ڈنڈا! وِیر اے سب مسٹنڈیاں دا؟

کالم نگار  |  خالد احمد

ایک زمانہ تھا کہ ہر شخص ’ڈنڈے‘ سے ڈرتا تھا لہٰذا ’غلطی‘ کرنے سے بچتا تھا! مگر ’غلطی‘ پھر بھی سرزد ہو جاتی اور ’ڈنڈا‘ آلیتا! آدمی مار کھا کر سمجھ لیتا دنیا کی غلطی دنیا ہی مےں بھگت لی لہٰذا آخرت کے سوال جواب سے بچ گئے! ان دنوں استاد حضرات ’چھڑی‘ ڈیسک پر مار کر اعلان فرمایا کرتے ’ڈنڈا! پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا! چلو سبق سناﺅ!‘ پھر وہ آگے بڑھتے اور فیل ہو جانے والے بزرگ مگر زیادہ صحت مند طلباءکے پاس پہنچتے ڈنڈا ڈیسک پر بجاتے اور گاتے، ’ڈنڈا پیر اے، ایہناں مسٹنڈیاں دا! ڈنڈا پیر اے! ایہناں مسٹنڈیاں دا!‘ اور جس کسی ’مسٹنڈے‘ کے چہرے پر مسکراہٹ جیسی کوئی شے طلوع ہوتی اسے ایسی مار لگاتے کہ پوری کلاس بالکل ’سیدھی‘ ہو جاتی!
پھر ایک زمانہ آیا کہ سب کچھ بدل گیا ہم نے ہر ’غلطی‘ کی سزا ’آخرت‘ پر چھوڑ دی اور جناب محمد ایوب خان نے ملک پر قبضہ کر لیا انہوں نے بھی ’ڈنڈا‘ ڈیسک پر بجایا اور فرمایا ’ڈنڈا ویر اے مسٹنڈیاں دا!‘ اور تمام اصول پرست سیاست دان ’سیاست بدر‘ کر دیئے اور اس ’خلا‘ کو ’بیت الخلا‘ قرار دے کر ’سٹنگ کموڈ‘ پر جا بیٹھے! ڈھائی سال بعد وہ ایک ’نئے دستور‘ کے ساتھ سامنے آئے! اس ’دستور‘ مےں بھی ’ڈنڈا‘ ان کے ہاتھ تھا اس ’دستور‘ کی بھی بنیادی شق یہی تھی ’ڈنڈا ویر اے سب مسٹنڈوں کا‘ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی اوڑھنی پر ’انتخاب مےں شکست‘ کی مہر لگا کر پورے جنوبی ایشیاءکو انگشت بدنداں کر کے رکھ دیا۔ بھارتی اہل سیاست نے اس صورت حال پر ’سوچ بھری خاموشی‘ اختیار کی اور اپنے ملک مےں ’فوج کے کردار‘ کا جائزہ لے کر اسے ’چےن‘ سے بھڑا دیا اور پھر ’بھارتی فوج کا کردار‘ غیر عوامی کر دکھایا!
جناب پرویز مشرف نے بھی تمام غیر ملکی فون کالز جناب محمد ایوب خان کے چھوڑے ہوئے ’سٹنگ کموڈ‘ پر بیٹھ کر سنیں اور پاکستان مےں ’باوقار آزادی‘ کی اوڑھنی پر ’امریکی ستارے‘ ٹانک ٹانک کر انگلیاں چھید لیں!
آج پاکستان پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت‘ اپنے حق مےں کانٹے بونے کے دو سال مکمل کر کے تیسرے سال مےں قدم دھر چکی ہے! توقع تو یہی ہے کہ جناب یوسف رضا گیلانی اپنی حکومت کے بقایا تین سال ’عوامی خدمت کی بہترین مثال‘ بنا ڈالیں گے مگر اسی ٹیم کے ساتھ؟ تو ’خیال است و محال‘ کہہ کر آگے چل دینا ہوگا! ’ببول‘ کی پنیری لگانے والے ’گلابوں کی فصل‘ نہیں کاٹا کرتے اور ’انتظامیہ‘ کے ساتھ ہونے کا اعلان اس شد و مد کے ساتھ نہیں کرتے کہ ’انتظامیہ‘ اپنا امیج بچانے کےلئے اس گھوڑے کو میدان مےں لے آئے جسے میدان مےں ’کیچڑ‘ کی مقدار پر بہت سے تحفظات ہےں اور اپنی گزشتہ ’مٹھی چانپی‘ کی خدمات کے عوض بھی میدان مےں پھسل جانے کے خوف سے دو چار کھڑا ’نفی‘ یا ’انکار‘ مےں گردن ہلائے جا رہا ہے!
مانسہرہ۔ II مےں مسلم لیگ (ق + ن) فاتح ہوتی مگر مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے بعد سب سے زیادہ ووٹ تحریک انصاف کے امیدوار نے حاصل کئے تھے! سر پر اتحادی جماعتیں سوار ہوں اور دوسری طرف غریب عوام کی بات کرتا قائد بھی غزل سرا ہو تو ’اصول پرستی‘ پر قائم رہنے کا واحد طریقہ اپوزیشن بینچوں پر ’اصولی سیاست‘ کے آغاز کے سوا کوئی اور نہیں رہ جاتا! جناب آصف علی زرداری کی ذات شریف، تمام ’شریف برادران‘ ، ’چودھری برادران‘ اور ’شوگر برادران‘ کےلئے ’بابرکت‘ ثابت ہو رہی ہے اور ان کی عدم مقبولیت کا گراف جناب سلمان تاثیر کی تقاریر کا ہدف ہے!
اس صورتِ حال مےں ہر معاملے پر ایک نظرثانی وقت کا تقاضا ہے اور یہ ”تقاضائے وقت‘ ایک ’ہمہ وقت‘ اور ’ہمہ جہت‘ سوچ بچار کا مقتضی ہے ایک ’باوقار پاکستان‘ ایک ’اسلامی فلاحی جمہوری پاکستان‘ ہماری منزل ہے اور یہ ’منزل‘ ہمیں ہمارے اہل سیاست ہی دے سکتے ہےں! ویر کی جگہ پیر کی بات ماننا وقت کی ضرورت ہے!۔