جنرل (ر) مشرّف کا۔” ٹرانزِٹ کیمپ !“

کالم نگار  |  اثر چوہان

16دسمبر1971ءکو ،سقوطِ ڈھاکہ ہُوا تو ، ریڈیو پاکستان سے خبر نشر ہُوئی کہ ۔” ایک معاہدے کے تحت بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہو گئی ہے“۔ یہ ایک سرکاری منافقت تھی ۔ در اصل اُس روز بھارتی فوج کے ہاتھوں، پاکستانی فوج کو شکست ہو گئی تھی اور سرکاری ریڈیو ، پاکستان کے عوام کو شکست کے بجائے ۔” معاہدہ“۔ بتا رہا تھا ۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرّف ۔” ججز نظر بند ی کیس “۔ میں اپنی عبوری ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے، اپنی گرفتاری کا سُن کر فرار ہو کر حکومت کی طرف سے فراہم کئے گئے محافظوں کی حفاظت میں ، اسلام آباد میں، اپنے فارم ہاﺅس میں جا کر ( موصوف کے وکیل احمد رضا قصوری کے بقول) کافی اور سگار پیتے رہے ۔ کسی کو بھی اُنہیں گرفتار کرنے کی جُرائت نہیں ہوئی اور 19اپریل کی صبح ، مختلف نیوز چینلوں پر خبر چل رہی تھی کہ ۔”جنرل (ر) مشرّف کے وُکلاءاور پولیس میں۔” کامیاب مذاکرات“۔ کے بعد جنرل(ر) پرویز مشرّف کو گرفتار کر کے علاقہ مجسٹریٹ، عباس شاہ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے “۔
گویا اگر ،سابق صدر اور وُکلاءاور پولیس میں ۔”مذاکرات کامیاب “۔نہ ہوتے تو موصوف کی ،گرفتاری نہیں ہو سکتی تھی ۔ اِن ۔” مذاکرات کی کامیابی “۔ میں پلّہ کِس کا بھاری رہا ؟ ۔ سابق صدر کے وُکلائ۔ یا پولیس کا ؟۔ پولیس ۔ جو اسلام آباد ہائی کورٹ سے فرار ہونے والے ریٹائرڈ جنرل کو، 20 گھنٹے تک گرفتار کرنے کی جُرا¾ت نہیں کر سکی۔ اِس میں کمزوری پولیس نے دِکھائی یا نگران حکومت نے؟۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے، پولیس کو جنرل (ر) مشرّف کا دو دِن کا۔ ”Transit Remand“ دے دیا ہے۔ اب انہیں ” انسدادِ دہشت گردی کی عدالت“ میں پیش کِیا جائے گا۔ ”ججز نظربندی کیس“۔ میں دہشت گردی کی دفعہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جناب شوکت عزیز صدیقی کے حُکم سے لگائی گئی ہے۔
اِس عدالت میں پیش ہونے کا، سابق صدر کو یہ فائدہ ضرور ہو گا کہ وہ اِس کے فیصلے کے خلاف، ہائی کورٹ اورپھِر سُپریم کورٹ میں اپیل کر سکیں گے ۔ اِس طرح کا فائدہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کے فاضل وُکلاءنے، نہیں اُٹھایا تھا ۔ وہ اگر نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ ، لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں لے جاتے تو ۔( ہائی کورٹ اور سُپریم کورٹ میں ) ۔دو اپیلوں کی گنجائش ہوتی ،لیکن وہ بھٹو صاحب کے خلاف مقدمہ کو ،ڈائریکٹ ہائی کورٹ میں لے گئے تھے۔ شاید بھٹو صاحب نے، ہائی کورٹ سے۔” کم تر عدالت“۔ میں پیش ہونا اپنی توہین سمجھا ہو گا ۔
مئی 1958ءمیں، ایک برخاست شدہ پٹواری عطا محمد نے ۔(اُس وقت کے) ۔وزیرِاعلیٰ مغربی پاکستان۔ ڈاکٹر خان کو، لاہور کے وزیرِاعلیٰ ہاﺅس میں، گھُس کر قتل کر دیا تھا ۔ ڈاکٹر خان ( عبدالجبّار خان) اسفند یار ولی خان کے دادا ،باچا خان ( خان عبد الغفار خان ) کے بھائی تھے ۔عطا محمد نے ریمانڈ کے دوران، پولیس کو بتایا تھا کہ ۔” مجھے خاکسار تحریک کے سربراہ، علّامہ عنایت اللہ خان المشرقی نے ،ڈاکٹر خان کے قتل پر اُکسایا تھا ۔ علّامہ مشرقی اور اُن کے نائبین، خورشید خالد اور ثمین جان کو گرفتارکر لیا گیا تھا لیکن علّامہ صاحب نے اپنے خلاف مقدمے کی ہائی کورٹ میں سماعت پرزور نہیں دِیا تھا ۔ لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج شیخ انوار الحق نے، علّامہ مشرقی اور اُن کے ساتھیوں کو بری کر دیا تھا۔ یہ وہی شیخ انوار الحق تھے، جنہوں نے بعدازاں، سُپریم کورٹ کے، چیف جسٹس کی حیثیت سے، نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میںذوالفقار علی بھٹو کو ، پھانسی کی توثیق کی تھی۔
اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے میں، جنرل (ر) پرویز مشرّف کو کافی سفر کرنا پڑے گا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کا قتل ،سُپریم کورٹ کی طرف سے، لال مسجد آپریشن سے متعلق۔” لال مسجد کمِشن کی تحقیقاتی رپورٹ “۔ کو عام کرنے کا حُکم اور سب سے بڑا مسئلہ آئین کو توڑنے پر ۔” غداری کا مقدمہ“۔ ” فاتح ِ کارگل“۔ کے لئے قدم قدم پر مُشکلات ہونگی ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور علّامہ مشرقی کو، اپنے خلاف قتل کے مقدمات میں ،اُن کے گھروں میں نظر بند کر کے ۔کافی اور سگار پینے کی سہولتیں حاصل نہیں تھیں۔ علّامہ مشرقی تو خیر پرائیویٹ تنظیم بیلچہ بردار، خاکسار تحریک کے سربراہ تھے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو تو، سویلین چیف مارشل لاءایڈ منسٹریٹر بھی رہے اور انہوں نے 90ہزار فوجیوں کو بھارت کی قید سے بھی چھُڑایا تھا ۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ۔” الیکشن کمِشن کو،جنرل (ر) پرویزمشرّف کو انتخابات میں حِصّہ لینے کی اجازت دے دینا چاہیے تھی، اُن کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے بعد، کہیں وہ ۔ولن سے ہیرو ۔نہ بن جائیں؟“۔ برادرم جاوید صدیق نے۔” فیس بُک نے مروا دِیا “۔ کے عنوان سے ، اپنے کالم ۔” دارالحکومت سے“َ۔ میں جنرل(ر) پرویز مشرّ ف کی اُن کی مقبولیت کی خوش فہمی دُور کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن موصوف کا سہرا کہنے والے انہیں اِس خوش فہمی سے نِکلنے کا موقع کیوں دیں گے؟۔
فیلڈ مارشل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاءاُلحق کا اندازِ حُکمرانی اختیار کرتے ہوئے، جنرل پرویز مشرّف نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد ،بہت سے پیشہ ور سیاستدانوں کو اپنے دربار کی زینت بنا لیا تھا ۔ آدھی دنیا کے فاتح امیر تیمور نے کہا تھا کہ ۔” جو لوگ ضرورت کے وقت، دوست بنتے ہیں ، وہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتے ، چنانچہ مَیںبے کار اور بے مصرف لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا ۔ اگر ایسے لوگوں کی بھیڑ اکٹھی کر بھی لی جائے تو وہ اپنے سپہ سالار کو زوال سے نہیں رُوک سکتی“۔ جنرل(ر) پرویز مشرّف نے اپنے دورِ اقتدار میں جِن لوگوں کو نوازا تھا، خاص طور پر وہ تین وُزرائے اعظم ،مِیر ظفر اللہ خان جمالی ، چودھری شجاعت حُسین اور جناب شوکت عزیز اب کہاں ہیں؟۔
” کینیڈین شہری“۔ علّامہ طاہر اُلقادری ۔” شیخ اُلاسلام “۔ کا لقب اختیار کر کے پاکستان تشریف لائے اور 23 دسمبر2012ءسے 17جنوری 2013ءتک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چھائے رہے ، لیکن ان کا سودا فروخت نہیں ہو سکااور وہ جنرل (ر) ضیاءاُلحق کے دَور کے ۔” پِیر سپاہی“۔ کی طرح غائب ہو گئے ہیں ۔ جنرل (ر) پرویز مشرّف تو، علّامہ القادری کی طرح کوئی،بڑا مجمع بھی اکٹھا نہیں کر سکے ۔ محض ویڈیو پیغامات سے انقلاب نہیں لایا جا سکتا ۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر صاحبزادہ احمد رضا قصوری اور جنرل سیکرٹری ،ڈاکٹر محمد امجد، کتنے بڑے لیڈر ہیں ، جو اپنی مسلم لیگ کے صدر کو مُشکلات سے نکالنے کے لئے ،عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سڑکوں پر لے آئیں گے ؟۔اِس وقت تو اِن دونوں صاحبان کو بھی ، سرکاری سکیورٹی کی ضرورت ہے۔کیوں نہ جنرل (ر) مشرّف اپنے فارم ہاﺅس کو۔ ”Transit camp“۔ (یعنی فوجیوں یا پناہ گزینوں کی عارضی قیام گاہ)۔ میں تبدیل کر کے اپنے اِن دوستوں اور کُچھ دوسرے عقیدت مندوں کے لئے بھی اپنے ساتھ، کافی اور سگار پینے کا بندوبست کر دیں؟۔