ایران کے 31ویں یوم انقلاب پر شہباز شریف کا استقبالیہ

کالم نگار  |  محمد مصدق

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایران کے اکتسویں یوم انقلاب پر نوے شاہراہ قائداعظم پر ایک استقبالیہ دیا جس میں شرکت کے لئے ایرانی سفیر آقائی ماشا اللہ شاکری خاص طور پر اسلام آباد سے لاہور آئے۔ اس سے چند روز پہلے ایرانی قونصل جنرل آقائی سعید خرازی نے آواری ہوٹل میں 31ویں یوم انقلاب پر ایک استقبالیہ کا ا نتظام کیا تھا جس کے مہمان خصوصی شہباز شریف تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے دورہ ایران کے تاثرات تفصیل سے بیان کئے تھے اور ایرانی قونصل جنرل آقائی سعید خرازی کو پاکستان ایران کو ایک دوسرے کے قریب لانے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
اسی کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے ایرانیوں کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس میں ایرانی سفیر آقائی ماشا اللہ شاکری نے اردو میں تقریر کر کے حاضرین کو حیران کر دیا۔ (حیرت ہے ہمارے لیڈروں کو اردو میں تقریر کرتے ہوئے احساس کمتری کا احساس ہوتا ہے) وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں جہاں ایرانی انقلاب کو خراج تحسین پیش کیا وہیں صنعت و تجارت کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان مزید گرم جوشی اور تعاون کی طرف اشارہ کیا۔ بعد میں وہ الحمراء آرٹس کونسل کی آرٹ گیلری میں آئے جہاں ایرانی فنون لطیفہ کی نمائش کا افتتاح کیا۔ ساتھ ہی ایرانی فلم فیسٹیول کا افتتاح بھی کیا۔ روزانہ ایک نئی فلم دکھائی جائے گی۔ اس نمائش کا اہتمام خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل وکتر عباس فاموری نے لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد علی بلوچ کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ صوبائی سیکرٹری اطلاعات شعیب بن عزیز نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ایرانی سفیر آقائی ماشا اللہ شاکری نے نوائے وقت کو بتایا ”پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آج کی دونوں تقاریب کا مقصد انقلاب ایران کو خراج تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ اسلامی انقلاب ایسا ہے جس کی جمہوری قدریں ہیں۔ اسلامی شعور اور ڈیموکریسی کے خوبصورت امتزاج نے ایرانی قوم کو نئی وحدت دی ہے اور مشکلات کے باوجود ایرانی قیادت نے اسے شاہراہ ترقی پر ڈال دیا ہے۔ اقبال لاہوری کو ایران کا بچہ بچہ جانتا ہے کیونکہ انقلاب ایران حقیقت میں کلام اقبال کی عملی تشریح ہے“۔
ایرانی فنون لطیفہ کی نمائش میں ایرانی خطاطی‘ لکڑی پر خطاطی‘ منی ایچر ورک اور خواتین کی دستکاریوں کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ منی ایچر کی فنکارہ خانم نصرت عرب نے تیس فن پارے نمائش میں رکھے ہیں۔ منی ایچر کے جدید رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے نصرت عرب نے بتایا ”منی ایچر کا فن میں نے مشہد کے تعلیمی اداروں سے سیکھا۔ ایرانی منی ایچر اپنی جگہ موجود تھا لیکن بہزاد اور بعد میں محمود فرشیان نے مین ایچر آرٹ میں جدت پیدا کر کے اسے آج کے فنون کے ساتھ ہم آہنگ کیا‘ یہی سبب ہے کہ اب منی ایچر آرٹ اپنی ماضی کی شکل کے ساتھ حال اور مستقبل کے موضوعات کا احاطہ بھی کرتا ہے“۔ ایرانی فلموں کی نمائش 24 فروری تک جاری رہے گی۔