سن کر ستم ظریف نے....

کالم نگار  |  سعید آسی

لیجئے ہمارے لاٹ صاحب نے اب اپنی پارٹی کے وزیراعظم کو جھوٹا ثابت کرنے کا ارادہ باندھ لیا ہے، اسے کہتے ہیں ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ ۔ ایسے محاورے بھی سالوں، صدیوں کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں اور جہاں صادق آتے ہیں وہاں جل تھل کر دیتے ہیں۔ لاٹ صاحب کی اصطلاح انگریز نے نہ جانے کس کی خاطر اور کس نیت سے ایجاد کی تھی مگر گورنر سلمان تاثیر کا سراپا اس اصطلاح کے اندر ٹچ بٹن کی طرح فٹ ہوگیا ہے کہ ان کی گفتنی ہمہ وقت ”لاٹاں“ مارتی نظر آتی ہے۔ گورنر ہاﺅس میں براجمان ہوئے تو سرکاری اور نجی تقریبات کیلئے مخصوص گورنر ہاﺅس کے کمروں کو اپنے مربی جرنیلی آمر مشرف کی تصویروں اور پورٹریٹس سے سجادیا۔ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس جس طرح ان دنوں شہید بی بی کے پورٹریٹس کی نمائش گاہ بنے ہوئے ہیں، ہمارے لاٹ صاحب کے آتے ہی لاہور کے گورنر ہاﺅس کو بھی بامشرف ہونے کا شرف حاصل ہوگیاتھا۔ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تُو ہی تُو ہے کی کیفیت بنا دی گئی اور گورنر ہاﺅس کی چاردیواری کے اندر سلطانی جمہور کے پاﺅں پسارنے کی جرنیل شاہی کو مکمل دیس نکالا ملنے تک نوبت ہی نہ آنے دی گئی۔ گورنر ہاﺅس کے کونوں کھدروں اور خاص کمروں میں آج بھی کہیں نہ کہیں پھنکارے مارتی جرنیلی آمریت کی ڈراﺅنی تصویر سجی سجائی مل جائے گی۔ جبکہ ”شہید بی بی“ کی یاد دلانے والی کوئی تصویر اس پارٹی کے جیالوں کو پورے گورنر ہاﺅس کی خاک چھاننے کے بعد بھی نہیں مل پائے گی اور اب تو پیر گیلانیاں بھی نصیب دشمناں سے ان کے رقیب باصفا کے مقامِ فیض تک آن پہنچے ہیں اس لئے بے شک گورنر ہاﺅس میں وزیراعظم کا پورٹریٹ لگانا ضروری قانونی تقاضہ ہوگا مگر ہمارے لاٹ صاحب کی موجودگی تک سید بادشاہ کو اب گورنر ہاﺅس میں اپنا تصویری بسیرا کرنے کی ہر گز توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ انہوں نے ہمارے محبوب لاٹ صاحب کا بھانڈا ہی ایسا پھوڑا ہے کہ اب اس کے بجنے کا ماحول ہی نہیں بن پارہا۔
سلطانی گواہی کی خبر دیتا ہوا سید بادشاہ کا اعترافِ حقیقت کسی بند کمرے میں مخصوص لوگوں کی موجودگی میں تو نہیں ہوا کہ اس کی ہواڑ ہی نہ نکلنے پائے۔ انہوں نے تو سینٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل پارلیمنٹ کے کھلے فورم پر پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ ہمارے لاٹ صاحب کے جرنیلی آمر کا بندہ ہونے کی گواہی دی اور ان کی گواہی کے اس عمل میں پوری قوم بھی شریک ہوئی اس لئے اب اس گواہی کے تین روز بعد لاٹ صاحب کے خصوصی ذرائع کی جانب سے جو درحقیقت لاٹ صاحب خود ہی ہوسکتے ہیں، وزیراعظم کو جھوٹی گواہی کا مرتکب ٹھہرایا جارہا ہے تو کیا یہ عمل ٹھہراﺅ میں آنے والے پانی میں پتھر مار کر پھر سے ارتعاش پیدا کرنے والا نہیں؟
پیر گیلانی نے تو گورنر پنجاب کے منصب پر جناب سلمان تاثیر کے تقرر کے پس منظر میں جو بھی حقیقت تھی وہ کھول کر بیان کردی اور ساتھ ہی یہ گواہی بھی دے دی کہ یہ تقرر ان کی مشاورت سے عمل میں نہیں آیاتھا بلکہ جنرل مشرف نے انہیں اس تقرر کی صرف اطلاع دے کر مشاورت کے آئینی تقاضے پورے ہونے کا دعویٰ کردیاتھا۔یہ کوئی مذاق کی بات نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ اور انتہائی سنگین آئینی ایشو ہے۔ وزیراعظم نے ججوں کے تقرر سے متعلق ایوان صدر کا 13 فروری کا نوٹیفکیشن واپس کرایا ہے اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مشاورت کا آئینی تقاضہ پورا کرکے صدر زرداری سے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کیلئے ججوں کے تقرر کی نئی سمری پر دستخط کرائے ہیں تو یہ اقدام اصل میں محلاتی سازشیوں کو احساس دلانے کا تھا کہ 13 فروری کا نوٹیفکیشن واپس ہوسکتا ہے تو یکم مئی 2008ءکو مشاورت کا آئینی تقاضہ پورا کئے بغیر گورنر پنجاب کیلئے سلمان تاثیر کے تقرر کا نوٹیفکیشن کیوں واپس نہیں ہوسکتا۔ یہ پھانس تو اب اٹک گئی ہے جناب، آپ بے شک یہ ثابت کردیں کہ جرنیلی آمر مشرف نے آپ کی متروک پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب زرداری کی رضا مندی سے (جس کی مصدقہ گواہی پیپلزپارٹی والوں کے پاس آج بھی موجود نہیں، یقین نہ آئے تو جہانگیر بدر سے پوچھ لیجئے) آپ کو لاٹ صاحب بنا کر اپنے مخالف وزیراعلیٰ پنجاب کا چیزہ لیتے رہنے کیلئے بھجوایا تھا، وزیراعظم نے تو یہ کہہ کر آپ کا پھُلکا اڑا دیا ہوا ہے کہ آپ کے تقرر کیلئے مشاورت کا آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا گیاتھا۔ اس لئے آپ کے تقرر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار پانے میں بس پلک جھپکنے کی ہی دیر لگے گی اس کیلئے وزیراعظم کی اپنی گواہی سے زیادہ کوئی معتبرگواہی بھلا اور ہوسکتی ہے؟۔ ایم ڈی طاہر تو اب مرحوم ہو چکے ورنہ آپ کی نااہلیت کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست ڈالنے میں وہ ذرہ بھر کی دیر نہ لگاتے۔
اب بھی وکلاءکی صفوں میں ایسے کئی خدائی خدمتگار موجود ہیں۔ اللہ بھلا کرے ہمارے وطن پارٹی والے بیرسٹر ظفراللہ خاں کا، ان کی کسی نے ہلکی سی چٹکی کاٹ لی تو ان کی جانب سے ”کووارنٹو“ درخواست ہائیکورٹ میں آجائے گی۔ استدعا ہوگی، مدعا علیہ سے پوچھا جائے کہ وہ کس قانون کے تحت گورنر پنجاب کا ٹائٹل استعمال کر رہے ہیں۔ اور اب تو پاکستان لائرز فورم کے اے کے ڈوگر کو بھی فراغت کے چند لمحات مل گئے ہیں۔ آئینی گتھیاں سلجھانے کی کوششوں میں مگن رہنا ان کے رضاکارانہ فراض منصبی کا اولین تقاضہ ہے اور پھر مثبت نتائج دینے والا اتنا شاندار کیس کہ خو د مشاورت کی مجاز آئینی اتھارٹی نے پوری قوم کے سامنے ہمارے لاٹ صاحب کے تقرر کیلئے مشاورت کا آئینی تقاضہ پورا نہ ہونے کی گواہی دی ہوئی ہے۔ اے کے ڈوگر یہ ”باطل“ سامنے لانے کا موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ پھر جناب! آپ تو انتہائی نازک شاخ پر اپنا آشیانہ بنائے بیٹھے ہیں۔ ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی اس آشیانے کے تنکے بکھیرسکتا ہے۔ آپ وزیراعلیٰ کی نااہلیت کے کیس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، یار لوگوں نے آپ کو ہی اٹھا پھینکنے کا موقع بنا دیا ہے....
میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہئے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یُوں