’’ مَیں آپے گُلّو ہوئی! ‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’ مَیں آپے گُلّو ہوئی! ‘‘

مَیں نے مختلف نیوز چینلوں پر سانحہ ماڈل ٹائون لاہورکے اہم کردار’’ گُلو بٹ‘‘ کو پولیس کی نگرانی میں کئی گاڑیوں پر ڈنڈا برساتے دیکھا۔ سیّد وارث نے ’’ہِیر رانجھا‘‘ کی کہانی بیان کرتے ہُوئے کہا تھا کہ…؎
’’ ڈنڈا پِیر اے ، وِگڑیاں تِگڑیاں دا ‘‘
لیکن ’’ گُلّو بٹ‘‘ نے اپنے ڈنڈے کی کرامت سے جن گاڑیوں کو تختۂ مشق بنایا  وہ تو وِگڑیاں تِگڑیاں نہیں تھیں۔ مجھے ’’ گُلّو بٹ‘‘ پر بہت ترس آیا کیونکہ وہ اپنی مقرّر کردہ ڈیوٹی کو بڑی محنت اور مشقت سے نبھا رہا تھا۔ پتہ چلا کہ  گُلّو بٹ پنجاب پولیس کا ٹائوٹ ہے اور پنجاب پولیس اُس کی روز گار دہندہ یا انّ داتا۔ گُلّو محض ایک شخص کا نام نہیں  بلکہ ایک طبقے کا نام ہے۔ گُلّو بٹ کی طرح کوئی ’’ گُلّو چودھری، گُلّو راجا، گُلّو مرزا، گُلّو شاہ، گُلّو قریشی اور گُلّو شیخ‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ حکمرانوں،حزب ِاختلاف کے سیاستدانوں، مذہبی رہنمائوں، سماجی اور کاروباری شخصیات سمیت ہر ’’بڑے‘‘ آدمی کو  اپنی جان و مال کی حفاظت اور مخالفین کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کے لئے ایک گُلّو یاکئی گُلّوئوںکی ضرورت ہوتی ہے۔ لب ہلا کر صِرف اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ…؎
’’ہر مخالف سے کدُورت ہے مجھے
ایک گُلّو کی ضرورت ہے مجھے!‘‘
’’گُلّو ازم‘‘ بھی ایک طرح کا نظریۂ ضرورت ہے لیکن دو طرفہ۔ مَیں نے 1960ء میں صحافت کو اپنا شوق بنایا اور پھر یہ میرا روز گار بن گیا۔ مَیں نے اپنی 54 سالہ صحافتی زندگی میں کئی گُلو دیکھے۔ بعض گُلّوئوں کے بارے میں سُنا اور پڑھا بھی ہے۔ ایک گُلوکو تو ساری دُنیا جانتی ہے۔ جناب حسین شہید سہروردی (قیامِ پاکستان سے قبل) بنگال کے وزیرِاعلیٰ تھے اور کلکتہ میں ایک جلسہ ٔعام سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک نوجوان جلسہ ٔعام میں شریک کچھ لوگوں کی ڈنڈے سے ٹُھکائی کر رہا تھا۔ جلسہ ختم ہوا تو جناب ِسہروردی نے اپنے کسی معاون سے کہا کہ ’’آج جو نوجوان میرے جلسے میں ڈنڈے سے لوگوں کو مار رہا تھا اُسے میرے دفتر میں بلائو‘‘۔ نوجوان کی وزیرِاعلیٰ حسین شہید سہروردی سے ملاقات کرائی گئی اور انہوں نے اُسے اپنا گُلو بنا لیا۔ اُس گُلّو کا نام شیخِ مجیب اُلرحمن تھا جو ترقی کرتے کرتے بنگلہ دیش کا بانی بنا اور اپنے ہی گُلّوئوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
بھارت کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جلسہ ٔعام سے خطاب کرنے کے لئے پہنچے تو سٹیج پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک مُعمر شرنارتھی (مہاجر) عورت نے اچانک انہیں گریبان سے پکڑ لِیا۔ سکیورٹی کے اہلکار آگے بڑھے تو پنڈت نہرو نے انہیں روک دِیا۔ عورت نے پنڈت نہرو کا گریبان نہیں چھوڑا اور کہا ’’کیا تُم نے اِس لئے مجھے آزادی دلوائی ہے کہ میرا گھر بار لُٹ جائے اور میرے پاس کھانے پینے اور رہنے کا کوئی بندوبست نہ ہو؟‘‘۔ پنڈت جی! نے مُعمر عورت کو گلے لگا لیا اور کہا ’’ امّاں! کیا یہ آزادی کم ہے کہ تُم نے آزاد ہندوستان کے وزیرِاعظم کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے اور تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔ پنڈت نہرو نے اُس عورت کے مسائل حل کرنے کا حُکم دِیا لیکن اُس کے بعد وزیرِاعظم نہرو جب کسی جلسہ ٔعام سے خطاب کے لئے جاتے تو اُن کی حفاظت کے لئے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے کئی ’’گُلّو‘‘ بھی ہوتے۔
قدیم بھارت کا مہاراجا اشوکِ اعظم (جس کے دورِ حکومت کو تاریخ کا سنہرا دَور کہا جاتا ہے) ’’کالِنگا‘‘ کی فتح کے بعد اُس کی جان کی حفاظت کے لئے سرکاری اہلکاروں کے علاوہ بہت سے ’’ گُلّو‘‘ رکھے ہُوئے تھے۔ ’’اشوکِ اعظم‘‘ کے لکڑی کے محل میں اُس کے لئے 101 خواب گاہیں بنائی گئی تھیں۔ ہر خواب گاہ کے باہر، رات کے وقت دو موٹی تازی عورتیں ننگی تلواریں لئے پہرہ دیتی تھیں۔ کسی بھی درباری کو عِلم نہیں ہوتا تھا کہ ’’مہاراج‘‘ آج کی رات کِس خواب گاہ میں خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہے  ہیں۔ صِرف ایک خواب گاہ کے باہر کھڑی دو گُلو عورتوں کو علم ہوتا تھا۔ لیبیا کے صدر مُعمر قذّافی نے بھی اپنی حفاظت کے لئے ’’ گُلو عورتیں‘‘ رکھی ہُوئی تھیں اور علّامہ طاہر اُلقادری کی سکیورٹی کے انتظام جن معزز خواتین کے سُپرد ہے مَیںانہیں ’’ گُلو‘‘ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اُن ’’ کنّیائوں‘‘ کو جو بھارت کے ’’آنجہانی باپو‘‘ شری موہن داس کرم چند گاندھی جی کے آشرم میں رہ کر اُن کی حفاظت کرتی تھیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد گورنر جنرل/ صدر اور وزیرِاعظم کی سکیورٹی کے لئے سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ’’ گُلو‘‘ رکھنے کی ضرورت پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کی راولپنڈی کے جلسہ ٔعام میں شہید کئے جانے کے بعد ہُوئی۔ اگر جلسہ ٔعام میں جناب لیاقت علی خان کی حفاظت کے لئے اُن کا کوئی ’’گُلّو‘‘ بھی ہوتا تو وہ اُن کے قاتل سَید اکبر کو زندہ گرفتار کر لیتا۔ مَیں نے دیکھا کہ فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان کے دَور میں اُن کی کنونشن مسلم لیگ کے پاس سیاسی کارکن کم اور ’’ گُلو‘‘ زیادہ تھے۔ جناب حنیف رامے مغربی پاکستان مسلم لیگ (کنونشن) کے انفارمیشن سیکرٹری تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ’’صدر ایواب خان جب جلسہ ٔعام یا کُھلی کچہری سے خطاب کرتے تھے تو اُن کی حفاظت کے لئے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ مسلح لوگ بھی ہوتے تھے اور صدر ایواب خان پارٹی لیڈروں سے زیادہ اُن پر اعتماد کرتے تھے۔‘‘ تو گویا اُس دَور میں بھی ’’گُلو‘‘ ہی چھائے ہُوئے تھے۔
جناب حنیف رامے جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنے تو، مَیں نے دیکھا کہ اُن کی خلوت و جلوت میںپاکستان پیپلز پارٹی کے مخلص کارکنوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ’’ گُلو‘‘ بھی ہوتے تھے جن میں رامے صاحب کی ارائیں برادری کے ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی، بیورو کریسی اور اعلیٰ پولیس افسران کے علاوہ ارائیں برادری کے مشہور اورگمنام لوگ بھی ہوتے تھے۔ مَیں نے جنابِ رامے کو بڑے ادب سے مُفت مشورہ دِیا کہ آپ اپنے پاس بیٹھے ہوئے غیر ارائیں دوست احباب کو اُن کی ذات یا گوت مثلاً شیخ صاحب، راجا صاحب، شاہ صاحب، قریشی صاحب ، مرزا صاحب اور بٹّ صاحب کہہ کر پکارا کریں اور اپنے ارائیں ملاقاتیوں کو اُن کے نام سے کیونکہ ہر مشہور اور گمنام ارائیں آپ سے قُربت کا اظہار کر رہا ہے‘‘۔ رامے صاحب کو میری یہ تجویز پسند آئی تھی اور انہوں نے مجھے شاباش بھی دی اگست2013 ء میں چودھری سرور پنجاب کے گورنر بنائے گئے تو مَیں نے دیکھا اُن کی مجلس میں بھی ارائیں ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی، پولیس افسروں اور بیورو کریسی کے ارکان کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گلاسگو سے آئے ہُوئے جانے پہچانے ارائیں ہی ہوتے تھے۔ میں نے گورنر صاحب! کو،وہی مشورہ دِیا جو مَیں اِس سے قبل جنابِ رامے کو دے چکا تھا۔ گورنر صاحب نے میرا شکریہ ادا کِیا لیکن مَیں ہر وقت تو اُن کے پاس نہیں رہتا!۔
مَیں نے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے دوران ’’سوشلزم‘‘ کے مقابلے میں ایک طویل اُلقامت ’’ کڑیل‘‘ سیاستدان جناب سلیم کِرلا کے حوالے سے ’’ کِرلا ازم‘‘ اور فلمی اداکار، اڑھائی فٹ کے ’’ اڑیل‘‘ سیاستدان جناب جاوید کوڈو کے مِشن ’’ کِرلا ازم‘‘ اور ’’کوڈوازم‘‘ کو فروغ دینے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا لیکن ’’جناب گُلّو بٹّ‘‘ کے ظہور کے بعد  مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میرے پیارے وطن میں ’’گُلّوازم‘‘ کا مستقبل بہت روشن ہے۔ پنجاب پولیس کی طرف سے  جنابِ گُلّو کو اپنا ٹائوٹ تسلیم کرنے کے بعد نہ صِرف پولیس بلکہ ہر محکمہ اور ہر اہم شخصیت کے دروازوں پر گُلّو کی نوکری کے لئے قطاریں لگی ہوں گی اورجِن گُلّوئوںکو نوکری مِل جائے گی تو اُن کی منگیتریں اپنی سہلیوں کو  حسد میں مبتلا کرنے کے لئے اپنے اپنے گائوں اور گلی محلے میں گاتی پھریں گی کہ…؎
’’گُلّو گُلّو آکھدیاں، مَیں آپے گُلّو ہوئی!‘‘