وزیرِ اعظم کی ’’عُمرِ رفتہ و آئِندہ؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان

 وزیرِ اعظم میاں نواز شریف17جنوری کو گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی میں مہمانِ خصوصی تھے جب اُنہیں وائس چانسلر صاحب نے  پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ اِس موقع پر وزیرِ اعظم نے آنجہانی بھارتی فلمی ہیرو ’’دیو آنند‘‘ کو بھی یاد کِیا اور کہا کہ ’’دیو آنند بھی "Ravian" تھے‘‘ اور جب وہ پاکستان آئے تو، انہوں نے خواہش کی کہ ’’مجھے میرا گورنمنٹ کالج دکھائو‘‘۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ اور طالبات کو لاہور کے’’دریائے راوی‘‘ کے حوالے سے راوِینز کہا جاتا ہے۔ جِس طرح ایچی سن کالج کے طلبہ کو"Aitchisonian" مَیں نے 1961ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا سے گریجو ایشن کی تھی اِس لئے مَیں ’’راوِین‘‘ نہیں ہُوں البتہ میری مرحومہ بیگم نجمہ’’ راوِین‘‘ تھیں۔ ایچی سن کالج 1864ء میں پنجاب کے گورنر "Sir Charles Umpherston Aitchison"کے نام پر نوابوں اور جاگیرداروں کے بیٹوں کے لئے قائم کِیا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دَور میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ڈاکٹر چودھری غلام رسول(مرحوم) ایچی سن کالج کے پرنسپل تھے۔ انہوں نے درمیانے طبقے کے بیٹوں کو بھی نوابوں اور جاگیر داروں کے بیٹوں کے ساتھ بٹھا کراُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا موقع فراہم کِیا۔امریکہ اور برطانیہ میں مقیم میرے چاروں بیٹے ذوالفقار علی چوہان، افتخار علی چوہان، انتصار علی چوہان اور انتظار علی چوہان"Aitchisonian" ہیں۔ زندہ باد !ڈاکٹر چودھری غلام رسول۔
’’دیو آنند‘‘ بہت مقبول فِلمی ہِیرو تھے۔ اُنہوں نے 3 دسمبر 2011ء کو 88سال کی عُمر میں انتقال کِیا۔1967ء میں پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کے احتجاج پر جب بھارتی فلموں کے پاکستان کے سینما گھروں میں چلانے اور دکھانے پر پابندی لگائی گئی تو آخری بھارتی فِلم ’’جال‘‘ تھی  جِس میں دیو آنند ہِیرو تھے۔ یہ ’’امن کی آشا‘‘ کی مہم چلائے جانے کے بعد ہُوا کہ اب پاکستان کے کئی سینما گھروں اور مختلف نیوز چینلوں پر بھارتی فلمیں دکھا نے کی حمایت میں’’کُچھ سیانے لوگ‘‘ نئی نسل کو،یہ باور کرا نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’’پاکستان اور بھارت کی ثقافت ایک ہی ہے‘‘دیو آنند ہندو ئوں کے دو دیوتائوں۔’’شِوا‘‘ اور ’’وِشنو‘‘ کا صفاتی نام ہے مہاتما گوتم بُدھ کے سب سے قریبی چیلے کا نام بھی ’’ آنند‘‘ ہی تھا’’آنند‘‘ کے معنے ہیں خُوشی سُکھ یا مسّرت ۔
 بھارت کے وزیرِ تجارت کا نام ’’آنند شرما‘‘ ہے۔’’شرما‘‘ براہمنوں کی گوت ہے۔ہمارے وزیرِ تجارت انجینئر ’’خُرّم دستگِیر‘‘ جناب ’’آنند شرما ‘‘سے مذاکرات کر کے وطن واپس آگئے ہیں اور نوید دی ہے کہ’’دونوں ملکوں میں 24گھنٹے(رات دِن) تجارت ہو گی۔یعنی   ؎  
’’جاگے تمام رات،جگائے تمام رات‘‘
’’ خُرّم‘‘ کو ہندی میں ’’آنندِت‘‘ (آنند اُٹھانے والا) کہا جاتا ہے۔’’ خُرّم دستگِیر ‘‘ صاحب کے والد جناب ’’غلام دستگِیر خان ‘‘ پُرانے مسلم لیگی ہیں اور وفاقی وزیر بھی رہے ہیں’’دستگِیر‘‘ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی  ؒ کا لقب ہے جِس کا مطلب ہے (مدد گار) وزیرِ اعظم نواز شریفـ"Aid"(امداد) نہیں بلکہ "Trade"(تجارت) کے قائل ہیں۔چنانچہ تجارت کے لئے تو رقیب کے پاس بھی جانا پڑتا ہے ۔18جنوری سے الیکٹرانک میڈیا پر ایک اور بھارتی وزیر ’’ششی تھرور ‘‘کی اہلیہ ’’سُنندا  پُشکر‘‘۔ کی غیر طبعی موت کی داستان بھی سُنائی اور دکھائی جا رہی ہے۔ ’’سُنندا‘‘کا مطلب ہے ’’بہت ہی زیادہ خوشی دینے والی ‘‘اور’’پُشکر‘‘ کنول کو کہتے ہیں۔اُس نے مرنے سے پہلے "Twitter" پر پیغام دِیا کہ ۔’’مَیں اپنے پتی ( شوہر) سے طلاق لینے کا فیصلہ کر چُکی ہُوں کیونکہ اُس نے ایک 45سالہ(طلاق یافتہ) پاکستانی خاتون صحافی’’ مہر تارڑ‘‘ سے ’’بہت ہی قریبی ثقافتی تعلقات ‘‘ قائم کر رکھے ہیں۔’’ششی ‘‘چاند کو کہتے ہیں اور’’ تھرور‘‘شیر جیسے انسان کواور ’’مہر‘‘ سورج کو چاند اور سورج میں رِشتہ تو اُس وقت سے ہے جب یہ کائنات سجائی گئی تھی نہ جانے ’’امن کی آشا‘‘کے متوالوں کی طرف سے اب کِس کِس طرح کے چاند اور سورج چڑھائے اور اُتارے جائیں گے؟۔’’سُنندا  پُشکر‘‘ کے بزرگوں کا تعلق بھی لاہور سے تھا۔ممکن ہے اُن میں سے بھی کوئی راوِین ہو۔
میاں نواز شریف نے خوشگوار موڈ میں کہا کہ’’وائس چانسلر صاحب نے مُجھے نواز شریف سے ڈاکٹر نواز شریف تو بنا دِیا لیکن اِس کے ساتھ ہی 9ارب روپے کا تقاضا بھی کر دِیا‘‘۔صورت یہ ہے کہ وائس چانسلر صاحب ڈاکٹر نواز شریف کے اُستاد (گُرُو) تو نہیں رہے لیکن وہ’’ گُریائی‘‘ کی گدّی پر ضرور بیٹھے ہیں۔ہندوئوں میں صدیوں سے رسم چلی آرہی ہے۔ ہرکوئی چیلا فارغ اُلتحصیل ہو کر  اپنے گُرُو کی خواہش کے مطابق اُسے’’گُرُودکشنا‘‘(گُرُوکی خدمت میں نذرانہ) پیش کرتا ہے۔’’مادرِ وطن‘‘ کی طرح’’مادرِ علمی‘‘ کا بھی تو وزیرِ اعظم پر حق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں معروف شاعر عبدالحمید عدمؔکے شعر کا یہ مصرع پڑھا۔۔
’’کہتے ہیں عُمرِ رفتہ کبھی لَوٹتی نہیں‘‘
پھر کہا کہ۔’’آج مجھے کالج میں گُزارے اپنی عُمر ِ رفتہ کے دِن یاد آگئے۔ موجودہ زندگی  ذمہ داریوں سے بھری پڑی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ دوبارہ گورنمنٹ کالج کا طالبعلم بن جائوں‘‘۔عدمؔ صاحب کا مکمل شعر یوں ہے  ؎
’’کہتے ہیں عُمر رفتہ کبھی لَوٹتی نہیں
  جا میکدے سے میری جوانی  اُٹھا کے لا‘‘
شاید وزیرِ اعظم نواز شریف کو  میکدے سے کبھی نِسبت نہیں رہی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے تو جلسہ عام میں کہہ دیا تھا کہ’’ہاں !ہاں! مَیں شراب پیتا ہُوں غریبوں کا خُون تو نہیں پیتا!‘‘۔ عُمرِرفتہ کو یاد کرنا اور ماضی سے تعلق قائم رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے لیکن’’عُمرِ آئندہ‘‘ کی بھی فِکر ہونا چاہیئے۔ فارسی کے نامور شاعر اور مُصلح۔ شیخ سعدی شیرازی (1191ئ۔1291ئ) فرماتے ہیں  ؎
’’خیرے کُن!اے فلاں و غنیمت شمار عُمر!
زاں پیشتر کہ بانگ برآید، فلاں نماند‘‘
یعنی  اے فلاں! کوئی نیکی کرلے اِس سے پہلے کہ یہ آواز آئے کہ فلاں نہیں رہا۔ پاکستان کو حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانا قائدِ اعظم ؒ کا خواب تھا۔کیا ہی اچھا ہو کہ قائدِ اعظم ؒ کی کُرسی (مسلم لیگ کی صدارت) پر رونق افروز  وزیرِ اعظم نواز شریف اپنی عُمرِ آئندہ میں اِس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تیز رفتاری سے پیش قدمی کریں!۔