ریلوے پولیس شہادت کو حرام موت نہ بنائے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

عمران خان میانوالی میں دو شہیدوں کے جنازے میں کیوں شامل نہیں ہوا۔ پشاور کے دھماکے میں معمولی زخمی ہونے والے بلور کے ساتھ میانوالی کے دو سپاہی جاں بحق ہوئے۔ وہ ریلوے پولیس کے ملازم تھے۔ ریلوے پولیس کو بالعموم پولیس نہیں سمجھا جاتا۔ یہ دوسرے مسافروں کے ساتھ مسافر ہوتے ہیں۔ اب جو ریلوے مسافروں کا حال ہے اس طرف سلطان باہو نے اشارہ کیا ہے
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھاں جنہاں تو بھارے ہو
اب ریلوے پولیس کا کام نکل آیا ہے کہ وہ اپنے افسران اور حکمران کے لئے قربان ہو جایا کریں۔ مجھے یہ بات موچھ ضلع میانوالی سے محمد بلال نیازی نے بتائی ہے کہ کسی نے پوچھا تک نہیں۔ عمران نے تعزیتی بیان بھی نہیں دیا جبکہ مذمتی بیان دینا چاہئے کہ ریلوے پولیس دونوں شہیدوں کی آخرت خراب کرنا چاہتی ہے۔ وہ ڈیوٹی پر نہ تھے۔ چھٹی پر تھے۔ جعلی ڈگری کے بعد جعلی چھٹی بھی چل پڑی ہے؟ وزارت داخلہ نے نوٹس لیا ہے کہ یہ ملازمین سابق وزیر غلام احمد بلور کی حفاظت پر کس قانون کے تحت مامور تھے۔ پاکستان میں قانون تو چلتا ہی نہیں لوگ قانون پسند کس حد تک ہوتے ہیں حکمران تو صرف ....پسند ہوتے ہیں۔ بلور صاحب ریلوے کی وزارت سے گئے مگر ابھی عملے پر ان کی حکومت اور شراکت جاری ہے۔ یہاں سے جا کے بھی ریلوے پولیس کے دو بے گناہ سپاہی مروا دئیے۔ حیرت ہے کہ حفاظت کرنے والے خود قتل ہوئے۔ وہ شہید ہوتے ہیں جسے قتل بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ وہ چند ہزار کے ملازم تھے۔ بلور صاحب تو ریلوے کے کروڑوں اربوں کے وارث تھے۔ اپنی ٹرانسپورٹ کو ترقی دینے کے لئے پوری ریلوے کو تباہ کر دیا۔ ریلوے کے ساتھ یہ دھاندلی ابتدا سے ہو رہی ہے اسے انتہا تک بلور صاحب نے پہنچایا ہے۔ میانوالی کیلئے ماڑی انڈس بھی رات کو رینگتی ہوئی چلتی ہے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو فائدہ ہو۔یہ ٹرانسپورٹرزہر حکومت میں شامل ہوجاتے ہیں اور صرف خود فائدہ اٹھاتے ہیں۔
خودکش بمباروں کے مالکوں سے بندہ پوچھے کہ عام غریب لوگوں کو مار کے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اب کچھ امیر کبیر وزیر شذیر بے ضمیر حکمران وغیرہ مرنے لگے ہیں تو شور برپا ہے ورنہ پہلے صرف مذمتی بیان آتے تھے۔ بلور صاحب لہو لگا کے شہیدوں میں شامل ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اب کوئی سیاستدان مرا تو 302 کا مقدمہ صدر زرداری، آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیراعظم کھوسو کیخلاف درج کرائیں گے۔ اسکا فیصلہ بھٹو صاحب کی طرح کبھی تو ہوجائیگا مگر بیچارے کھوسو صاحب کا کیا قصور ہے؟ جب بھٹو کیخلاف احمد رضا قصوری سے امریکہ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی اسکے بعد کسنجر نے بھٹو سے کہا تھا کہ ہم تمہیں عبرت کا نشان بنا دینگے اب دیکھیں عبرت کا نشان کون بنتا ہے۔ ایک بات یہ بھی طے ہے کہ جنرل مشرف عبرت کا نشان نہیں بنیں گے۔ ہمارے چھوٹے بڑے جب تک عبرت کا نشان بن نہ پائیں، وہ عبرت نہیں پکڑتے، بس پیسے پکڑتے رہتے ہیں اور کرسی کو جپھا مار کے پکڑے رکھتے ہیں۔ دوسرے اپنی باری کے انتظار میں کسی شے کو جپھا مارے ہوتے ہیں۔
نوائے وقت کی خبر کے مطابق ریلوے پولیس افسران کو مصیبت پڑ گئی ہے۔ نگران حکومت نے پہلے دن سے کہا تھا کہ جانیوالوں کو کوئی سرکاری پروٹوکول اور سکیورٹی نہیں دی جائیگی۔ لوگ بیچارے بغیر سکیورٹی کے ہیں اور نچلے ملازمین یعنی کمی کمین تھے۔سکیورٹی دینے والے ہی قربان ہوتے ہیں۔ یہی قربانی ہی سکیورٹی ہے۔ میں پولیس کے حق میں نہیں مگر ریلوے پولیس تو پولیس بھی نہیں ہے۔ ہمارے فوجی جوانوں کی طرح دہشت گردی کے عذاب کا شکار پولیس والے ہوئے۔ ان پر اب ترس آتا ہے۔ لہو کے سونامی میں ڈوبنے والے یہی لوگ ہیں۔
اب آئی جی ریلوے پولیس اور دوسرے پولیس افسران شہید ہونیوالے دونوں سپاہیوں کو پچھلی تاریخوں سے چھٹی پر ظاہر کرنیوالے ہیں۔ کیا سپاہیوں کو بلور صاحب کے ساتھ عشق تھا کہ وہ بغیر حکم کے انکی حفاظت پر سربکف بلکہ جاں بکف تھے اور جاں بحق ہوئے۔کیا وہ اپنے دل کے حکم پر مرنے کیلئے پشاور میں بلور صاحب کے قافلے میں شامل ہوئے تھے۔ ہمیشہ افسران اپنے آپ کو بچانے کیلئے ملازمین کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔ قربانی کا بکرا تو وہ بن چکے ہیں، یہ تو شہیدوں کے لواحقین کو قربانی کا بکرا بنانے والی بات ہے۔ شہید دلدار خان کے دو بچے ہیں اور دوسرے شہید کے چار بچے ہیں۔ ان بچوں پر اور سب لواحقین پر ظلم کی انتہا ہے۔ محکمانہ طور پر حکومت کی طرف سے انہیں محروم کرنے کی کمینگی ہے۔ افسران کی مرضی کے بغیر پتہ بھی کسی محکمے میں نہیں ہل سکتا۔ افسران زیادہ ظالم، کرپٹ اور مغرور ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری عدالتیں اور حکمران بھی افسران کو بچالیں گے۔ تو کیا دونوں شہید حرام موت مر گئے؟
میری بلور صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے لئے جان دینے والوں کے لواحقین کی دست گیری کریں۔ انکے گھر والوں کو ذاتی طور پر بھی امداد دیں اور محکمانہ زیادتی سے بھی بچائیں۔ آپ کو تو پتہ ہوگا کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ آپکی جان بچانے والے نہ بچ سکے تو اس ظلم میں شریک ہو کر کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔ وہ میرے پاکستان میرے ضلع کے لوگ تھے۔ میں ظالموں کا تعاقب جاری رکھونگا۔ عمران خان بھی اپنے لوگوں کا خیال کریں۔ چند دن پہلے بلال نیازی میرے ساتھ فون پر لڑ رہا تھا کہ تم نے عمران کیخلاف کالم کیوں لکھا ہے۔ خدا کی قسم میں عمران کی مخالفت اسکی حمایت کیلئے کرتا ہوں مگر اب وہ وہاں پہنچ گیا ہے کہ کوئی بھی اسے راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ میانوالی کیلئے وہ سمجھتا ہے کہ یہاں کے لوگ تو مجھے ووٹ دینگے ہی، اسلئے وہ میانوالی کے لوگوں کی پرواہ ابھی سے نہیں کرتا۔ اگر وہ میانوالی کے دوسرے سیاستدانوں جیسا ابھی سے بن گیا ہے تو پھر میرے ضلع کا خدا حافظ ہے۔ دوسرے کئی کالم نگاروں نے اسکے خلاف لکھا ہے مگر میری نیک نیتی کے باوجود مجھے اس نے دشمن سمجھ لیا ہے۔ میں قلندر آدمی ہوں، رشتہ داروں کے ساتھ اسکا سلوک نامناسب ہے۔ اس نے اپنے کزن انعام اللہ خان نیازی سے بدسلوکی کی، جسے وہ میرٹ کہتا ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اسکی جماعت میں زخمی چڑیوں کی طرح اڑ رہی ہیں۔ اسکا بہنوئی حفیظ اللہ خان نیازی تو اسکا محسن ہے۔ احسان فراموش آدمی کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا۔ عزیزوں میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔ اپنوں کے ساتھ فرعونیت اپنے ساتھ بے انصافی ہے۔ بے انصافی تحریک انصاف کا منشور بنتا جا رہا ہے۔
....٭....٭....٭....