ایوان بالا جنرل پرویز مشرف کو ”سہولیات“ دینے پر سراپا احتجاج

جنرل پروےز مشرف کی پاکستان واپسی” آسمان سے گرا کجھور مےں اٹکا“ کے مترادف ہے اےک طرف جہاں وہ عدالت کے کٹہرے مےں کھڑے ہےں تو دوسری طرف پارلےمنٹ ان کے خلاف آئےن کے آرٹےکل 6کے تحت کارروائی کرنے کا مطابہ کر رہی ہے اےوان بالا جنرل(ر) پروےز مشرف کو دی جانے والی” سہولےات“ دےنے پر سراپا احتجا ج ہے نگران حکومت نے اےوان بالا کا92واں سےشن بلا تو لےا لےکن اس کے پاس اےجنڈا نہ ہونے کے باعث 5روز بعد ہی اجلاس غےر معےنہ مدت کے لئے ملتوی کردےا در اصل نگران حکومت کے پاس جنرل (ر) پروےز مشرف کے بارے مےں کئے جانے والے سوالات کا کوئی جواب نہےں تھا۔ اس لئے مناسب ےہی سمجھا کہ اجلاس غےر معےنہ مدت کے لئے ملتوی کر دےا جائے لےکن پاکستان پےپلز پارٹی،پاکستان مسلم لےگ(ن) اور عوامی نےشنل پارٹی نے جنرل(ر) پروےز مشرف کے خلاف اےکا کر لےا ہے اور 33ارکان نے اےوان بالا کا اجلاس بلانے کے لئے رےکوزےشن جمع کرادی پارلےمنٹ ”کمانڈو صدر“ کا مسلسل تعاقب کر رہی ہے عدلےہ نے جنرل (ر) پروےز مشرف کو عام انتخابات مےں حصہ لےنے سے روک دےا ہے۔ چےئرمےن سےنےٹ سےد نےئر بخاری نے وزےر داخلہ کو جنرل مشرف کے بارے مےں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دےنے کے لئے طلب کر رکھا تھا لےکن ان کے اعلیٰ سطح کے اجلاس مےں مصروف ہونے کی وجہ سے ایوان بالا میں عدم موجودگی پر ارکان نے شدید احتجاج کےا اور اےوان سے واک آ¶ٹ کر دےا۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ چیئرمین نے جمعہ کو وزیر داخلہ کو اجلاس میں حاضر ہونے کی ہدایت کی تھی لیکن وہ ابھی تک اجلاس میں نہیں آئے سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت وزیر داخلہ اجلاس کے سامنے پر جوابدہ ہیں اور ایسا نہ کر کے وہ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے ارکان کے ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے اےوان بالا میں پیپلز پارٹی ‘ مسلم لےگ (ن) ‘ اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے اور سرکاری عمارات سے ان کی تصاویر اور پورٹریٹ ہٹانے کی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لی اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی گرفتاری اور ریمانڈ کو نمائشی اقدامات قرار دےا اےوان بالا نے دوسری بار جنرل مشرف کے خلاف قرار داد منظور کی ہے سینیٹرز نے کہا کہ گھروں میں بیٹھے لوگوں کو گرفتار نہیں کہا جا سکتا، پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہے تو انہےں اڈیالہ جیل کی سےر کرائی جائے  نگران حکومت نے ان سے امتیازی سلوک کیا تو یہ تاریخ پر بدنما داغ ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 23 جنوری کو بھی اس ایوان میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کر کے آرٹیکل 6 کے تحت ان کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اسی قرارداد کے تسلسل میں مطالبہ کررہا ہے کہ پرویز مشرف کی سرکاری عمارات سے پورٹریٹس اور تصاویر ہٹائی جائیں۔