حافظ محمد سعید سے بھارت دہشت زدہ کیوں ہے(2)

 وفاقی وزیر خرم دستگیر اپنے والد کے وسیع کاروبار کے مالک ہیں، ان کا یہ بھی مشن ہے کہ باقی ملک میں بھی عوام کا اسی طرح کاروبار پھلے پھولے، اس مقصد کے لئے ان کی نظر لا محالہ بھارت کی وسیع مارکیٹ پر ہے، چین کی نظر بھی اسی مارکیٹ پر ہے اور ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے سنائی دیتے ہیں اور امریکہ تو اس مارکیٹ پر چھا جانے کے لئے سب کچھ داﺅ پر لگا چکا ہے اور بھارت نے کمیونسٹ بلا ک کی برسوں تک جو بھی ناز برداری کی، اس کا بھولے سے بھی تذکرہ نہیں کرتا۔خرم دستگیر اور ان کی حکومت نے کشمیر پر بھارتی جارحیت اور جبر کو فراموش کر دیا ہے اور ملک کو پیسے کمانے کی لت ڈالی جا رہی ہے۔ تجارت کے معاملات چلانا خرم دستگیر کا فرض منصبی ہے مگر کیا تجارت صرف بھارت سے ہو سکتی ہے، ایرا ن بھی ہمارے ہمسائے میں ہے، چین ہماری لا محدود ضروریات پوری کر سکتا ہے اور کر بھی رہا ہے تو پھر بھارت کا یہ عشق کیسا کہ واہگہ بارڈر کو چوبیس گھنٹے کھولنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔کیا اس فیصلے کے پیچھے خرم دستگیر کی وہ سیاست تو کارفرما نہیں جو ان کے والد کا شعار تھی اور ایوب خاں کی صدارتی مہم میں انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی مخصوص انداز میں عزت افزائی فرمائی تھی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے معاشقہ کہیں بانیان پاکستان کی ذات اور انکے نظریات کی نفی کی دانستہ کوشش تو نہیں۔
اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔مجھے حافظ محمد سعید کے بارے میں بھارتی تعصبات کا ذکر آگے بڑھانا ہے۔حافظ سعید کا قصور یہ ہے کہ وہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو ناجائز تصور کرتے ہیں۔دنیا میں کونسا انسان ہے جو اپنے گھر یا جائیداد پر کسی غیر کے قبضے کو برداشت کر سکتا ہو۔ایک انچ دیوار آگے پیچھے ہونے پر نسل در نسل قتل وغارت کا سلسلہ چلتا ہے اور اگر کبھی آپ بورڈ آف ریوینیو کے اندر جھانک سکیں تو یہاں لاکھوں گرد آلود فائلوں کا ڈھیر پڑا نظر آئے گا جن پر صدیوں سے فیصلے نہیں ہو سکے۔ یہ فیصلے کلہاڑیوں، برچھیوں،بندوقوں اور کلاشنکوفوں کی مدد سے ہوتے ہیں۔
اور ہمارا وہم ہے کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ بیک چینل، پر امن ڈپلومیسی کے ذریعے ہو جائے گا، اس کیس میں تو لاکھوں مربع میل پر ناجائز قبضے کا مسئلہ ہے اور پھر لاکھوں انسان بھی جبر کا شکار ہیں، ان کی نسل کشی ہو رہی ہے، عفت مآب خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کے سانحے رونما ہو رہے ہیں ، بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے کہتی ہے کہ بھارتی عوام نئی دہلی میں ریپ کے واقعات پر تو افسوس کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کی زبانیں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ریپ پر گنگ ہیں ۔
حافظ سعید کی زبان البتہ ان سانحات پر گنگ نہیں ہے، کشمیر کی تمام مجاہد تنظیمیں اپنے وطن پر بھارتی جارحانہ قبضے پر گنگ نہیں ہیں۔بھارت انکو دہشت گرد سمجھتا ہے لیکن پچھلے چھاسٹھ برس میں بھارتی فوج کے کتنے ہی کمانڈروںنے کشمیر میں دہشت گردی کا بازار گرم کئے رکھا۔ اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سنجیو چھاچھراساڑھے آٹھ لاکھ بھارتی فوجی دہشت گردوں کی کمان کر رہے ہیں۔وہ بھارتی فوج کی ناردرن کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ہیں ، یہ کسی انسان کا چہرہ نہیں بلکہ کسی خونی بلا کا ہیولی ہے، انسانی شکل میں کسی بھیڑیئے کا روپ ہے، ابھی اسرائیل میں ایک بھیڑیئے شیرون کا انتقال ہو اہے جس نے صابرہ اور شتیلہ میں انسانی خون کی ہولی کھیلی ، یہی کھیل جنرل چھاچھرہ بھی کھیل رہے ہیں، وہ کشمیریوں کی گردنوں میں ایک عفریت کی طرح نوکیلے دانت گاڑ دیتے ہیں اور ان کے جسم سے خون کاا ٓخری قطرہ بھی چوس لینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
کوئی شقی القلب ہی ہو گا جوخون کی اس ہولی پر خاموش رہ سکتا ہو۔حافظ محمد سعید کے سینے میں انسانی دل ہے، وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے قتل عام پر کڑھتے ہیں اور پھر ان کی مدد کے لئے ان سے جو بھی بن پڑتا ہے، وہ کر گزرتے ہیں، جب بھارت کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پروا نہیں تو حافظ سعید سے کیوں توقع کی جائے کہ وہ ان بے معنی اور بے مغز قراردادوں کی پابندی کریں گے۔بھارت واویلا مچاتا رہے، اس پر کوئی دھیان اس لئے نہیں دیتا کہ وہ لاکھوں فوجی درندوں کے ساتھ کشمیر کے طول و عرض میں ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اس وقت جب کشمیر کے بلندو بالا پہاڑوں اور شہروں کے گلی کوچوں میں سفیدبرف کی تہہ جمی ہے تو اس کی رنگت میں کشمیری شہدا کے خون کی لالی اندھے کوبھی نظر آجاتی ہے۔
بھارت نے ممبئی سانحے کے بعد حافظ محمد سعید کو ٹارگٹ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر دیکھی، ان پر سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنایا گیا، بھارتی بمبار پاکستانی علاقے میں گھس آئے جنہیں ہمارے بہادر ہوا بازوںنے مار بھگایا۔بھارت کو بتا دیا گیا تھا کہ اس نے کوئی حماقت کی تواس کا جواب ایٹمی اسلحے کی زبان میں دیا جائے گا۔بھارت کے دباﺅ پر حافظ محمد سعید کو حوالہ زنداں بھی کیا گیا،ان پر مقدمہ بھی چلا مگر وہ باعزت بری ہوئے ، اس لئے کہ سانحہ ممبئی خود بھارت کی کارستانی تھا۔حافظ سعید یا پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔ حافظ سعید کو ممبئی میں خون بہانے سے دلچسپی بھی کیا ہو سکتی تھی، یہ تو محض ایک بھارتی ڈرامہ تھاتاکہ حافظ سعید ، آئی ایس آئی اور پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ مگر بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، اب وہ کنٹرول لائن پر جھڑپوں کی خبریں اچھال رہا ہے ، اس کا الزام ہے کہ مجاہدین کاروائیاں کر نے میں مصروف ہیں، اور یہ دعوی خود بھارت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے ۔ اس کی فوج ،مجاہدین کا راستہ روکنے سے قاصر ہے۔
کیا حافظ محمد سعید کبھی تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے، اگر بھارتی فوج درندگی جاری رکھتی ہے توخودبھارت کو بھی یقین ہے کہ حافظ سعید جہاد کے رستے سے نہیں ہٹ سکتے، وہ بہر صورت محکوم کشمیروں کی مد دکے لئے سرگرم عمل رہیں گے، اس طرح کشمیر پر بھارتی قبضے کو برقراررکھناممکن نہیں رہے گا۔اگر بھارت کشمیر پر بزور طاقت قبضہ جمانے کے منصوبے پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس کے ناجائز قبضے کے خاتمے کے لئے بھی طاقت کا استعمال نہیں رک سکتا۔لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں۔
کیا حافظ سعید کو راستے سے ہٹاناممکن ہے، خدا نخواستہ ایسا ہو گیا تو جہاد کشمیر کا مستقبل کیا ہوگا۔بھارت کو شبہہ ہے کہ حافظ سعید کے جسم سے نکلنے والے خون کے ہر قطرے سے ایک نیا حافظ سعید جنم لے گا، اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ایک ڈارﺅناخواب بن جائے گا۔
اور واہگہ کے پکے بارڈر سے چوبیس گھنٹے ٹرکوں کے قافلے آتے جاتے رہیں گے تو کچے دھاگے جیسی کنٹرول لائن پر مجاہدین کے کفن بدوش قافلوں کو کون روک ٹوک سکے گا،خرم دستگیر نے کچھ اس بارے بھی سوچا ہوگا۔کاروبار کے وزیر کو نفع نقصان کا اندازہ لگانے میں کوئی غلطی نہیںکرنی چاہئے۔ بہرحال وزیر ابھی بچہ ہے ذرا بڑا ہوکر سمجھ جائے گا۔ کوئی عجب نہیں اب بھی سمجھتا ہو۔ لیکن وزارت بڑی بری بلا ہے!