کس جرم کی ہے یہ سزا؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

قوموں کی زندگی میں ایک لمحہ بھی بہت اہم بتایا جاتا ہے کیا ان دو برسوں کے سات سو بتیس دنوں کی بھی کوئی اہمیت ہے ہماری قوم کی زندگی میں جو آج پورے ہورہے ہیں؟ دو سال پہلے آج کے دن پورے ملک میں شادی مرگ کا سامان تھا۔ باوردی آمریت کی مرگ پر اور جمہوریت کے دعویداروں اور علمبرداروں کی کامیابیوں پر مگر آج؟ آ رہی ہے کسی کو ملک کے کسی بھی شہر یا گاوں میں کسی جھونپڑی یا کٹیا میں وہ خوشی کہیں نظر؟ کیا ہوا اس خوشی کو؟ کون چاٹ گیا ہے ان امیدوں کو جو 18 فروری کو اپنے ووٹ کی پرچی سے وابستہ کر رکھی تھیں ملک کے عوام نے؟ باوردی پرویز مشرف ؟ کیا ایوان صدر اور پاکستان سے رخصتی کے سامان سفر میں وہ ان خوشیوں اور امیدوں کو بھی باندھ لے گیا تھا اور اس ملک اور قوم کو آصف علی زرداری پر ہی گزارا کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا؟اس آصف علی زرداری پر جس میں ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی کی جمہوریت بھی شامل ہے جسے شریفین کا تعاون بھی حاصل رہا ہے اور اسفند یار ولی، حضرت اور مولانا فضل الرحمان اور پیر الطاف حسین کی بے غرض مدد بھی۔ جی ہاں بے غرض مدد بھی۔ اس تعاون اور مدد میں کسی غرض کی بدبو کا تو مسٹر ہالبروک نے بھی کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔ ہم نے نہیں پڑھا سنا کہ روز رفتہ انہوں نے کسی سے بھی ایسی بدبو کی شکایت کی ہو۔ وہ تو اس کی خوشبو سے ہی مہکتا اور چہکتا ہوا دکھائی اور سنائی دیتا رہا تھا‘ سید ابو استثنیٰ گیلانی کی مانند۔ مگر اس سارے بے غرض تعاون اور مدد کے باوجود آصف علی زرداری ملک کے عوام کی امیدوں کی اس فصل کی رکھوالی کیوں نہیں کر سکے؟ ان کی حکمرانی کی اور سیاسی قوت اور طاقت کو دیکھا جائے تو باوردی پرویز مشرف تو ان کے سامنے بہت کنگال دکھائی دیتا ہے۔ آصف علی زرداری ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی کی سیاسی وراثت کا مالک و مختار ہے۔ ان کی پارٹی میں اس کی مرضی کے بغیر پتا نہیں ہل سکتا پتا تو ایک طرف ملک بھر کے عوام کی منتخب ہوئی پارلیمنٹ کا چنا ہوا یوسف رضا گیلانی تک ان کی یعنی آصف علی زرداری کی مرضی کے بغیر کوئی حرکت نہیں کر سکتا۔ باوردی پرویز مشرف کے سارے اختیارات ان کے قبضہ قدرت میں ہیں ملک کی سب سے بڑی نمائندہ پارٹی ان کی جیب میں ہے جنرل پرویز مشرف کی ساری حاکمانہ وراثت کے آصف علی زرداری کے اکیلے ہی وارث ہونے کے پیمانے سے ناپا جائے تو آصف علی زرداری میں دو آمریتیں جمع ہیں جنرل پرویز مشرف والی آمریت بھی اور سیاسی پارٹی والی آمریت بھی۔ کر سکتا ہے اس سے کوئی باضمیر فرد بشر اختلاف کہ اس طرح کی دو آمریتیں کبھی بھی کسی باوردی یا بے وردی حاکم میں جمع نہیں رہیں؟ پرویز مشرف تو آصف علی زرداری کے مقابلے میں گورنر پنجاب سے بھی بے وزن دکھائی دیتا ہے حاکمیت اور آمریت کے ترازو میں اتنا بھاری دو آمریتوں کا اکیلا مالک آصف علی زرداری پورے سات سو بتیس دنوں میں اپنے اور اپنی بی بی بی کے پیارے عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا بلکہ ان کی امیدوں کی فصل کو ٹڈی دل کے حملہ سے بچا تک نہیںسکا؟ کیا اسے المیہ نہیں کہا جائے گا؟ کیا اس نقصان عظیم کے حوالے سے کل پورے ہو جانے والے سات سو بتیس دن ضائع نہیں ہوگئے؟۔
پاکستانی قوم کے پورے سات سو بتیس دن ضائع ہو گئے ہیں۔ ہمارے اس نقصان عظیم کا سبب کیا ہے؟ پرویز مشرف کی بددُعا یا آصف علی زرداری کا ماضی؟ جس آصف علی زرداری پر ملک کے چار صوبوں میں سے دو کے باشعور عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنے اور فہم شعور کی قوت متفقہ سے اعتماد کا اظہار کیا ہو تیسرے صوبہ کی اسمبلی کے باضمیر اور باشعور ارکان نے بھاری اکثریت سے ایسے ہی اعتماد سے انہیں نواز رکھا ہو اس کی صلاحیتوں کے بارے میں کر سکتا ہے کوئی شبہ؟ تو جب صلاحیتوں کا بھی طوفان موجیں مار رہا ہے تو پھر سبب کیا ہے ہمارے اس نقصان عظیم کا؟ اگر اس کا سبب آصف علی زرداری کا ماضی ہے تو اس سے ہم عوام کا کیا تعلق؟ ماضی آصف علی زررداری کا اور بربادی پاکستان کے سولہ سترہ کروڑ عوام کی؟ کب بک بنے رہیں گے ہم اس کے ماضی کے ہاتھوں یرغمال؟ ہم ہمارا ملک اور مستقبل؟ پرویز مشرف اپنی باوردی آمریت کی قوت قاتلہ سے این آر او کے بلیچنگ پاوڈر کے ذریعے آصف علی زرداری کا ماضی دھونے کی جنگی مشق میں کامیاب ہو جاتے تو ہمارا حال جو بھی ہونا تھا ہو جاتا۔ بھٹو گدی کے نشین کا وہ حال ہرگز نہ ہوتا جس نے ان کے عوام کی امیدوں کی فصل چاٹ لی ہے۔ بربادی ہو پرویز مشرف کے لئے اس کی خدمات کا بوجھ تو ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ آصف علی زرداری بھی تو اسی کی عطا ہیں اور ان کے ماضی کا بوجھ بھی ہم پر اسی مردود نے مسلط کیا ہوا ہے۔ نہ ہوتا این آر اوتو نہ اٹھانا پڑتا ہماری قوم کو کسی اور کے ماضی کا بوجھ اور اس کا عذاب۔ واقعی آمریت بہت بڑی لعنت ہے اور جہاں بیک وقت دو آمریتیں ہوں اور تیسرا ان کا ماضی ہو اور چوتھی ان کی محافظ چاروں صوبوں کی زنجیر ہو اور پانچویں ان کے فدائی سید ابو استثنیٰ گیلانی ہوں اور چھٹی ان کی خادمہ پارلیمنٹ ہو وہاں قوم کے دو سال بچیں تو کیسے بچیں؟ شریفین کے دم دارو کی پھونکوں سے؟ مگر ہم عوام کا کیا جرم ہے؟ کس جرم کی ہے یہ سزا مجھے یاد نہیں۔!