ایک عام آدمی کیا چاہتا ہے........؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ عام آدمی کہتے کسے ہیں....؟ اور وہ کس کس کیٹے گری میں آتا ہے عام آدمی وہ ہے جو ایک بندھی ٹکی زندگی جیتا ہے۔ صبح کو کام پر جاتا ہے۔ شام کو تھک کر گھر آتا ہے جو اس کوشش میں رہتا ہے کہ اسکی کمائی اس کے اہل خانہ کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو روزمرہ زندگی جیتا ہے اور روز مرہ ضروریات کیلئے مرتا ہے۔ یعنی کوشش کرتا ہے۔ اس کو محلات اور بڑی گاڑیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ جنکی زندگیاں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کو خوش اور سکھی دیکھنا چاہتا ہے۔ اسکی بنیادی ضروریات ہیں، گھر، خوراک، تعلیم، صحت اور تھوڑی بہت تفریح ہی درکار ہوتی ہے۔ یہ متوسط طبقے کا ہر آدمی ہوتا ہے۔ آپ غریبوں کو اس میں شامل کر سکتے ہیں۔ مگر عام آدمی حکومتوں کی طرف سے خیرات قبول نہیں کرتا۔ ہاں حکومتوں کی طرف سے بنیادی سہولیات میں رعایت کرنے کا امید وار ہوتا ہے۔
یہ کسی بھی ملک کا قیمتی طبقہ ہوتا ہے۔ بلکہ کام کرنے والی مشینری ہوتا ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان میں ایک عام آدمی نے سیاسی انقلاب برپا کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔45 سالہ اروند کیجریوال نے آئی آئی ٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور انکم ٹیکس کا افسر بھی رہ چکا ہے اس شخص نے اپنے ہم خیال لوگ اکٹھے کر کے جب عام آدمی پارٹی بنائی تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اس کو کہا ”پاگل ای اوئے“ مگر خاص لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ ملک کی ساری طاقت عام آدمی کے پاس ہوتی ہے انتخابات کے ہونے تک اس کو پاگل ہی سمجھا جاتا رہا۔ اب تو جانی مانی سیاسی پارٹیاں اس کی نقل کر رہی ہیں اروند کیجریوال نے سیاسی مراعات لےنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ ایک عام سے فلیٹ میں رہے گا۔ اور یہ بھی کہ اس کی حکومت دہلی کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی طرف سے چلائی جائے گی۔ اس نے اپنا انتخابی نشان جھاڑو رکھا۔ بہت حوصلے کی بات ہے جھاڑو نشان مانگنا لیکن غور کریں تو یہی جھاڑو گندگی صاف کرنے کے کام آتا ہے وہ گندگی محل کی ہو ےا جھونپڑی کی۔
یہ بہت بڑا چیلنج ہے صدیوں سے کرپشن کی جاری رسم کو جھاڑو کتنے دنوں میں صاف کر سکے گا۔ مگر اروند نے اپنے عوام سے کہا ہے کہ وہ بھی قسم کھائیں کے وہ چھوٹے سے چھوٹے ےا بڑے سے بڑے کام کے لئے کبھی رشوت نہ دیں گے۔ اروند کے دیکھا دیکھی دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی اپنی سرکاری رہائش گاہیں چھوٹی کرنی شروع کر دی ہیں۔ سیکورٹی کم کر رہے ہیں وی آئی پی کلچر کی نمائش بھی کم کر رہے ہیں گویا عام آدمی پارٹی نے آتے ہی سیاسی کلچر بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔ مگر یہ ”آپ“ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے نمبروں کی بلند خواہشات پر کس حد تک قابو پا سکتی ہے۔
مگر فی الحال انڈیا کے لوگ کہہ رہے ہیں۔ ”آپ“ آئے بہار آئی بڑے بڑے وعدوں پر سنسنی خیز جےت حاصل کرنے والی عام آدمی پارٹی نے نہ صرف یہ کہ سیاسی جماعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بلکہ دہلی کے عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پےسے اور شخصیت پرستی کے بغیر بھی الیکشن جیتے جا سکتے ہیں۔ کانگرس نے تو فوراً ”آپ“ کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ کانگرس کا یہ بھی خیال ہے کہ غالباً آنے والے دنوں میں ”آپ“ کوئی بڑا رول نبھانے اور نریندر مودی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکے۔ بھاجپا کو بھی تشویش ہے کہ اروند، مودی کے لئے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دہلی کی کمان سنبھالنے والا اروند کیجریوال نہ صرف سیکولر خیالات کا مالک ہے بلکہ وہ عوام کا نبض شناس بھی ہے۔
28 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اروند نے عوام سے بارہ وعدے کئے تھے، تین دن میں پانچ اہم اعلان کر کے اس نے وعدے پورے کرنے کی ابتدا کر دی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے۔ ان کے پاس وقت کم ہے۔ اور کام زیادہ ہے۔ ہر آنے والے سیاسی لیڈر کی کوشش کا یہی عنوان ہونا چاہےے۔ یکم جنوری سے دہلی میں لوگوں کو ہر ماہ بیس ہزار لٹر پانی مفت دینے کا اعلان کر دیا۔30 دسمبر میں راجدہانی کے اندر 5500 نئے آٹو رکشہ چلانے کا اعلان بھی کیا۔31 دسمبر کو اروند کیجریوال نے بجلی کا بل آدھا کرنے کا وعدہ پورا کر دیا، یہی نہیں دہلی پولےس کے ایک کانسٹیبل کو جسے شراب مافیا نے قتل کر دیا تھا وعدے کے مطابق اس کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد بھی دے دی۔
”آپ“ نے بظاہر دہلی فتح کر لیا ہے۔اب بھارت فتح کرنے کے منصوبے پر چل نکلی ہے۔
عام آدمی کی فتح کے بعد دہلی میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے اندر بھگدڑ سی مچ گئی ہے۔ اور اس کے منشور کی نقل کرنے میں لگ گئے ہیں۔
یہی نہیں ابھی تک اروند کیجریوال بہادری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جب عام آدمی پارٹی کے دفتر میں ہندوﺅں نے حملہ کیا تو دہلی کے مکھیہ منتری اروند نے کہا اگر مارپیٹ سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو میں پٹنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر وہ ہر شانت بھوشن کے بیان کے بعد اسے مارنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم دونوں کس وقت کہاں آجائیں۔ مجھے سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔
رعیت کو خوش کرنے کا راستہ اونچ نیچ اور خاردار تاروں سے بھرا ہوا ہے۔ آج تک بندے اپنے رب کے احسان مند نہیں ہوئے۔ ایک بندے کے کیسے ہو سکتے ہیں۔ سہولیات حاصل کر کے پھول نچھاور کرنے والے ہاتھ کس وقت پتھر اٹھا لیں گے.... کون جانتا ہے....
پھر بھی ہمیں اروند کیجریوال کے حق میں دعا کرنی چاہےے.... کہ وہ اپنے ارادوں اور وعدوں کی تکمیل کر سکیں....
اس برصغیر کے عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ کبھی کسی نے عام آدمی کے مسائل کو سمجھا ہی نہیں .... ےا تو خاص آدمی پیدا ہوتے رہے ہیں یا پھر غریب کا نام لیا گیا ہے جبکہ عام آدمی ہر طرح سے زیادہ مار کھا رہا ہے۔ ٹیکس بھی یہی ادا کرتا ہے۔ اور مسائل کا شکار بھی یہی شخص ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ عام آدمی پارٹی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔ مگر ہم نے اپنی اسمبلیوں کے اندر کچھ اور ہی نظارہ دیکھا ہے۔ ہر الیکشن میں کچھ عام آدمی ہر پارلیمنٹ میں جیت کر آ جاتے ہیں۔ اندر آتے ہی جب وہ وی آئی پی کلچر اور مراعات دیکھتے ہیں ۔ تو وہ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے بلکہ اپنی بلند خواہشات کو ان خواہشات کے مد مقابل لے آتے ہیں یعنی بمثل اس کے
”ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد“ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔
آزاد جیت کر آئیں تو سودے بازی کرتے ہیں اور راتوں رات خاص آدمی بن جاتے ہیں۔ وفاداریاں بدل کر عیش و عشرت خرید لےتے ہیں۔ موٹر کے آگے پیچھے دربان بٹھانے لگتے ہیں گردن میں سریا رکھ لےتے ہیں۔
میں ایسے کئی عام آدمیوں کی مثال پےش کر سکتی ہوں۔ جو ایک آدمی کی تمنا بن کر پارلیمنٹ کے اندر گئے تھے۔ مگر خاص آدمی بن کر برآمد ہوئے۔ پھر کبھی کسی نے انہیں کسی منظر پر نہیں دیکھا۔ ہماری گزشتہ اسمبلی میں ایک استاد مکرم الیکشن جیت کر آ گئے تھے۔ ہمارا خیال تھا یہ تعلیم کے شعبہ میں انقلاب لانے کی باتیں کریں گے نصاب اور نظام کو بدلنے کا علم اٹھائیں گے۔ عام آدمی کی بات کریں گے۔ مگر انہوں نے ایک قبضہ گروپ کی شکل اختیار کر کے زمینوں پر قبضے کرنے شروع کر دئےے۔ اور فلک بوس پلازوں کی ایک ایسی دنیا آباد کر لی کہ آج تک قانون کی زد میں ہیں....
عام آدمی بن کر رہنے کا مطلب ہے، انسان بن کر رہنا۔ اروند کیجریوال پر ایک دنیا کی نظر ہے۔ ان کا بھگوان کرے کہ وہ انسان بنے رہیں۔
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ