ڈاکٹر نوازشریف اور گورنمنٹ کالج کی بیماری

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

نوازشریف کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری مبارک ہو۔ وہ اولڈ راوین ہیں۔ ہم بھی ان دنوں گورنمنٹ کالج میں تھے۔ نوازشریف ہم سے کچھ جونیئر تھے ان کے دو شغل تھے کرکٹ کے میدان میں چوکے چھکے لگانا اور کالج کنٹین پر خوب کھانا پینا وغیرہ انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اولڈ راوین کی حیثیت میں نہیں ملی اور نہ وہ وزیراعظم گورنمنٹ کالج لاہور کی وجہ سے بنے ہیں۔ نوازشریف سادہ آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر نے آٹھ ارب روپے کا مطالبہ کر دیا ہے وہ بتائیں کہ یہ ڈگری انہوں نے مجھے دی ہے یا میں نے خریدی ہے۔ پچھلے دور میں وزیر داخلہ رحمان ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی تھی اعزازی ڈگری کا کمال یہ ہے کہ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے رحمان ملک کی بی اے کی ڈگری کے جعلی ہونے کا معاملہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ ممبر پارلیمنٹ کی ڈگری بہت اہم ہے۔ بار بار اس کے جعلی ہونے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے جعلی ثابت ہونے پر بھی وہ اگلے انتخابات میں جیت جاتا ہے۔
فرق صاف حاضر ہے رحمان ملک کو ہم نے مخول (مذاق) کیا تھا اور نوازشریف کو مبارکبادیں دے رہے ہیں میں بہت محبت سے گلہ کر رہا ہوں نوازشریف اولڈ راوین ہیں تو انہوں نے گورنمنٹ کالج کے لئے کیا کیا ہے؟ وہ اتنا بھی نہ کر سکے کہ گورنمنٹ کالج کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نہ بننے دیتے۔ ظالموں نے ہم سے گورنمنٹ کالج چھین لیا ہے۔ نوازشریف سے شکایت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مگر دکھ ہے کہ انہیں دکھ بھی نہیں ہے۔ یہ سیاست ہے کہ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں آ کے گورنمنٹ کالج کو یاد کرتے رہے۔ جتنے بڑے آدمی اولڈ راوین ہیں وہ گورنمنٹ کالج لاہورکے سٹوڈنٹ تھے۔ علامہ اقبال‘ فیض‘ پطرس‘ ڈاکٹر مجید نظامی‘ ڈاکٹر سلام‘ ڈاکٹر محمد اجمل‘ اشفاق احمد‘ بانو قدسیہ‘ پی آر چوپڑا‘ خوشونت سنگھ ‘ ظفر اقبال‘ کشور ناہید اور بیورو کریسی میں تو بہت ہیں۔ سیکرٹریٹ بھرے پڑے ہیں وزیراعلیٰ حنیف رامے‘ شہبازشریف‘ وزیراعظم ظفراللہ جمالی‘ نوازشریف نے کہا ہے کہ نامور اولڈ راوین تو بہت ہوں گے مگر میں تیسری بار وزیراعظم بنا ہوں۔ گورنمنٹ کالج میں تقریر انہوں نے اچھی کی۔ فرخ سعید خواجہ نے لکھا ہے کہ وہ پہلی بار مسکراتے ہوئے تمتماتے چہرے کے ساتھ تقریر کر رہے تھے۔ وہ یہ بھی بتاتے کہ وہ دو بار اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ اگلی باری لینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلی باری پوری نہ کی ہو۔ اس طرح تو صدر زرداری کا چانس نہیں ہے جبکہ وہ نوازشریف کے ساتھ ڈیل کر کے گئے ہیں۔ تیسری باری بے نظیر بھٹو کی تھی اگر وہ وزیراعظم بنتیں تو اپنی مدت پوری نہ کر سکتیں ”صدر“ زرداری بہت زبردست اور مشکل سیاستدان ثابت ہوئے ہیں مگر یہاں مار کھا گئے کہ پانچ سال پورے کرنے کے شوق میں وہ اپنا ”مستقبل“ گنوا بیٹھے۔
نواز شریف اولڈ راوین حکمران ہیں مگر انہوں نے گورنمنٹ کالج کے لئے کیا کیا ہے؟ وہ تو گورنمنٹ کالج کو بچا ہی نہ سکے۔ جی سی تو ایک نام ہے بڑا نام ہے پطرس بخاری نے کہا تھا کہ جی سی صرف ایک ہے اور وہ جی سی لاہور ہے۔ تو یہ جی سی یو کیا ہے؟ کوئی یونیورسٹی دنیا میں ہے جس کے ساتھ کالج بھی آتا ہے؟ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے مگر اب گورنمنٹ کالج کی تاریخ کہیں گم کر دی گئی ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں گورنمنٹ کالج کو ایک شو پیس کی طرح یاد کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی 150 سالہ تقریب کی گئی یہ ایک رسمی بے جان تقریب تھی یہ گورنمنٹ کالج کا 150 سالہ جشن تھا۔ یہ انتہائی زیادتی ہے۔ شہباز شریف نے شریک نہ ہو کے اچھا کیا۔اس سلسلے میں ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ نوازشریف گورنمنٹ کالج کے تھے اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ڈگری لینے آ گئے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ گورنمنٹ کالج کو ڈگری ایوارڈنگ ادارہ بنا دیا جاتا اور جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری نوازشریف کو دی گئی ہے۔ یہ گورنمنٹ کالج کی طرف سے دی جاتی تو ہمیں زیادہ خوشی ہوتی۔ انگلستان میں ”لندن سکول آف اکنامکس“ ہے اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی جاتی ہے مگر وہ سکول ہے۔ ان لوگوں میں کوئی کمپلیکس نہیں ہے۔ ان کے لئے اعزاز نام میں نہیں ہے کام میں ہے۔
ایک پرنسپل گورنمنٹ کالج میں تھے۔ شاید وہ سفارشی تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل کے مقام کو نہ جانتے تھے۔ وہ آخری پرنسپل تھے انہیں وائس چانسلر بننے کا شوق تھا اور اس کے لئے یونیورسٹی کا ہونا ضروری ہے۔ ”عہدے“ کی لالچ میں یہ کھلواڑ کیا گیا وہ جس طرح پرنسپل بنے تھے۔ اسی طرح وائس چانسلر بن گئے۔
اب ڈاکٹر خلیق الرحمن وائس چانسلر ہیں وہ دل والے ماہر تعلیم اور استاد ہیں۔ ان کا کوئی تعلق گورنمنٹ کالج سے نہیں ہے۔ البتہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ہے۔ وہ ساری عمر انجینئرنگ یونیورسٹی میں رہے وہاں بڑا نام کمایا۔ وہ جی سی یو میں صرف ڈاکٹر خالد آفتاب کی پھیلائی ہوئی مشکلوں کو صاف کر دیں تو بڑا کام ہو گا۔ یہاں ایک پروفیسر بٹ صاحب ہوتے ہیں ہمارے زمانے میں بھی تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر خالد آفتاب کا بہت ساتھ دیا تھا۔ اب ڈاکٹر خلیق الرحمن کے ساتھ ہیں۔ وہ پچھلے دنوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ گورنمنٹ کالج واپس لانے میں تعاون کریں۔ ڈاکٹر خلیق الرحمن سے بھی گزارش ہے کہ گورنمنٹ کالج کا پرنسپل ہونا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہونے سے بڑا منصب ہے۔
انہیں یاد ہو گا کہ پاکستان کی سب سے پرانی اور بڑی یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی ہے۔ وہ مادر علمی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے دلیر اور دانشور وائس چانسلر نے کئی معرکہ آرائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے ایک بڑا کارنامہ بھی کیا ہے کہ مجاہد صحافت مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی ہے۔ ان جیسا بے مثال اور باکمال ایڈیٹر پاکستان میں نہ ہو گا۔ تمام استاد دانشور ڈاکٹر صاحبان کا خیال تھا کہ یہ پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز ہے۔ لیڈر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ یہ صحافت کی تاریخ میں پہلی مثال ہے اس کے بعد سب چھوٹے بڑے مجید نظامی کو ڈاکٹر مجید نظامی کہتے ہیں یہ اس ڈگری کی اہمیت اور اعزاز ہے۔ حکمران اس اعزازی ڈگری کے اعزاز اور راز سے واقف نہیں ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف گورنمنٹ کالج یونیورسٹی آئے تو ضرورت سے زیادہ پروٹوکول اور سکیورٹی کی وجہ سے چاروں طرف ٹریفک جام ہو گیا۔ لوگ پھنس گئے۔ بھاٹی گیٹ‘ سگیاں والا پل‘ مال روڈ‘ فیروز پور روڈ‘ کرشن نگر ہر طرف دھواں ہی دھواں شور ہی شور تھا۔ کئی ایمبولینس کھڑے کھڑے چیختی رہیں۔ ایک رکشے میں عورت نے بچی کو جنم دیا۔ اس کا نام مریم رکھا جانا چاہئے۔ مریم نواز اس بچی کے گھر والوں میں کسی کو قرضہ ضرور دلوائیں تاکہ اسے یاد دلایا جا سکے کہ نواز شریف کے پروٹوکول میں پھنس کے وہ پاکستان میں آئی تھی۔ کسی دوست نے بات کی کہ اگر غیر ضروری پروٹوکول اور سکیورٹی میں نہ پڑا جائے۔ ایک عام آدمی کی طرح حکمران سڑکوں پر سے گزر جایا کریں تو کسی کو کانوں کانوں خبر ہی نہ ہو۔ مگر حکمران آخر کس لئے بنتے ہیں۔ پروٹوکول اور سکیورٹی نہ ہو تو پھر صرف حکمرانی من مانی کرپشن اور لوٹ مار کا فائدہ؟ ایک حافظ صاحب سے پوچھا گیا کہ حلوہ کھا¶ گے تو اس نے کہا کہ میں حافظ کس لئے ہوا ہوں۔
ایک اچھی مثال آج کے حکمرانوں کے اندر موجود ہے۔ خواہ مخواہ یورپ وغیرہ اور باہر کی خبریں سناتے ہیں۔ پرویز رشید کے بیانات پر نہ جائیں وہ ان کی ضرورت اور مجبوری ہے؟ وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہیں نہ گارڈ نہ سرکاری عملہ وہ ایک بار میرے پاس ایک نجی ٹی وی میں آئے تھے اور ہم انہیں حیران ہو کر دیکھتے تھے۔ اس وقت بھی وہ سینیٹر تھے اور پنجاب حکومت کے مشیر تھے۔ مشیر وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ افسران اور حکمران پروٹوکول چھوڑ دیں۔ کم سے کم رکھیں۔ سکیورٹی بھی غیر ضروری نہ ہو ڈرنا چھوڑ دیں۔ دہشت زدگی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ نواز شریف گورنمنٹ کالج آئے تھے تو ایک عام سابق طالب علم کی طرح آتے۔ یہاں وزیراعظم کے طور پر آنا مناسب نہ تھا تو کیا ڈاکٹریٹ کی ڈگری وزیراعظم کو ملی ہے۔