمام حدود تجاوز کر سکتے ہیں تو مذہبی کارندے حضرت کی ایک نظر پر اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستان میں’’گلو بٹ‘‘ کا کردار بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے شروع ہو جاتا ہے۔ بیرون ملک کے مسافروں کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹ لیا جاتا ہے،یہ ایک الگ دردناک باب ہے ۔اوربعد میں معلوم ہوتا ہے کہ کاروبار کی چمک دکھانے والے اکثر ’’گلو بٹوں‘‘ کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہوتا ہے۔دولت اور اقتدار میں خونی رشتے ایک دوسرے کے دشمن ہو جاتے ہیں،اس میں میڈیا گروپوںکی مثالیں بھی قابل ذکر ہیں۔جس کے پاس پاور ہے ،اس کے پاس ’’گلو بٹ‘‘ کا ہونا ناگزیر ہے ۔مذہبی مافیا کے ’’گلو بٹ‘‘ کے چہرے پر داڑھی، ہاتھوں میں تسبیح اور سر پر ٹوپی ہوتی ہے اور یہ ’’گلو بٹ‘‘ انتہائی خطرناک ہیں،ان کا ہر ایکشن’’ قرب شیخ ‘‘ کے لئے ہے لہذا ان کی دین و دنیا ان کے حضرت کے اشارے پر شروع ہوتی ہے اور حضر ت کی مسکراہٹ پر ختم ہو جاتی ہے۔افسوس تو ان سادہ کارکنان پر ہے جو نومولود بچے کی مانند آنکھیں موندے ماحول سے بے خبر پڑے ہوئے ہیں۔رانا ثناء اللہ کے ایک ’’گلو بٹ‘‘ کوسزا ہو نے سے معاشرہ کا ’’گلو بٹ‘‘ کا مارا نہیں جا سکتا۔صرف شریف برادران کی جماعت نہیں ملک کی ہر جماعت یہ ’’گلو بٹ‘‘ چلا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کا اغواہو یا ایسی کوئی دوسری واردات ہو، تمام اہم واقعات کے پیچھے ’’گلو بٹ‘‘ کا اہم کردار ہے اور سب اپنے اعمال بھگت رہے ہیں۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ مذہبی ’’گلو بٹ‘‘ جان ہتھیلی پر رکھ کر پھرتے ہیں ۔لشکر طیبہ اور دیگر جہادی تنظیموں کے ’’گلو بٹ‘‘ نے مسلہ کشمیر سمیت اندرونی و بیرونی مسائل کو مزید الجھا دیا ہے۔اسلام میںجہاد ہو یا سیاست ’’گلو بٹ‘‘ کے کردار کی گنجائش نہیں جبکہ پاکستان میں نہ جہاد ہو رہاہے اور نہ سیاست۔۔۔پس پردہ ’’ گلو بٹ‘‘ کا راج ہے۔