شیر کی بیکار دھاڑ

کالم نگار  |  سعید آسی

چودھری نثار علی خاں اس وقت ایک اہم حکومتی منصب پر فائز ہیں تو حکومت کے کسی پالیسی معاملہ اور ملک کی سلامتی سے منسلک کسی ایشو پر ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو ان کی ذاتی رائے کے کھاتے میں کبھی نہیں ڈالا جا سکتا۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ چودھری نثار علی خاں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے جن جذبات کا اظہار کرتے ہیں حکومت کی پالیسی اس کے قطعی برعکس نظر آتی ہے جبکہ قومی جذبات چودھری نثار علی خاں کے جذبات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر قوم کے ذہنوں میں یہ سوالات اُبھرنا فطری امر ہے کہ آخر حکومت کی سطح پر وہ پالیسی کیوں اختیار نہیں کی جاتی جس کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ کی زبان سے بے لاگ انداز میں ہو رہا ہوتا ہے اور پھر یہ بات بھی ضرور ذہنوں میں ابھرتی ہے کہ چودھری نثار علی خاں حکومتی پالیسیوں کو اپنی سوچ اور جذبات کے ہم آہنگ نہیں پا رہے توان کے پاس خود کو وزارتی منصب پر برقرار رکھنے کا کیا جواز ہے۔
یقیناً بات تو وہی درست ہے جس کا اظہار چودھری نثار علی خاں نے اسلام آباد میں پولیس کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ کی تقریب میں خطاب کے دوران کیا ہے۔ جی بالکل ایسا ہی ہے کہ امریکی نائین الیون کے واقعہ میں پاکستان کا کوئی ہاتھ تھا نہ کردار، اس واقعہ میں اسامہ بن لادن کا کوئی کردار تھا تو وہ بھی نہ پاکستان کی دھرتی پر موجود تھے نہ تحریک طالبان نامی کسی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود تھا جبکہ نائین الیون کے سانحہ سے پہلے ”القاعدہ“ کی سرپرستی خود امریکہ کر رہا تھا۔ اس بنیاد پر تو نائین الیون کے سانحہ میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے پر اس وقت کی بش انتظامیہ کو امریکہ ہی میں اپریشن کرنا اور اپنی حکومت ہی کے خلاف ایکشن لینا چاہئے تھا مگر انہوں نے پہلے عراق کا حشر نشر کیا پھر افغانستان کا تورا بورا بنایا اور ان کی ہی اختیار کی گئی پالیسوں کے تابع واشنگٹن انتظامیہ پاکستان کو آج بھی سبق سکھانے پر تُلی بیٹھی نظر آتی ہے۔ اس تناظر میں چودھری نثار علی خان کا تجزیہ تو سو فیصد درست ہے کہ نائین الیون کے بعد امریکہ نے خود کو محفوظ کر لیا مگر ہمیں قطعی غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی معاملہ ہے اور یقینًا ایسا ہی معاملہ ہے تو پھر ہمارے ملک اور عوام کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے یقیناً چودھری نثار علی خاں کو اس کا بھی ادراک ہو گا۔ پھر انہیں محض بیان بازی سے اصل حقائق کی نشاندہی نہیں کرنی چاہئے بلکہ ملک اور عوام کو بچانے کی ویسی ہی پالیسی حکومتی سطح پر طے کرانی چاہئے جو بُش انتظامیہ نے نائین الیون کے بعد امریکہ اور اس کے عوام کو محفوظ بنانے کیلئے اختیار کی اور دنیا بھر کے دباﺅ اور لعن طعن کے باوجود اس پالیسی پر عمل کر کے بھی دکھایا۔
جب دو ماہ قبل امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی اپنے ساتھیوں سمیت ہلاکت ہوئی جس پر برافروختہ ہوتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اس حملے کو امن مذاکرات پر ڈرون حملے سے تعبیر کیا تو انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں نہیں، وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس ردعمل کا اظہار کیا تھا جس پر میرا گمان تھا کہ ان کا ردعمل ہی اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں پاکستان کی پالیسی پر نظرثانی کا راستہ نکالے گا۔ خود چودھری نثار علی خاں نے بھی یہی اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے ڈرون حملے نہ روکے تو پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اس کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار پر نظرثانی پر مجبور ہو گا مگر ان کے مار دھاڑ والے اس ردعمل کے اظہار کے بعد امریکہ کی جانب سے اب تک ہماری سرزمین پر مزید پانچ چھ ڈرون حملے کئے جا چکے ہیں جن میں دو حملے تو وزیرستان کے بندوبستی علاقہ میں کئے گئے جو محض جارحیت نہیں، پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے مگر شیر کی دھاڑ جیسے ردعمل کا اظہار کرنے والے چودھری نثار علی خاں نہ ڈرون حملے رکوا پائے اور نہ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ سے باہر نکلوانے میں کوئی کردار ادا کر پائے، اب دو ماہ بعد وہ پھر اسی گھن گرج کے ساتھ امریکہ پر ”تُف“ بھیجتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے اس تجزیے سے تو یقیناً کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ امریکہ تو اپنے تحفظ کی خاطر ہمارا انجر پنجر ہلا رہا ہے مگر ان کے اس بیان کے بعد حکومتی دوعملی کے مظاہرے اور انہیں بدستور وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالے دیکھ کر ذہن گڑبڑا جاتا ہے کہ قول و فعل کا یہ تضاد ہی تو کہیں ہماری اپنے ہی ہاتھوں بربادی کا اہتمام نہیں کر رہا۔
امریکی جنگ کے سارے پس منظر کا بھی آپ کو بخوبی علم ہے پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلنے والے اس وقت کے جرنیلی آمر مشرف کو بھی آپ عبرت کا نشان بنانے کے عزائم رکھتے ہیں مگر امریکہ کے ساتھ طے کئے گئے ان کے اس معاہدے پر آپ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح سرخوشی کے ساتھ کاربند ہیں جس نے امریکہ کو ہمارے ہی وسائل سے افغانستان کی طرح ہمارا بھی ”تورا بورا“ بنانے کا اختیار دیا اور ہماری سرزمین کو ڈرون حملوں سے ادھیڑنے کا جواز فراہم کیا۔
اگر ہماری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے، ڈرون حملوں پر ہمارا ردعمل بھی بے جان ہوتا ہوتا اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور ہماری جانب سے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی سوچ کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھ کر وہ پاکستان کی مذاکرات کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کی ٹھانے بیٹھا ہے تو پھر ہمارے حکمران قوم کو بتائیں تو سہی کہ وہ امریکہ کے ساتھ کس مجبوری کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ محض ڈالروں کی چکا چوند ہے یا ملتِ اسلامیہ کے اتحاد کیلئے امید کی کرن بننے والے اس ایٹمی قوت کے حامل پاکستان کو صحفہ¿ ہستی سے مٹانے کے طاغوتی ایجنڈے کی ان کے ہی ہاتھوں تکمیل کرانے کا کوئی معاملہ ہے؟ اگر چودھری نثار علی خاں کو درونِ پردہ سارے معاملات کی سمجھ آ گئی ہے اور اپنے سابقہ اور موجودہ بیان کے درمیان موجود فاصلے میں ان کی حکومت نے ان کی سوچ کے مطابق امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پالیسی پر نظرثانی کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا جبکہ آئندہ بھی ایسا کوئی عملی اقدام اُٹھانے کی فضا سازگار ہوتی نظر نہیں آ رہی تو کیا قوم چودھری نثار علی خان کے مولا جٹ کے لہجے والے محض بیانات پر ان کیلئے داد و تحسین کے ڈونگرے برساتی رہے۔ نہیں جناب نہیں، قوم اب رزلٹ چاہتی ہے ہمیں بھی اپنے ملک اور عوام کی سلامتی اسی طرح عزیز ہے جس طرح امریکہ اپنی اور اپنے عوام کی سلامتی کی خاطر دنیا بھر کے احتجاج اور ردعمل کو ٹھکرا کر ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ چودھری نثار علی خاں اپنے بیانات کی بنیاد پر کم از کم خود تو ملکی سلامتی کیلئے قومی جذبات کے ہم آہنگ ہونے کا عملی مظاہرہ کریں۔ مجھے یا قوم کو ان سے استعفیٰ لینے کا کوئی شوق نہیں ہے مگر وہ اپنے بیانات کی روشنی میں حکومتی پالیسیوں میں رد و بدل کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر پا رہے تو پھر انہیں خود کو اپنے منصب پر برقرار رکھنے کا قوم کے سامنے کوئی جواز تو پیش کرنا چاہئے یا پھر وہ اپنی شیر کی دھاڑ سے رجوع کر لیں۔