وطن کی سلامتی کیلئے پاکستان رینجرز کا کردار

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

پاکستان رینجرز پنجاب کے سرفروش  و غیرت مند جوانوں اور افسروں نے بھارت پاکستان بارڈر اور اندرون ملک شرپسندوں، سمگلروں، جاسوسوں،  دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کے آگے مضبوط بندھ باندھ کر پاکستان کی سلامتی، امن و امان کو برباد کرنے والے گروہوں کو ملک دشمنی کی کارروائیوں سے روکنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں گزشتہ  دو سال کے عرصہ (2013-2012ئ) کے دوران پاکستان رینجرز پنجاب نے جاسوسوں، مشتبہ افراد، بم دھماکوں کے نیٹ ورک و آلہ کاروں کے خلاف لگاتار کریک ڈائون کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے اندر افراتفری، خون خرابہ کو کم از کم  صوبہ پنجاب کے اندر، پھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ گلگت بلتستان میں بھی پاکستان رینجرز نے ملکی سلامتی و استحکام میں اپنا کردار  شاندار طریقے سے ادا کیا ہے فرقہ وارانہ فسادات  رکوانے، نیٹ ورک توڑنے، امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے یہاں متعدد اقدامات کارروائیاں کی گئی ہیں ۔
وزارت داخلہ سے حاصل کردہ رپورٹ برائے 2012ء اور 2013ء کے مطابق پاکستان رینجرز پنجاب نے چناب رینجرز، ستلج رینجرز، ڈیزرٹ رینجرز، چولستان رینجرز، پنجند رینجرز کے سیکٹر علاقوں میں بھارت پاکستان سرحدوں پر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے درج ذیل کامیابیاں حاصل کی ہیں جو بلاشبہ اچھی کارکردگی کہلائی جا سکتی ہے اس دوران رینجرز کے سرفروشوں نے اپنی دھرتی ماں کو ہندوؤں کے ناپاک قدموں سے بچانے او رپاک وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کی خاطر جانی قربانیاں اور زخمی جسموں، معذوریوں کی عظیم قربانیاں دیں ہیں یہ شہداء اور غازی یا مجاہد رینجرز ہمارا فخر ہیں اور قوم ان کے لئے ہمہ وقت دعا گو ہے جو اسلامی مملکت کیلئے جان لڑا رہے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق چناب رینجرز سیالکوٹ نے اپنے علاقے میں 2012ء میں 8 کلو ہیروئن 568 بوتل شراب برآمد کی اور 6 سمگروں کو گرفتار کیا ایک سمگلر فائرنگ میں مارا گیا مشتبہ و جاسوس نما ملزمان 59 گرفتار کئے گئے۔ جبکہ 2013ء کے دوران ہیروئن سمگلنگ روکتے ہوئے کوئی واقعہ نہیں ہونے دیا بھارتی شراب کی بوتلیں بھی صرف 195 پکڑی گئیں کیونکہ سمگلنگ نا ممکن بنا دی گئی تھی 8 سمگلر گرفتار ہوئے رینجرز پر فائرنگ کے مقابلے میں 2 سمگر ہلاک کئے گئے۔ مشکوک و مشتبہ جاسوسی میں 56 افراد گرفتار کئے گئے اور تفتیش  منطقی انجام تک پہنچائی۔ ستلج رینجرز کے علاقے میں 2012ء میں 50 کلو سے زائد ہیروئن پکڑی گئی جو 2013ء میں صرف 13 کلو کی مقدار تک نیچے لائی گئی اسی طرح شراب سمگلنگ 1100 بوتل برآمد کی گئی جبکہ 2013ء میں 1500 بوتل شراب پکڑ گئی ۔ سمگلرز 20 افراد گرفتار ہوئے جبکہ 2013ء میں 22 سمگلر گرفتار ہوئے 2012ء میں 4 سمگلر مارے گئے جبکہ 2013ء میں 2 سمگلر ہلاک کئے گئے مشتبہ و مشکوک افراد وغیرہ 2012ء میں 40 اور 2013 ء 25 گرفتار اور زیر تفتیش رہے۔ ڈیزرٹ رینجرز کے علاقے میں یہ تعداد بالترتیب 40 اور 55(2013ئ) رہی۔ چولستان رینجرز کے علاقے میں یہ تعداد5 (2012) اور 4(2013ئ)  رہی پنجند رینجرز کے زیر انتظام علاقے میں صرف10 اور 8 (2012-13 ئ) رہی۔ پاکستان رینجرز پنجاب کی یہ کارکردگی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ سمگلنگ اور ملک دشمن افراد کیخلاف کریک ڈائون اور ناکہ بندی کی وجہ سے 2013ء میں زیادہ کامیابیاں ملی ہیں اور 2014ء میں رینجرز حکام نے نئی منصوبہ بندی سے بھارتی بھارڈر کو محفوظ بنانے کے کام پر پیش رفت کی ہے ملکی سلامتی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔
پاکستان رینجرز پنجاب نے ہر چیلنج پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ جاسوسوں ، ہیروئن ،چرس، شراب وغیرہ کی سمگلروں، وطن دشمن بھارتی ایجنٹوں کا ناطقہ قابل قدر رینجرز افسران نے تقریباً بند کر دیا ہے۔ خصوصاً ڈیزرٹ رینجرز اور چناب رینجرز کے علاقوں میں ملک دشمنوں کے لئے رینجرز موت کا پیغام ہیں۔ ہمارے ’’ہمسایہ دشمن‘‘ بھارت نے پاکستان کے
خلاف کئی اطراف سے اپنے ایجنٹ و منصوبہ ساز داخل کرنے کے اپریشن شروع کر رکھے ہیں جو بھیس بدل بدل کر پاک افغان سرحد، پاک خیبر پی کے سرحدوں، پاک ایران سرحدوں یا پاک بھارت پنجاب سندھ سرحدوں سے داخل ہوتے ہیں لیکن کم از کم صوبہ پنجاب کے رینجرز وطن دشمن عناصر کو شہروں تک نہیں پہنچنے دیتے یہ ہمارے رینجرز کی بڑی کامیابی ہے جو بھی بھارتی ایجنٹ پاکستان کے اندر پھیل گئے ہیں وہ زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پی کے کے انتہائی سنگین پہاڑی علاقوں اور انتہائی گھنے جنگلات کے پھیلائو کی وجہ سے آتے ہیں کیونکہ ان دو صوبوں کے رینجرز کو ضرورت کے مطابق افرادی قوت و آلات میسر نہیں ہیں جس سے کچھ علاقے کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مجموعی طورپر صوبہ پنجاب کے سیالکوٹ چھمب جوڑیاں اکھنور بارڈر سے لے کر صادق آباد ، رحیم یار خان تک  کے علاقے میں پاکستان رینجرز پنجاب نے اپنے خفیہ سیل کے شاندار کردار کی بدولت  ملک دشمنوں کو ’’بڑا سخت‘‘ وقت دیا ہے اور کمزور پہلوئوں پر نئے سرے سے نئی پالیسی مرتب کرکے مکمل بیخ کنی کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں بلاشبہ آپریشن اور فیلڈ پٹرولنگ کے ذمہ داروں ونگ کمانڈوز اور کمانڈنٹ کمانڈر حضرات کی کاوشیں اور منصوبہ بندی  اس کامیابی میں شامل ہے جو دن رات، بارش طوفان، ژالہ باری، آندھیوں، دھند، شدید العصاب شکن سردی میں یا انتہائی گرم جان نکال دینے والی ریگستانوں کی تپتی ریت میں اپنے وطن کی حفاظت اور فرائض کی بجا آوری کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں۔ حکومت وقت کو ان شیر دل رینجرز سے مزید بہتر  کارکردگی کے لئے وسیع فورس، نئے جدید آلات، گاڑیوں، رات کو دیکھنے والی دور بینوں اور دیگر ضروریات کیلئے سارے ملک کے رینجرز(5صوبوں) کو کم از کم 50 کروڑ سے ایک ایک ارب روپے (ہر سیکٹر کی ضرورت کے مطابق) ہر سال بڑھانے چاہئیں۔ وزیراعظم  ڈاکٹر محمد نواز شریف گورنمنٹ کالج  یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری لینے کے عوض7 ارب روپے ایک ادارے پر خرچ کرنے کے بجائے ملکی سلامتی کے اداروں (رینجرز، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس) پر خرچ کریں تاکہ دہشتگردی ختم کرنے میں مشکلات ختم ہو سکیں۔ پاکستان رینجرز زندہ باد